ہندی اساطیر: کائنات کی ابتدا: فلسفۂ شیو اور شکتی ۔ قسط 5
سورہ ء اخلاص تو آپ نے پڑھی ہی ہوگی اور یقیناً آپ سب اس کے معنی و مفہوم سے واقف بھی ہوں گے لیکن سورہ اخلاص سے ملتے جلتے منتر، (آیات، نشانیاں ) ویدانت اور اپنشدوں میں بھی موجود ہیں۔
شریمد بھاگوت گیتا کہتی ہے
’وہ جو غیر پیدائشی ہے، ابتدا سے ہے، تمام جہانوں کے اعلیٰ رب کے طور پر جانا جا تا ہے۔ ‘ (بھگود گیتا 10 : 3 )
اور اس کے نہ والدین ہیں اور نہ رب۔ ’اور اس کے برابر کوئی نہیں۔
(شویتاشواترا اپنشد 6 : 9 )
اسی طرح کا پیغام شویتاشوتارا اپنشد اور یجروید میں دیا گیا ہے :
’نا تسیہ پرتیما استی‘ ، ’اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ ‘ (شویتاشواترا اپنشد 4 : 19 اور یجروید 32: 3 )
ہندو ویدانت کا برہما سترا ہے :
’ایکم برہم، دویتیا نیستے ناستے نہ نہ کنچن‘ پرماتما ؍ ایشور ایک ہی ہے دوسرا نہیں ہے، نہیں ہے، نہیں ہے، ذرا بھی نہیں ہے ’۔
’صرف ایک ہی خدا ہے، دوسرا نہیں، ہر گز نہیں، ہر گز نہیں، کم از کم نہیں۔ ‘
ویدوں اور اپنیشدوں کے واضح احکامات اور تعلیمات کے باوجود ہندومت یا سناتن دھرم میں مورتی پوجا سمیت بہت سے ایسے عقائد اور رسومات موجود ہیں یا در آئی ہیں جو ان احکامات کی کھلی خلاف ورزی کرتی ہیں، یہ سب کیسے ہوا؟ اس کی وجوہات کیا رہیں آئیے دیکھتے ہیں۔
ہندو مت میں تین مرکزی پنتھ ہیں، شیومت، وشنومت اور شکتی مت۔ اور ان تینوں میں ہی کل دیوتا یعنی خاندانی دیوتاؤں کی اہمیت مرکزی ہے اور اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر مختلف دیوی دیوتاؤں کی پوجا یا بھگتی کی رسومات موجود ہیں۔ ایک عام انسان جب یہ سب جاننے کی کوشش کی کرتا ہے یا ہندومت پر تحقیق کرنے نکلتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں یہ خیالات لازمی طور پر جنم لیتے ہیں کہ جب ویدوں میں واضح طور پر ایک خدا کے ہونے اور اس کی عبادت /پوجا /بھگتی کرنے کی تبلیغ کی گئی ہے تو کیا یہ بات ہندو برہمن /مذہبی رہنما، پنڈت یا عام۔ ہندو نہیں جانتے؟ کیا وہ ان احکامات سے واقفیت نہیں رکھتے؟ یا وہ جان بوجھ کر ان سے صرف نظر کرتے ہوئے اپنے مذہب میں اختراعات کو قبول کر چکے ہیں اور اپنے عقائد کی نئی شکل و صورت کو ہی راست دھرم سمجھتے ہیں؟
انہی سوالات کے جوابات کی تحقیق کے دوران بہت ہی دلچسپ پہلو اور انکشافات سامنے آئے۔ آئیے انھیں مل کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے ہم شیو مت اور شکتی مت پر گفتگو کریں گے کیونکہ اس فرقے کے عقائد کا تعلق زندگی، ضروریات زندگی اور اس دنیا سے ہی نہیں بلکہ بعد از موت، موت اور مکتی کے نظریات سے بھی ہے۔
شیو مت اور شکتی مت (فلسفہ شیو اور شکتی)
آئیے اسے ایک ہندو کے نظریے سے ہی واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہم اس سے کوئی بھی نتیجہ اخذ نہیں کریں گے بلکہ یہ کام ہم آپ قارئین پر چھوڑ دیتے ہیں۔
شیو کون ہے؟ اور ہم اسے کیسے محسوس کر سکتے ہیں؟
جیسے شیو لنگ، اور شیو شنکر کی پرتیما (بت /اڈل /مورتی) ہے یا شنکر پاروتی یعنی شیو اور شکتی کو پریوار سمیت یعنی خاندان سمیت بھی مورتیوں کا پکچرز /تصاویر میں دکھایا جاتا ہے، کوئی اڑھائی ہزار سال سے منادر کی دیواروں اور محرابوں، کنگروں پر مختلف دیوی دیوتاؤں کی تصاویر چتر کاری کی شکل میں محفوظ کی گئی ہیں۔
اب شیو لنگ ہو یا شیو کی مورتی ہو ہم اسے شیو ہی مانتے ہیں (یعنی ہندو)
ہندو عام۔ زندگی میں جب ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں یا روزمرہ کی زندگی میں معاملات زندگی انجام دیتے ہیں یا مذہبی تعلیمات حاصل۔ کرتے ہیں تو ایک نراکار شیو کی بابت اپنا اظہار خیال ضرور کرتے ہیں مثلاً میں اس نراکار پرماتما کو مانتا ہوں۔
اب یہ کیا ہے؟ کیا وہ اس نراکار پرماتما کو اس شیو لنگ یا اس مورتی کی شکل میں ہی مانتے ہیں یا ماننا چاہیے تو اب ایسا کیا ہوا تھا کہ اہل ہند کو نراکار پرماتما کا گیان ہوتے ہوئے بھی مورتی بنانی پڑی یا بھٹکنا پڑا؟
راقم کے خیال میں یہ حد سے بڑھا ہوا علم تھا جس نے انھیں گمراہ کر دیا۔ کیسے؟ یہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فرض کیجیے آپ کو کائنات کے متعلق تمام گیان حاصل۔ ہو چکا ہے جسے عرفان ذات اور عرفان رب العالمین کا نام دے دیتے ہیں اور آپ اس سے کنیکٹ رہنے کے تمام طریقے بھی سیکھ چکے ہیں۔ لیکن کہیں نہ کہیں کسی کو یہ بات پسند نہیں آ رہی۔ اور وہ چاہتا ہے کہ آپ بھٹک جائیں تو وہ آپ کے دماغ میں وہی انرجیز اور اورا کی گیم ڈال دیتا ہے۔ اس بات کو تو آج سائنس پروو کر چکی ہے کہ اس کائنات میں جتنے بھی مادی اجسام ہیں خواہ وہ نباتات ہوں یا جمادات ہوں یا جاندار ہوں ان سب کا ایک اورا اور ایک انرجی ضرور ہوتی ہے اسی سے ہم سب اور یہ پوری کائنات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

