آرٹیفیشل انٹیلیجنس: انسانیت تباہی کے دہانے پر ؟


چیٹ جی پی ٹی۔ 4 کے ممکنہ خطرات

مشینی اور مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ اپنے ارتقا کی طرف رواں تھی کہ اچانک پچھلے چند مہینوں میں اس نے ایک زقند بھری اور پوری دنیا میں ایک ہلچل مچا دی۔

قارئین نے یقیناً چیٹ جی پی ٹی۔ 4 کا نام سنا ہو گا جس نے بنی نوع انسان کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جو اس سے پہلے صرف اربوں کھربوں کی سرمایہ دار آئی ٹی کمپنیوں کے مالکان کو میسر تھا۔

مائکروسافٹ کے بل گیٹس، اور گوگل کے چیف ایگزیکٹیو، اپنے طور پر اس نئی طاقت کو اسیر کرنے اور اس کا ثواب ڈالر میں بدلنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہیں۔

کچھ عرصے تک تو ٹکنالوجی کی زیادہ تر سر کردہ کمپنیوں نے اس میں کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا۔ لیکن بعد میں جب انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اب مشینی ذہانت سے ہر ایرا غیرا جس کے پاس سمارٹ فون یا کمپیوٹر ہے، لا محدود فائدہ اٹھا سکتا ہے تو ان کو تشویش لاحق ہوئی۔

مصنوعی ذہانت کے اپنے خالق بھی اس ٹکنالوجی کی وسعت، گہرائی اور تباہ کن اثرات سے نا آشنا ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ٹکنالوجی اب ان کے قابو میں نہیں رہی۔

ٹیسلا اور ٹوئٹر کے مالک ایلان مسک اور ایپل کے شریک بانی موجد سٹیو وازنیاک جیسے سرمایہ داروں نے بھی جو روایتی طور پر ٹکنالوجی کی ہر ترقی میں ڈالر کا عکس دیکھتے ہیں، اس ٹکنالوجی کے برق رفتار فروغ کی مخالفت شروع کر دی ہے۔

میڈیا کے کثیر ذرائع میں شائع ہونے والے ایک خط میں مسک، وازنیاک اور دوسری چند سرغنہ ٹکنالوجی کمپنیوں کے کرتا دھرتا سی، ای، اوز نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر چھ مہینے کے لئے اس ٹکنالوجی کی مزید پیش قدمی کو نہ روکا گیا تو یہ خطرناک ٹکنالوجی انسانیت کی تباہی کی حدوں کو چھو سکتی ہے۔

اس خط میں تمام لیباریٹریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر مزید تحقیق ملتوی کر دیں۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس نئی جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 پر پابندی لگا دیں۔

اس ترقی کے بہت سے فائدے بھی ہیں۔ یہ ٹکنالوجی صرف مشینی ہی نہیں انسانی زبان پر بھی حاوی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ انسانیت نے جتنا بھی علم حاصل کیا ہے اس کو بنیاد بنا کر یہ تکنیک پیچیدہ مسائل کا ایسا تجزیہ جس میں ماضی میں سال ہا سال لگ جاتے تھے اب منٹوں، بلکہ سیکنڈوں میں کر نے کی اہلیت رکھتی ہے۔ یہ آپ کی ہدایات کے مطابق مصوری کر سکتی ہے اور موسیقی کی دلکش دھنیں ترتیب دے سکتی ہے۔

یونیورسٹیوں میں داخلوں کے امتحانی پرچوں، مصوروں اور موسیقاروں کی تخلیقات اور کارپوریشنوں کے بزنس پلانز اور ماڈلز پر اس جی، ۔ پی۔ ٹی۔ 4 نے اپنی تخلیق کی کم سنی ہی میں منفی طریقے سے اثر انداز ہونا شروع کر دیا ہے۔

لیکن جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 کے ممکنہ خطرات صرف ملازمتوں سے محرومی اور روبوٹوں کا انسانی متبادل بن کر صنعت و تجارت پر قبضے تک محدود نہیں۔ یہ اندیشے تو طویل مدت سے عیاں تھے ہی۔ جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 میں پچھلے چند ماہ میں اتنی صلاحیت آ چکی ہے کہ ایک بچہ بھی اسے استعمال کر کے ناقابل تصور تباہی کا موجب بن سکتا ہے۔

اگر ترقی کی رفتار یہی رہی تو تھوڑے عرصے ہی میں اس جن کو بوتل میں واپس ڈالنے کی ہر امید ختم ہو جائے گی۔ دنیا پھر ان بچوں کے رحم و کرم پر ہو گی جو اس ٹکنالوجی کے تباہ کن رجحان کو استعمال کر کے اپنا اور باقی انسانیت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

کوئی غیر معمولی ذہین اور ٹکنالوجی میں ماہر بچہ اب اس ہتھیار تک انتہائی آسانی سے رسائی حاصل کر سکتا ہے جس میں یہ منظر نامہ ممکنات ہی میں نہیں، آسانی سے قابل وقوع ہونے کے ضمرے میں بھی آ سکتا ہے۔

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا۔

ان ٹکنالوجی کے اجارہ داروں کی رائے کے مطابق حکومتیں اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ لیکن بڑی قابلیتوں اور محدود سوچ کے حامل ارب پتی ٹکنالوجی کے کاروباری یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک حکومت اپنے ملک کی لیباریٹریوں پر تو پابندی لگا سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ان کا حکم ہر دوسرے ملک پر بھی چلے۔ جیسے ہی کسی اور ملک نے اس ٹکنالوجی کو تباہ کن مقاصد کے لئے اپنایا، سب خود ضبطی اور خود احتیاطی دھری کی دھری رہ جائے گی اور ماضی اور حال کے ہتھیاروں کی دوڑ کی طرح سب ممالک، خاص طور پر ترقی یافتہ اور دولت مند ممالک، اس دوڑ میں ایک دوسرے سے ہر حال میں سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے۔

اور اگر خدا نہ خواستہ چین نے اس ٹکنالوجی میں کچھ ترقی دکھائی تو جمہوریت بچانے کے لئے امریکہ بہادر اور اس کے اتحادی اور طفیلی سب جمہوریت اور انسانی حقوق کو بھول کر ، اپنی برتری قائم رکھنے کے لئے، دینا کو تہس نہس کرنے پر تل جائیں گے۔

جہاں تک کسی عالمی ادارے کا تعلق ہے، تو اقوام متحدہ کی بے بسی ہے کس سے ڈھکی چھپی ہے؟

کون کہتا ہے کہ ارتقا صرف مثبت ہی ہو سکتا ہے؟ یہ نظام فطرت ہے کہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں بد سے بد تر نتائج ظہور پذیر ہو سکتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح غالب نے اس معاملے میں حتمی بات کہہ دی ہے۔

میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی۔

بہر حال، اب جب یہ تجزیہ پڑھ کر آپ اچھی طرح مایوس ہو چکے ہیں تو اس جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 کا ایک ہلکا پھلکا سا پہلو بھی دیکھ لیجیے تاکہ آپ کی رات کی نیند خراب نہ ہو۔

پاکستان کو شاید جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 کی اس تیز رفتار ترقی سے کوئی زیادہ خطرہ نہ ہو۔ کیونکہ اردو میں اس کا ہاتھ ابھی خاصا ہلکا، بلکہ ہولا، ہے، دوسری بات یہ کہ خدا کا احسان ہے کہ من حیثیت قوم، ذہانت کی کوئی بات ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ بڑے بڑے دہریوں کو خدا کی ذات پر یقین دلا دیتے ہیں کہ کوئی تو ہے جو اس ملک کا نظام ہستی چلا رہا ہے۔ جیسا بھی ہے، مگر چل تو رہا ہے۔

مثال کے طور پر ابھی حال ہی میں جب میں نے اس مصنوعی خرد اور ادراک کا امتحان لینے کی کوشش کی اور اس سے پوچھا کہ اس غزل کے باقی اشعار کیا ہیں؟

”جہل خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے ”
تو اس کا جواب قابل دید و شنید تھا۔ ملاحظہ فرمائیے :

”معذرت، میں غزل کی پہلی مصرع نہیں بتا سکتا کیونکہ آپ نے صرف ایک شعر کا ذکر کیا ہے۔ کیا آپ کلام کے مزید حصوں کو بتا سکتے ہیں؟ میں آپ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔

عقل و خرد نے دن یہ دکھائے
یہ شعر شاعر مرزا غالب کی مشہور غزل ”عقل و خرد نے دن یہ دکھائے“ کا ابتدائی مصرع ہے۔
عقل و خرد نے دن یہ دکھائے
مجھے برباد کیا، اپنا دھن کیا

مرزا غالب کی یہ غزل کئی مصائب اور شکوے کو بیان کرتی ہے۔ غزل کے باقی اشعار درج ذیل ہیں :
عقل و خرد سے کھیل ہوتا ہے۔
عشق کا درد جانے کیوں نہ جانے، جب درد دل کا ہی
خودی کو کر بلند، تاک ایسی کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو ، ’غالب‘ ، یہ خیال اچھا ہے ”

تو آپ مندرجہ بالا جواب آں غزل سے خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جس ذہانت کے علم و ہنر سے بڑے بڑے ٹیکنالوجیکل رستم کانپ رہے ہیں اس غریب جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 کو تو شاید غالب، اقبال، جگر، اور گمنام شاعر کا فرق بھی نہیں معلوم۔ بھلا ہم اردو دانوں، پاکستانیوں اور مسلمانوں کا یہ مصنوعی اور مشینی ادراک و ذہانت کیا بگاڑ سکتی ہے؟

لیکن اس مشینی ادراک میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کی نئی نسل کے لئے ایک انتہائی سنہری موقع بھی پوشیدہ ہے۔ اور وہ یہ کہ کیونکہ کتابیں پڑھنا ہما را قومی مشغلہ نہیں ہے۔ یہ مشینی ادراک آپ کے لئے کتابیں پڑھ کر ان کا خلاصہ آپ کو سنا سکنے کے قابل ضرور ہے۔

اس پر ایک واقعہ یاد آیا۔ سنا ہے کہ وزارت عظمی کے دنوں میں نواز شریف صاحب کے ایک دانشور ماتحت نے انہیں ایک بہت اچھی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا۔ وزیر اعظم کچھ دیر تو سوچتے رہے پھر فرمایا،

”یار توں پڑھ لے تے فیر مینوں خلاصہ سنا دیویں۔ “ (یار تو پڑھ لے اور پھر مجھے خلاصہ سنا دینا)۔

تو آپ کچھ اور حاصل کریں یا نہ کریں کم از کم اس جی۔ پی۔ ٹی۔ 4 سے اپنی پسندیدہ یا دوسروں کی تجویز شدہ کتابوں کے خلاصے تو سن سکتے ہیں۔اختتام۔

Facebook Comments HS