موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال


سیاسی جماعتوں کو آئین کے تحفظ سے زیادہ اپنی حکومت عزیز ہوتی ہے۔ چاہے اس کے لئے کوئی بھی حربہ استعمال کرنا پڑے۔ مارچ دو ہزار بائیس تک آئین کی حرمت پر مٹ مرنے والی جماعتیں آئین شکنی کر رہی ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ سے بائیس کے درمیان آئین سے کھیلنے والی جماعت اب آئین کے بچاؤ کے لئے آمادہ نظر آ رہی ہے۔ ایک جنگ سپریم کورٹ میں ہے اور دوسری جنگ میڈیا اور سڑکوں پر ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اگلے کچھ ماہ بھی سیاسی و معاشی عدم استحکام واضح دکھائی دے رہا ہے۔

معاشی صورتحال کا اس وقت کسی کو بھی احساس نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں کو عدم اعتماد سے قبل اندازہ نہیں تھا کہ اس کو کیسے ہینڈل کیا جائے گا۔ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے فیض حمید اور اسٹیبلشمنٹ کے دوستوں کے ساتھ مل کر سائفر متعارف کروا دیا۔ جس کا انہیں بے پناہ سیاسی فائدہ حاصل ہوا۔ ساڑھے تین سالہ دور میں جن سوشل میڈیا کے لوگوں کو نوازا گیا تھا انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ مارچ سے مئی کے درمیان پی ڈی ایم حالات کو سمجھنے میں ناکام رہی جس کا ظاہری سی بات ہے فائدہ اپوزیشن نے اٹھایا۔

تاہم اس کے بعد عمران خان سے سیاسی غلطیاں بھی ہوئیں قومی اسمبلی کا بائیکاٹ اور صوبائی اسمبلیاں توڑنے سے ان کے اسٹیک کم ہو گئے۔ جس وجہ سے ان کے مخالفین کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اس وقت ملکی تاریخ میں الیکشن کمیشن، حکومت اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے۔ مگر سپریم کورٹ سے مسائل کا سامنا ہے جسے عدلیہ میں تقسیم دکھا کر پورا کیا جا رہا ہے۔ اس پورے ایک سال میں پاکستان نے معاشی قیمت بے انتہا چکا دی ہے۔ اب حکومت کسی کی بھی آ جائے خاص فرق نہیں پڑنے والا۔

مہنگائی کی حالیہ لہر طویل عرصہ تک پیچھا نہیں چھوڑنے والی، ہمارا امپورٹ ایکسپورٹ کا گیپ مسلسل بڑھتا ہی جائے گا۔ امپورٹس کھول دی جائیں تو ڈالر کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ عمران خان نے دو ہزار بائیس کے پہلے تین ماہ سے جو سیاسی فیصلے کئیے تھے اگر پی ڈی ایم نے بھی وہی کر دیے تو ڈالر پانچ سو تک چلا جائے گا اور یوں آنے والی حکومت بھی پانچ سال یہی کہے گی بارودی سرنگ کھود دی گئی تھی اب جو بھی کیا گیا ہے وہ ماضی کی حکومت کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔

Facebook Comments HS