موجودہ سیاسی بحران : کیا ایمرجنسی لگنے والی ہے؟

ابھی سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آیا تھا کہ کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری صاحب نے ایک تقریر میں انتباہ کہ اگر چیف جسٹس صاحب نے از خود نوٹس کا فیصلہ سناتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا تو مجھے خدشہ ہے کہ ایسا آئینی بحران پیدا ہو گا جس کا نتیجہ ایمرجنسی یا مارشل لاء کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اسی طرح وزیر داخلہ نے بھی ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ آئین میں ایمرجنسی کا آپشن موجود ہے۔ یہ آپشن کہیں نہیں گیا۔ دھمکی واضح تھی۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا اور وہ فیصلہ سنایا جو کہ حکومت اور خود عدالت عالیہ کے بہت سے معزز جج صاحبان کی رائے کے خلاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب کے منشا کے عین مطابق تھا اور اب ملک میں بحران پہلے سے بھی شدید ہو گیا ہے۔ حکومت نے اس فیصلہ کو رد کر دیا ہے۔
ملک کا اقتصادی، سیاسی اور آئینی بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس مرحلہ پر کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلو اس کے قانونی اور تاریخی پہلو سامنے رکھنے بہت ضروری ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایمرجنسی کیا ہے اور اس کا آئینی اور تاریخی پہلو کیا ہیں؟
ایمرجنسی یا ہنگامی حالت لگانے کا ذکر آئین کی شق 232 میں موجود ہے۔ اس شق کی رو سے اگر صدر کو اطمینان ہو کہ پاکستان کو ایسے اندرونی یا بیرونی خطرہ لاحق ہے جس پر قابو پانا کسی صوبے کی حکومت کے لئے ممکن نہیں تو وہ اس صوبہ میں ایمرجنسی کا نفاذ کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے یا تو اس صوبہ کی صوبائی اسمبلی قرارداد منظور کرے گی یا اگر صدر اپنے طور پر یہ قدم اٹھائے تو اس قدم کو منظوری کے لئے دس دن کے اندر ملک کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ اگر ایمرجنسی نافذ ہو تو پارلیمنٹ قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر سکے گی۔ یہ وہ راستہ ہے جس کو اختیار کر کے حکومت اپنی مدت میں ایک سال کی توسیع کر سکتی ہے۔ اس طرح انتخابات میں ایک سال کی تاخیر کی جا سکتی ہے۔
لیکن ایمرجنسی کا ایک اور بھیانک پہلو ہے۔ اور اس پہلو کا ذکر آئین کی اگلی شق یعنی آرٹیکل 233 میں ہے۔ اور وہ پہلو یہ ہے کہ ایمرجنسی کے دوران حکومت آئین میں مذکور بنیادی حقوق کو معطل کر سکتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت ان بنیادی حقوق کو معطل کردے اور پاکستان کے کسی شہری کے یہ حقوق پامال کیے جائیں تو یہ شہری اس ظلم کو روکنے کے لئے عدالت سے رجوع بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ایمرجنسی کے دوران شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کر سکتی ہے۔
یہ ہماری تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ ہمارے موجودہ آئین کی ابتدا ہی ایمرجنسی کے نفاذ اور بنیادی حقوق کی معطلی سے ہوئی تھی۔ 14 اگست 1973 کو پاکستان کے موجودہ آئین کا نفاذ شروع ہوا۔ فضل الہیٰ چوہدری صاحب نے صدر پاکستان اور ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے وزیر اعظم پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان پہلے ہی سے تیار ہو چکا تھا۔ پاکستان کے عوام کو بنیادی حقوق ملے چار پانچ گھنٹے ہی گزرے تھے کہ بجلی گرا دی گئی۔
اور وزیر اعظم نے ایمرجنسی کے نفاذ کا فرمان صدر کو پیش کیا۔ اور صدر مملکت شاید قلم ہاتھ میں لئے پہلے ہی سے منتظر تھے۔ انہوں نے فوری طور پر اس فرمان پر دستخط کر دیے۔ اس فرمان کا لب لباب یہ تھا کہ چند گھنٹے قبل جو پاکستان کے عوام کو کچھ بنیادی حقوق عطا ہوئے تھے، وہ معطل کیے جاتے ہیں۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ وہ حقوق کون سے تھے؟
آرٹیکل 10 یعنی گرفتاری اور نظر بندی سے تحفظ۔ آرٹیکل 15 یعنی نقل و حرکت کی ٓزادی۔ آرٹیکل 16 یعنی اجتماع کا حق۔ آرٹیکل 17 یعنی انجمن سازی کی آزادی۔ آرٹیکل 18 یعنی جائز پیشہ، مشغلہ، کاروبار یا تجارت کی آزادی۔ آرٹیکل 19 یعنی تقریر اور اظہار کی آزادی۔ آرٹیکل 23 یعنی جائیداد رکھنے کی آزادی۔ آرٹیکل 25 یعنی شہریوں میں مساوات کی ضمانت۔ آرٹیکل 27 یعنی ملازمت میں برابر مواقع ملنے کی ضمانت۔ یہ سب حقوق بیک جنبش قلم واپس لے لئے گئے کہ پاکستانی عوام اتنی آزادی حاصل کر کے کیا کریں گے۔ یہ لوگ کون ہوتے ہیں کہ گرفتار بھی نہ ہوں۔ جہاں جی چاہے جلسے کریں۔ اپنی مرضی کی تنظیم میں شامل ہوں۔ جو جی چاہے اول فول کہتے پھریں یہاں تک کہ حکومت پر بھی تنقید کریں۔ اور اپنی مرضی کی جائیداد بنائیں اور دھڑلے سے برابری کا مطالبہ بھی کریں۔ انہیں اتنی آزادیوں کی عادت نہیں کہیں بد ہضمی نہ ہو جائے۔
شاید ہی پاکستان میں کسی قانون پر اتنی سرعت سے عمل کیا گیا ہو جتنی سرعت سے اس حکم پر عمل کیا گیا۔ فوری طور پر اپوزیشن لیڈروں میں غوث بخش بزنجو صاحب، عطاء اللہ مینگل صاحب اور خیر بخش مری صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس طرح بلوچستان کے سیاستدان سب سے پہلے اس کی زد میں آئے۔ اور اس کے نتائج ہم اب تک ملاحظہ کر رہے ہیں۔
اس کے ایک سال بعد جب پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی دوسری آئینی ترمیم کے لئے غور کر رہی تھی تو اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے 5 اگست 1974 کو یہ اظہار کیا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو دو تہائی اکثریت سے آئین کے آرٹیکل 8 اور 20 یا کسی بھی شق کو ختم کر سکتی ہے۔ آرٹیکل 8 میں اس بات کی ضمانت دی گئی تھی کہ بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کی جائے گی اور آرٹیکل 20 میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی تھی۔ یعنی جو حقوق سلب تھے وہ تو سلب ہی تھے۔ ہم تو یہ اختیار بھی رکھتے ہیں مذہبی ٓزادی بھی سلب کر لیں۔
کیا یہ ایمرجنسی صرف چھ ماہ چلی۔ نہیں یہ ایمرجنسی طویل سے طویل تر ہوتی گئی۔ اور بھٹو صاحب کے دور اقتدار میں پاکستان کے بد تمیز عوام کو اپنے بنیادی حقوق واپس نہ مل سکے۔ یہاں تک کہ ایک رات جنرل ضیاء صاحب مارشل لاء لگا کر رہے سہے حقوق کو بھی سلب کر لیا۔ کیا اس کے بعد بھٹو صاحب اور ان کے ساتھیوں کے بنیادی حقوق محفوظ رہے۔ نہیں یہ تاریخ یا ایک المیہ ہے کہ ان کے حقوق بھی بری طرح پامال کیے گئے۔ کیا آئین محفوظ رہا۔
نہیں جس طرح بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے تھے آئین بھی معطل کر دیا گیا۔ جب یہ عاجز کالم لکھ رہا ہے 4 اپریل کی تاریخ ہے۔ اسی تاریخ کو اس آئین کے تحت بننے والے پہلے وزیر اعظم کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ آخر میں ایک گزارش یہ ہے کہ ایمرجنسی سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہوئے۔ نہ بھٹو صاحب کی ایمرجنسی سے حل ہوئے، نہ بھارت میں اندرا گاندھی صاحبہ کی ایمرجنسی سے حل ہوئے اور نہ پرویز مشرف صاحب کی ایمرجنسی سے کوئی مسئلہ حل ہوا۔ تو پھر اس راستہ کو کیوں اختیار کیا جائے؟

