کیا تمام کتابیں اچھی ہوتی ہیں؟


کچھ عرصہ پہلے دوستوں کی محفل میں بحث چلی جس کا مرکزی نکتہ یہی سوال تھا کہ تمام کتابیں اچھی ہوتی ہیں؟ جہاں تک پڑھنے کا تعلق ہے تو ایک ریشنل آدمی یہی کہیں گا کہ ہمیں ہر قسم کتاب پڑھنی چاہیے اور اس میں دو رائے نہیں ہونی چاہیے اگر اپنے خیالات و نظریات کے جمود کو توڑنا چاہیے ہو تو پھر مخالف نظریات کی طرف رجوع کرنا اور ان سے آگاہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔

لیکن جب معاملہ کتاب کی ذات یا کتابوں کے حوالے سے لوگوں کی پرسیپشن ( خواہ اسے پڑھتے ہو یا نہیں) کا ہو تو پھر پھر ہر کتاب کی اچھی ہونے کی بات نہیں رہتی۔ میں اپنی کم علمی لیکن کتابوں سے تھوڑی بہت شناسائی کی بنیاد پر مختصراً یہی کہوں گا کہ تمام کتابیں اچھی نہیں ہوتیں۔

اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ اچھائی اور برائی کی تعریف کیا ہے؟ یہ اپنے اصل میں ہیں کیا؟ اچھائی اور برائی کی لکیر تو ہر فرد کی دل پر سے گزرتی ہے۔ یہ معروضی نہیں بلکہ موضوعی ہیں، دونوں اضافی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز یہ کام یا کوئی مظہر میرے مطابق اچھا ہو، ضروری نہیں کہ آپ کے مطابق بھی وہ اچھا ہی ہو۔ اچھائی اور برائی کے معیار میرے اور آپ کے اور دنیا بھر کے مختلف الخیال لوگوں کے ترجیحات کے مطابق الگ الگ ہو سکتے ہیں۔

اگر لوگوں کی سمجھ بوجھ کو جگہ دی جائے تو پھر اس بحث سے قطع نظر کہ اچھائی اور برائی اپنی اصل میں کیا ہے اگر عام مروجہ فہم کو دیکھا جائے تو بھی یہ بات بہت آسانی سے سمجھی یا سمجھائی جا سکتی ہے کہ تمام کتابوں کے اچھا ہونے کا دعوی زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار نہیں۔

مثلاً اس وقت میرے موبائل فون میں موجود کتابوں میں درجن بھر یا اس سے بھی زیادہ ایسے کتابیں موجود ہوں گے جن کی موضوعات یا ان میں شامل آراء ہمارے معاشرے میں قابل قبول نہیں حتٰی کہ اس پر بحث بھی نہیں ہو سکتی۔ پھر ہمارا معاشرہ مذہبی اور سماجی طور پر بہت متنوع ہے۔ مذہب پر تو سب کا اتفاق ہے لیکن مکاتب فکر اور فرقے اتنے ہیں جن کا شمار نہیں۔ یہاں ہمیں بری کتابیں ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً فرقہ واریت کو ہوا دینے والی کتابوں کی بات کی جائے تو مولانا الیاس گھمن کی کتاب ”ڈاکٹر ذاکر نائک اور اس کی حقیقت“ جو ذاکر نائک اور ان کے افکار پر تنقید ہے۔ اس کتاب کو ذاکر نائک کے لاکھوں فالوور اور اہل حدیث مکتبہ فکر اچھی کتاب کہہ سکیں گے؟

پچھلے دنوں میں نے ایک کتاب پڑی، لبرل ازم اور اسلام جو کسی لبرل ازم مخالف شخص نے لکھی تھی۔ اس کتاب میں لبرل ازم پر بے جا تنقید، اسے مسلمانوں کے زوال و پستی کا سبب اور اسلام کے لئے اسے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ اب میں ٹھہرا لبرل بندہ۔ میں تو اسے کبھی اچھی کتاب نہیں کہوں گا۔

زرا اوپری سطح پر کمیونلزم کو ہوا دینے والے کتابیں بھی بری کتابوں کی فہرست میں آ سکتی ہے۔ اس کی ایک مثال سوامی پنڈت چموپتی ایم اے کی کتاب جس کے ناشر مہاشے راج پال کو لاہور میں علم الدین نامی ایک بندے نے قتل کیا تھا۔ یہ کتاب مسلمانان ہند میں غیظ و غضب پیدا کرنے والی ایک بدنام زمانہ کتاب ہے۔ اور سلمان رشدی کی کتاب شیطانی آیات کے بارے میں کیا کہا جائے! دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس کتاب پر کس قسم کا رد عمل دیا تھا؟ بھارت و پاکستان میں یہ بین ہوئی۔ پاکستان میں اس پر بہت ہنگامہ ہوا جگہ جگہ احتجاج اور مظاہرے ہوئے۔ سلمان رشدی پر فتوی لگے۔ ان کے قتل پر انعامات کا اعلان کیا گیا۔ احتجاجوں اور ہنگاموں کی وجہ سے مالی و جانی نقصان بھی ہوا۔ دنیا کل آبادی کا 23 فیصد سلمان رشدی کی ناول کو میرے خیال میں کبھی بھی اچھا نہیں کہی گی۔

بالکل اسی طرح ڈھائی ارب سے زائد مسیحی آبادی، سیم ہیرس کی کتاب letter to a Christian Nation جس میں عیسائیت پر اعتراضات کیے گئے ہیں یا برٹینڈ رسل کی کتاب Why I am not a Christian کو اچھی کتاب کہیں گی؟ یہ دونوں مجھے بہت پسند ہے۔ میرے نقطہ نظر میں یہ اچھی کتابیں ہیں لیکن یہاں صرف میرا نقطہ نظر کافی نہیں ڈھائی ارب سے زائد مسیحیوں کا نقطہ نظر بھی ہے۔

دنیا کی آبادی کا اسی فیصد سے زائد کسی نہ کسی مذہب سے ضرور تعلق رکھتا ہے۔ ان کے لئے رچرڈ ڈاکنز کی The God delusion یا سیم ہیرس کی کتاب دی اینڈ آف فیتھ یا اسی طبقے کا اسی موضوع پر دیگر لٹریچر قابل اعتراض ہو سکتی ہے۔

یہ چند مثالیں تھیولوجی سے اس کے علاوہ بھی اگر ہم جائزہ لیں تو یہ دنیا مختلف الخیال لوگوں کی مسکن ہے۔ دنیا کے تمام لوگوں کو کسی بھی معاملے ہر ایک نقطے پر متحد کرنا ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہر معاملے میں مختلف نظریات کو ایک دوسرے سے برسرپیکار دیکھتے ہیں۔ نظریات کی ترویج کا سب سے آسان اور مقبول طریقہ کتاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے۔ کتاب جہاں ایک نظریے کا پرچار کرتی ہے وہاں وہ دوسرے نظریے کو رد بھی کر رہی ہوتی ہے۔ سو اسی نظریے کے ماننے والوں کی نظر میں وہ کتاب ان کے لئے  زہر کی حیثیت رکھتی ہے۔

چند سال پہلے پنجاب میں بزدار حکومت نے بعض کتابوں پر پابندی لگائی تھی۔ کتابوں پر پابندی کی روایت اتنی پرانی ہے جتنی کتاب۔ اچھی چیز پر پابندی نہیں لگائی جاتی۔ قرون وسطی یا بعد میں نشاۃ ثانیہ کی ابتدائی دور کا یورپ اس حوالے سے کافی بدنام رہا ہے۔ پرنٹنگ پریس کی ایجاد سے جہاں کتابوں کی فراوانی ہو گئی ادھر نہ صرف کتابیں پابندی کا شکار رہی بلکہ مصنفین کو بھی زدوکوب کیا جانے لگا۔ بلکہ کتابیں لکھنے کی پاداش میں لکھنے والے جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھے۔

برطانیہ میں کتاب لکھنے پر آخری موت کی سزا 1663 جان ٹوائن کو ایک کتاب پبلش کرنے پر دی گئی تھی۔ کتاب میں لکھا تھا کہ بادشاہ عوام کے سامنے جواب دہ اور اگر جواب دہی سے انکار کریں تو عوام کو ان کے خلاف بغاوت کرنے کا حق ہیں۔ اب تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو ایک اچھی کتاب تھی لیکن اس وقت کی حکمران طبقے اور ان کے بیشتر رعایا کے لئے اس قسم کی کتاب قابل قبول نہیں تھی۔ ان کے لئے وہ کتاب ایک بری کتاب تھی۔

تو مدعا یہ ہے کہ جس طرح کتابیں اچھی ہوتیں ہیں اس طرح بری بھی ہوتیں ہیں۔ اور چونکہ میں خود سبجیکٹیوازم کا قائل ہوں سو یہی سمجھتا ہوں اچھا اور برا ہونے کا تعلق اسی سے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں! کس زاویے سے دیکھ رہے ہیں! جدھر ہمارا نقطہ نظر ہو گا ادھر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ دوسرے کیا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ ایک کتاب جو آپ سب لوگوں کے نظر میں بری ہو، میری پسندیدہ کتاب ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS