کیا آپ کسی جنگجو دہریہ کو جانتے ہیں؟
کووڈ وبا کا یہ نقصان ہوا کہ بہت سے لوگوں کا اپنے دوستوں سے ملنا کم ہو گیا اور وہ احساس تنہائی کا شکار ہو گئے۔ اب جبکہ کووڈ وبا کی پابندیاں ختم ہوئی ہیں تو زندگی دوبارہ ایک نئے نارمل کی طرف دھیرے دھیرے بڑھ رہی ہے۔ چنانچہ میں بھی اپنے ایک دلچسپ اور ذہین دوست سے کافی مدت بعد ملا۔
ڈنر کے دوران میں نے ان سے مسکراتے ہوئے پوچھا
بٹ صاحب آپ جو اپنے آپ کو MILITANT ATHEIST کہتے ہیں اور میرے ساتھ عالمی یوم الحاد منا رہے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ بھی شدت پسند روایتی مولویوں کی طرح دوسروں سے ہر وقت نظریاتی جنگ کے لیے تیار رہتے ہیں؟
بٹ صاحب نے زور دار قہقہہ لگایا اور فرمایا
نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔ میں جب کہتا ہوں کہ میں ایک میلیٹنٹ ایتھیسٹ ہوں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ میرا دہریہ ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا میں برسوں بلکہ دہائیوں اپنے مذہبی خیالات، اپنے مذہبی اعتقادات اور اپنی مذہبی روایات کے خلاف اپنے آپ سے جنگ لڑتا رہا ہوں۔ اس جنگ میں بہت سے ادیبوں اور دانشوروں نے میری رہنمائی فرمائی جن میں سقراط سے لے کر رچرڈ ڈاکنگز تک اور نیٹشے سے لے کر یووال ہراری تک سبھی شامل ہیں۔
آپ کو دہریہ ہونے کی کیا قیمت ادا کرنی پڑی؟ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
فرمانے لگے میں نے سچ بولنا اور دوستوں اور عزیزوں کی منافقت کو چیلنج کرنا شروع کیا تو وہ ناراض ہو گئے۔
سچ تو کڑوا ہوتا ہے سب کو ہضم نہیں ہوتا۔ میں نے لقمہ دیا اور پوچھا، "پھر آپ نے کیا کیا؟”
میں نے کتابوں سے دوستی کر لی اور انٹرنیٹ پر چند ایسے گروپ تلاش کیے جو آزاد خیال ہیں۔
آپ کو مجھ سے دوستی کا خیال کیسے آیا؟ میں متجسس تھا۔
ایک ہیومنسٹ گروپ میں میری ایک دہریہ سے ملاقات ہوئی اس نے مجھے بتایا کہ میں مارکھم میں جہاں رہتا ہوں وہیں قریب ہی ڈاکٹر سہیل بھی رہتے ہیں آپ ان سے ضرور ملیں چنانچہ میں نے آپ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
ملنے کا کچھ فائدہ بھی ہوا یا نہیں؟ میں نے شرارتا کہا
بہت فائدہ ہوا۔ بٹ صاحب بولے۔ مجھے نظریاتی سینگ اڑانے کا بہت شوق ہے۔ میں آپ سے اختلاف کرتا ہوں تو آپ برا نہیں مناتے۔ آپ مدلل بات کرتے ہیں۔ اس لیے میں اس مکالمے سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔
بٹ صاحب۔ میری نگاہ میں اختلاف رائے اور ذاتی دشمنی میں بہت فرق ہے۔
اختلاف رائے دوستی کے لیے بھی بہت اچھا ہے اور جمہوریت کے لیے اور بھی اچھا۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اختلاف رائے کو برداشت کرنا کم ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی حلقوں میں بھی اور سیاسی حلقوں میں بھی۔ مذہبی تنگ نظر کفر کے فتوے لگا دیتے ہیں اور سیاسی تنگ نظر غدار ہونے کے نعرے بلند کرنے لگتے ہیں۔
میں نے بٹ صاحب کو بتایا کہ میں ان کے مکالمے سے بہت محظوظ و مسحور ہوتا ہوں کیونکہ وہ صاحب علم بھی ہیں اور صاحب نظر بھی۔ ان سے مختلف مکاتب فکر کے فلسفیوں کے بارے میں بھرپور مکالمہ ہو سکتا ہے۔ ان کا مطالعہ بھی بہت وسیع ہے جس میں سائنس بھی شامل ہے نفسیات بھی سماجیات بھی شامل ہے اور اقتصادیات بھی۔
بٹ صاحب آپ نے یہ اپنے آپ سے جنگ لڑنا اور دوستوں سے نظریاتی سینگ اڑانا کہاں سے سیکھا ہے؟ میں نے بات آگے بڑھائی
اپنے والد سے۔ لیکن آج کل وہ بہت دکھی ہیں؟
وہ کیوں؟ میں متجسس تھا۔
ان کی عمر پچاسی برس ہے اور وہ نابینا ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے کتابیں نہیں پڑھ سکتے۔ میری ان سے بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں میرے بہت سے دوست فوت ہو گئے جو زندہ ہیں انہوں نے داڑھیاں بڑھا لی ہیں اور وہ حد سے زیادہ ہی روایتی و مذہبی ہو گئے ہیں۔ اب وہ اندھے ایمان پر یقین رکھتے ہیں اور سوال کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔ ان کا چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے اس لیے ان سے سنجیدہ مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ اب ان سے دل کی باتیں نہیں ہو سکتیں۔
میں انہیں فون کرتا ہوں اور ہم کسی نظریاتی اختلاف میں الجھ جاتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں کہتے ہیں بیٹا فون کرتے رہا کرو تم سے گفتگو کر کے میرے جسم اور دماغ میں پھر سے خون دوڑنا شروع ہو جاتا ہے اور میں دوبارہ زندہ ہو جاتا ہوں۔
پھر بٹ صاحب نے مجھے بتایا کہ انہیں بھی یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ وہ بھی کہیں اپنے والد صاحب کی طرح ایک دن اداس اور دکھی نہ ہو جائیں۔ ان کے اندر کی جنگ کی آگ کی لو کہیں کم ہونی شروع نہ ہو جائے اور ایک دن وہ بھی کسی سے نظریاتی سینگ اڑانے کے قابل نہ رہیں۔
پھر بٹ صاحب نے مجھ سے پوچھا
آپ تو مجھ سے پندرہ بیس برس بڑے ہیں کیا آپ کو اس کا خوف نہیں رہتا؟
نہیں بالکل نہیں؟
ایسا کیوں ہے؟
میں نے کہا کئی وجوہات ہیں اول یہ کہ اگرچہ میرے بہت سے ادبی دوستوں نے کچھ نیا لکھنا پڑھنا چھوڑ دیا ہے میں مذاق سے کہتا ہوں کہ ان پر CREATIVE MENOPAUSE آ گیا ہے لیکن میں اب بھی نئے خیالات سوچتا ہوں نئی کتابیں پڑھتا ہوں اور ’ہم سب‘ کے لیے نئے کالم لکھتا ہوں۔
دوسری بات یہ کہ میرے دوستوں کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے
اور تیسری بات یہ کہ میرے دوستوں کے حلقے میں اسی برس سے لے کر بیس برس تک کے مرد و زن شامل ہیں۔
بٹ صاحب میری باتیں سن کر حیران ہوئے۔ میں نے انہیں امید دلائی کہ اب ہم انٹرنیٹ کے دور میں زندہ ہیں۔ اب ہم سوشل میڈیا کی وجہ سے دوستوں کا حلقہ عالمی بنا سکتے ہیں اور جس سے چاہیں نظریاتی سینگ اڑا سکتے ہیں۔
میں نے بٹ صاحب کو عالمی یوم الحاد کی مبارک دی اور ہم اگلی ملاقات کا وعدہ کر کے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر رخصت ہوئے۔ میں نے ان کو نظریاتی جنگ کے جاری رہنے کی سیکولر دعا دی تو بہت خوش ہوئے۔
میں نے جب ان سے کہا آپ اتنے دلچسپ انسان ہیں کہ میں آپ کے بارے میں ایک کالم بھی لکھوں گا تو وہ ایک دفعہ قہقہہ لگا کر ہنسے۔ انہیں یقین نہ آیا کہ میں سنجیدہ ہوں یا مذاق کر رہا ہوں کیونکہ وہ میرے ’ہم سب‘ کے کالموں پر متواتر تنقید کرتے رہتے ہیں اور حیران ہوتے رہتے ہیں کہ میں ان کی تنقید کا برا منانے کی بجائے ہمیشہ مسکراتے ہوئے خیر مقدم کرتا ہوں۔
۔ ۔

