سنہ 1997 میں سپریم کورٹ میں ہوئی ہنگامہ آرائی


استاذی وجاہت مسعود گاہے اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ آج کا طالب علم جغرافیہ، تاریخ اور سیاسی حرکیات سے عدم واقفیت رکھتا ہے۔ میں نے بھی بطور طالب علم ان کی تحریروں اور تجزیوں سے یہی بات اخذ کی ہے کہ وقت موجود میں جو عدم برداشت اور نفرت آمیز سوچ بڑھی ہے اس کے پیچھے یہی امر کارفرما ہے نوجوان سیاسی ورکر کے پاس صرف مطلوبہ سچ اور جزوی معلومات ہیں۔

اب میں اصل مدعے کی طرف آتا ہوں، حالیہ دنوں پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں الیکشن ہونے یا کچھ وقت کے لیے موخر کرنے کے حوالے سے ایک کیس کی سماعت سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کی تاریخ اکتوبر میں دی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا رخ اختیار کرے گا۔ اس سارے قضیے میں تحریک انصاف مسلم لیگ نون کو ماضی کی طعنہ زنی دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی مخالفت کر رہی ہے اور سپریم کورٹ کے گن گا رہی ہے۔ ان کے کارکنان نے پارٹی کی طرف سے پڑھائی گئی پٹی کے مطابق سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بدتمیزی برپا کیا ہوا ہے کہ مسلم لیگ نون نے 1997 میں بھی سپریم کورٹ پر حملہ کر کے من پسند فیصلے لیے تھے اور اب بھی ایسا کرے گی کا چھنکنا پکڑا دیا گیا ہے جبکہ تاریخی واقعات اس اندھی نفرت سے یکسر مختلف ہیں۔

قارئین کرام اگر 1997 میں سپریم کورٹ میں ہوئی ہنگامہ آرائی کی اصل کہانی کے سیاسی واقعات کا جائزہ لیا جائے تو شاید ہم سپریم کورٹ میں ہوئی اس وقت کی ہلڑ بازی کو سمجھ سکیں۔ ستانوے میں دو تہائی اکثریت کے بعد میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں کی مدد سے آمر ضیاء الحق کی بنائی آٹھویں ترمیم (بذریعہ تیرہویں ترمیم) ختم کر کے صدر پاکستان سے دھونس اور بدنیتی کی بنیاد پر اسمبلیاں توڑنے کا اختیار واپس لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی مسلم لیگ نون نے فلور کراسنگ کا بل پاس کروایا جس کی صورت میں ممبر پارلیمنٹ اپنی سیٹ سے محروم تصور ہو گا۔ اس شق کو عوام میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی کہ چلو اب ممبران کی خرید و فروخت کا سلسلہ کچھ کم ہو جائے گا۔

تیرہویں ترمیم کی منظوری اور فلور کراسنگ بل کے بعد آپ تصور کریں ملک کے اصل مالکوں کی کیا حالت ہوئی ہو گی۔ مالکوں کی تکلیف کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ جیسے ہی یہ آئینی ترمیم منظور ہوئی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنی من مرضی کرتے ہوئے ایک مخصوص بنچ بنا کر اس ترمیم کو معطل کر دیا۔ اس معاندانہ فیصلے پر کچھ ممبر پارلیمنٹ نے شدید تنقید کی۔ اس فیصلے پر میاں نواز شریف نے بھی پارلیمنٹ میں ایک دھواں دار تقریر کر دی جس پر چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے وزیر اعظم سمیت آٹھ اراکین پارلیمنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی۔

چیف جسٹس کی طرف سے اس متعصبانہ فیصلے کے خلاف مسلم لیگ کی طرف سے فل بنچ بنانے کا مطالبہ کیا گیا جسے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے مسترد کر دیا ‏تو نواز شریف نے پارلیمنٹ سے رجوع کر کے توہین عدالت قانون میں ترمیم کے ذریعے توہین عدالت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے اپیل کا حق دینے کا بل منظور کر لیا۔ یہ بل سیاسی جماعتوں کی ایک بہت بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔

پارلیمان بمقابلہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ اس وقت کھڑکی توڑ رش لینے والی فلم بن گیا جب چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے صدر پاکستان کے نام ایک حکمنامہ جاری کر دیا اور انہیں اس بل پر دستخط کرنے سے روک دیا۔ چیف جسٹس کی طرف سے صدر کو دیا گیا یہ غیر آئینی حکم سراسر پارلیمنٹ کی توہین اور بے توقیری تھی جس پر مسلم لیگ نون اس مقدمے کو سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے سامنے لے گئی جس پر سپریم کورٹ کے دس رکنی لارجر بنچ نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے تین رکنی بنچ کو توہین عدالت کی کارروائی روکنے کا حکم دیتے ہوئے چیف جسٹس کی اس غیر آئینی و غیر قانونی پریکٹس پر انہیں نوٹس جاری کر دیا۔ سپریم کورٹ کی تاریخ کے اس بدقسمت نوٹس کی وجہ صرف اور صرف چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی ضد اور انا تھی۔

لیکن طرف تماشا یہ کہ لارجر بینچ کے اس ‏حکم نامے کے باوجود چیف جسٹس نے میاں نواز شریف اور ممبرز پارلیمنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی مسلسل جاری رکھی۔ نواز شریف نے پھر بھی سپریم کورٹ کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اور چیف جسٹس کے عہدے کی توقیر کا خیال رکھتے بطور وزیر اعظم غیر مشروط معافی مانگی لیکن چیف جسٹس نے اس غیر مشروط معافی کو مسترد کر کے ان پر فرد جرم عائد کی اور ساتھ ہی تیرہویں ترمیم معطل کرتے ہوئے آٹھویں ترمیم یعنی صدر پاکستان کا اسمبلیاں توڑنے کا اختیار بحال کر دیا۔

آئینی بحران نے مکمل طور پر ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا معیشت و کاروبار تقریباً ٹھپ ہو چکے تھے۔ عوام دم سادھے بیٹھے تھے کہ نجانے اب کیا ہو گا کیونکہ چیف جسٹس کی طرف سے اس مقدمے میں سماعت اور فیصلے کے لئے آئندہ تاریخ مقرر کر دی گئی جس میں وہ وزیر اعظم کو نا اہل کرنے جا رہے تھے جس کی وجہ سے عوام اور کاروباری طبقہ پریشان تھا کہ صدر کی طرف سے اسمبلی توڑنے کا بہانہ کہیں ملک پر کسی اور آمر کو مسلط نا کر دے۔

قارئین کرام یہی وہ سماعت تھی جس میں نون لیگ کے مظاہرین ‏اور کچھ ایم این ایز نے سپریم کورٹ اور سجاد علی شاہ کی عدالت میں گھس کر نعرہ بازی کی، جس پر وہ کمرہ عدالت چھوڑ گئے۔ اس کے بعد آئینی بحران اور ملکی صورت حال کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے فل بنچ نے سجاد علی شاہ کو دوبارہ عدالتی کارروائی سے روک دیا اور جسٹس اجمل میاں کو ایکٹنگ چیف جسٹس کا حلف اٹھانے کا حکم جاری کر دیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے اس ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کروائیں اور سینکڑوں لوگوں پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی اور ان میں کئی سیاسی لوگوں کے سیاسی کیرئیر لمبے عرصے اور کئیوں کے ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔ اختر رسول اور نیلام گھر شو والے طارق عزیز صاحب اسی لپیٹ میں آئے تھے۔

اگر ہم سپریم کورٹ میں ہنگامہ آرائی کے اس واقعہ کا حالیہ عرصہ میں عمران نیازی صاحب کی عدالت آمد کے مواقع پر ہونے والی ہلڑ بازی اور ہنگامے سے موازنہ کریں تو کہیں کم تھا۔ وقت کی دھول میں سپریم کورٹ کے قاضی القضات سجاد علی شاہ کی طرف سے پیدا کردہ یہ بدقسمت بحرانی واقعات کہیں اوجھل ہو گئے کہ کس طرح ایک چیف جسٹس نے اپنی ضد اور انا کی تسکین کی خاطر عدالتی مارشل لا کے ذریعے نادیدہ قوتوں کا مہرہ بنتے ہوئے دو تہائی اکثریت والی پارلیمنٹ توڑنے اور اس کے وزیر اعظم کو نا اہل کرنے کی سازش کی۔ نو مولود جماعتوں اور کارکنان نے اگر کچھ یاد رکھا تو وہ صرف سپریم کورٹ میں ہوئی ہنگامہ آرائی۔

سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنان خصوصاً نوجوانوں کی مکمل سیاسی تربیت کا بندوبست کریں اور پورا سچ بولیں۔ انہیں غلط یا جزوی معلومات دینے کی بجائے مکمل معلومات مہیا کی جائیں۔ میں نوجوانوں سے بھی ملتمس ہوں کہ آپ اپنے قائدین کی اندھی تقلید کے ساتھ ساتھ ملکی سیاسی تاریخ سے بھی آگاہی حاصل کریں۔

Facebook Comments HS