جسٹس منیر اور بابا جی کے جوتے


8نومبر 1954 پیر کا دن صبح کا وقت ہے کراچی کا موسم خوشگوار ہے، موسم سرما کی آمد آمد ہے شہر کے قلب میں واقع ایک دفتری عمارت کے عقبی دروازے سے ایک برقعہ پوش خاتون تیزی سے نکلتی ہے اور قریب ہی سواری کے انتظار میں کھڑے سائیکل رکشہ میں سوار ہو جاتی ہے۔ کچھ ہی دیر میں سائیکل رکشہ سندھ چیف کورٹ کی عمارت کے سامنے پہنچ کر رک جاتا ہے۔ برقعہ پوش خاتون رکشہ کا کرایہ ادا کر کے سندھ چیف کورٹ کی عمارت میں داخل ہو کر سیدھا لائبریری کا رخ کرتی ہے۔ لائبریری کے اندر پہنچ کر وہ اطمینان کا ایک گہرا سانس لیتی ہے اور برقعہ میں چھپائی گئی ایک فائل نکال کر چیف کو رٹ کے رجسٹرار کے حوالے کر دیتی ہے جو خاص طور پر لائبریری میں پہلے سے موجود تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ عورت اپنا برقعہ بھی اتار پھینکتی ہے تو یہ حیران کن عقدہ کھلتا ہے کہ وہ دراصل کوئی عورت نہیں بلکہ ایک مرد ہے۔

اس مرد کا نام منظر عالم تھا جو اس وقت ایک جونیئر وکیل تھا۔ کورٹ کے رجسٹرار تک پہنچنے کے لئے یہ پراسرار جاسوسی انداز اس لئے اختیار کیا گیا تھا کہ 4 2 اکتوبر 1954 کو پاکستان کی آئینی اسمبلی کو گور نر جنرل غلام محمد نے تحلیل کر دیا تھا اور اسمبلی کے سپیکر اور صدر مولوی تمیز الدین خان چیف کورٹ آف سندھ میں اس غیر آئینی کارروائی کے خلاف رٹ پٹیشن فائل کرنا چاہ رہے تھے۔ تمیزالدین خان اور ان کے ساتھیوں کو شک تھا کہ گورنر جنرل عدالت میں درخواست دائر کرنے سے روکنے کے لیے پولیس اور تمام متعلقہ انتظامی مشینری کو استعمال کریں گے۔ جب در خوا ست چیف جسٹس سر جارج کانسٹائین کے سامنے پیش کی گئی تو انہوں نے اس معاملے کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھتے ہوئے یہ درخواست اسی دن کے لئے عدالت کے کیلنڈر پر رکھ دی اور کیس سننے کے لئے فل بینچ بھی تشکیل دے دیا۔ دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد اس فل بنچ نے متفقہ طور پر مولوی تمیزالدین خان یعنی پارلیمنٹ کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

حکومت کی جانب سے چیف کورٹ آف سندھ کے فیصلے پر وفاقی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔ حکومت کی نمائندگی سرایڈورڈ ڈپلوک نے کی جو انگلستان کے مشہور و معروف اور بہت مہنگے وکیل تھے۔ مولوی تمیز الدین اور پارلیمنٹ کی طرف سے آئی آئی چندریگر پیش ہوئے۔ مولوی تمیز الدین کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ کوئی غیر ملکی مہنگا وکیل کر سکتے۔ مولوی تمیز الدین بنگال کی ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے سبب وہ سخت آزردہ تھے۔ ان کی ایک بیٹی رضیہ خان جو 1971 کے بعد سے بنگلادیش کی شہری تھیں۔ ان کا 2011 میں انتقال ہو گیا۔ وہ بنگلہ دیش کی ایک جانی پہچانی مصنفہ، شاعرہ اور ماہر تعلیم تھیں۔ اپنے والد مولوی تمیز الدین کے بارے میں وہ لکھتی ہیں کہ اس مقدمے کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے اپنا واحد زمینی پلاٹ بھی بیچ دیا تھا۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ اس کیس کے سلسلے میں والد صاحب کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سکندر مرزا اور ایوب خان ان کے پاس آئے تھے لیکن میرے والد نے دونوں کو سختی سے انکار کر دیا۔ سندھ چیف کورٹ میں مقدمہ جیتنے کے باوجود مولوی تمیزالدین خان سپریم کورٹ میں ہار گئے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مولوی تمیزالدین خان کی درخواست خارج کرنے کے لئے ایک مشکوک قسم کے نظریہ ضرورت کا سہارا لیا۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں کہ

اس قضیے کے دوران گورنر جنرل ہاؤس کے ایک سینئر افسر ہر دوسرے تیسرے دن لاہور اور کراچی کے درمیان سفر کرتے رہے تھے بعد ازاں یہ پتہ چلا کہ وہ گورنر جنرل کے خفیہ پیغامات چیف جسٹس تک اور چیف جسٹس کے خفیہ پیغامات گورنر جنرل تک پہنچاتے تھے۔ مولوی تمیز الدین کیس کا فیصلہ ان دونوں کے درمیان سازشی تال میل کا نتیجہ تھا۔ اس فیصلے کو پاکستان کے عوام اور جمہوری قوتوں نے ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے ہی دیکھا۔ اس فیصلے نے پاکستان میں فوج اور بیوروکریسی کو دو سازشی طبقات میں تبدیل کر دیا جو ہمہ وقت اپنے مفادات کی خاطر ہر قسم کا غلط کام کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ یاد رہے سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل صرف ایک عیسائی جج کارنیلیس نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ جب چیف جسٹس منیر پر ہر طرف سے مذمتوں کے ٹو کرے برسنے لگے تو انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر میں یہ فیصلہ نہ دیتا تو ملک افراتفری کا شکار ہو جاتا۔ کوئی بھی جج اپنے دیے ہوئے فیصلے کے متعلق کچھ بھی کہے تاریخ سچا فیصلہ خود صادر کر دیتی ہے۔

اے کے برو ہی جسٹس منیر کی قبر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جسٹس منیر کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ اس لیے بہت پریشان رہتے تھے کہ کوئی شخص ان کی قبر پر ہر ہفتے پھٹے جوتے رکھ جایا کرتا تھا۔ کافی تگ و دو کے بعد ایک بہت ضعیف آدمی کو پکڑ لیا گیا۔ جب اس سے پوچھا گیا بابا جی آپ یہ کام کیوں کرتے ہو تو بابا جی نے بتایا کہ جسٹس منیر نے میرے خاندان کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے۔ اس نے میرا گھر بار اور سب کچھ لٹ چکا ہے۔ میرے بے قصور جوان بیٹے کو ناحق موت کی نیند سلا دیا گیا، ۔ بابا کے مطابق جسٹس منیر نے خاندانی دشمنی میں مجھے برباد کر دیا۔ اب اپنے آپ کو سکون دینے کے لیے میں جسٹس منیر کی قبر پر جوتا نہیں مارتا بلکہ صرف رکھ جاتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میرا رکھا ہوا جوتا اسے فرشتے مارتے ہیں۔ دوسری طرف مولوی تمیز الدین خان کی بیٹی لکھتی ہیں کہ میں جب اپنے والد کی پرانی تصویری البم کے صفحات پلٹتی ہوں تو انہیں امریکی سپریم کورٹ کی سیڑھیوں پر کھڑا دیکھتی ہوں جہاں ان کا استقبال اس وقت کے امریکی چیف جسٹس ارل ڈونلڈ کر رہے ہیں۔ ایک دوسری تصویر میں امریکہ کے انڈر سکریٹری آف اسٹیٹ جناب جیمز گرانٹ ان کے سر پر چھتری پکڑے اس وقت کھڑے نظر آتے ہیں جب وہ واشنگٹن کے ائرپورٹ پر اتر رہے تھے اور ہوائی اڈے پر بارش ہو رہی تھی۔ ایک تیسری تصویر میں ان کو ایک تقریب میں واشنگٹن کے مئیر شہر کی چابیاں پیش کر رہے ہیں۔

مولوی تمیز الدین نے 71 برس کی عمر پائی اور 1963 میں اس دار فانی سے کوچ کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی تحلیل کے خلاف مقدمہ لڑا۔ وہ سپریم کورٹ میں مقدمہ ہار گئے لیکن تاریخ نے ان کو فاتح قرار دیا۔ چیف جسٹس منیر نے اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار دیا اور پارلیمان کے قاتل بظاہر جیت گئے۔ تاہم، تاریخ نے اپنے صفحات میں ان کے نام سیاہ الفاظ میں درج کر لیے۔

پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ اسمبلی توڑنے والوں کو کبھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاتا بلکہ ہر بار کسی جسٹس منیر کا ظہور ہوتا ہے اور وہ اسمبلی شکن کو فاتح قرار دے دیتا ہے۔

Facebook Comments HS