سپریم کورٹ وقت کے کٹہرے میں
نو ججوں کا بینچ ٹوٹ ٹوٹ کر بالآخر انھی تین ججوں پر مشتمل رہ گیا جو ملک کو ایک آئینی اور سیاسی بحران کا شکار کرنے کا مرکزی کردار تھے۔ چیپ جس ٹس بندیال صاحب تو مارشل لاء ڈکٹیٹروں سے بھی دو ہاتھ آگے جا رہے ہیں۔
لگتا ہے عطا بندیال صرف خود کو ہی سپریم کورٹ سمجھتے ہیں۔ بری طرح بے نقاب ہونے کے باوجود مسلسل ہٹ دھرمی پر قائم رہ کر نہ صرف سیاسی بحران پیدا کر رہے ہیں بلکہ پوری دنیا میں پاکستانی عدالتی نظام کا مذاق بھی بنا رہے ہیں۔ پانچ ججز کے بینچ سے علیحدگی کے بعد ان تین متنازعہ ترین اور ریفرنس زدہ ججز کے کسی فیصلے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔ جبکہ عدالت میں ججز کی اکثریت اس سوموٹو اور متنازعہ فیصلے کے خلاف اپنی واضح اور دو ٹوک رائے بھی دے چکی ہے اور تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر چکی ہے۔
میری رائے میں عطا بندیال پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنا کے بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ اندازہ کرنا قطعاً مشکل نہیں کہ ان عدالتوں نے ہی ملک میں جمہوریت اور سیاسی استحکام کو کبھی ٹریک پر نہیں رہنے دیا۔ فوجی اسٹبلشمنٹ کو اپنے کندھے پیش کر کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتے رہے۔ اور سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کو پھانسی گھاٹ اور ملک بدری کے پروانے تھماتے رہے۔ فوجی اسٹبلشمنٹ کبھی اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکتی اگر آئین میں نقب لگانے والوں کو عدالتی سہارا نہ ملتا۔
وقت بڑا ستم ظریف ہے یہ صدیوں تخت پر بیٹھے رہنے والوں کا لمحوں میں تختہ کر دیتا ہے۔ سپریم کورٹ کی یہ ٹوٹ پھوٹ اس بات کی مظہر ہے کہ اس کی بنیاد میں ہی بڑی خرابی تھی۔ سپریم کورٹ ملک کی آخری عدالت ہوتی ہے جس بعد سائل یا ملزم کے پاس سارے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ لوئر عدالتوں یا سیشن عدالتوں کے کیس بھی سپریم کورٹ اچک لے اور ان عدالتوں کو بے بس کر کے خود حکم صادر کرنے لگے تو عدالتی نظام خود بخود زمیں بوس ہو جاتا ہے۔ اہم ترین بات سپریم کورٹ کا سیاسی مقدمات میں خود کو بار بار ملوث کرنا اور فیصلوں کی بجائے اپنے ریمارکس سے اپنی ذاتی دلچسپیاں کسی فریق سے نفرت تو دوسرے سے ہمدردی ظاہر کرنا اس عدالت کی ساکھ کو ختم کر دیتی ہے۔
ہمیں لگتا ہے عدالت عظمی کی تطہیر کا فطری عمل شروع ہو چکا ہے۔ اور اب چیف جسٹس محض ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اختیارات کو ہتھیانے کی عدالتی کوششیں بھی سیاستدانوں نے ناکام کردی ہیں۔
وقت کروٹ لے رہا ہے۔ سیاستدانوں کو نہایت تحمل اور سمجھ بوجھ سے پارلیمان کو طاقتور بنانا ہو گا۔ اور ایسا کوئی سقم نہیں چھوڑنا چاہیے جسے فوجی یا عدلیائی اسٹبلشمنٹ فائدہ اٹھا سکے۔
گڑھے میں گرتا بوسیدہ سیاسی نظام ہی ملک کی سیاسی معاشی اور سماجی انحطاط کا باعث ہے۔ اس کی تطہیر کی آج شدت سے ضرورت ہے


