اسرائیل پر عالمی تبدیلیوں کے اثرات


سیاسی، اقتصادی اور فوجی لحاظ سے دنیا کا سب سے طاقتور ملک اسرائیل اس وقت عالمی سطح پہ رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث ایسے داخلی تضادات میں الجھ گیا، جس کے اثرات مڈل ایسٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی بالادستی کے تصور کو گہنا سکتے ہیں، بظاہر یہی لگتا ہے کہ اسرائیلی مقتدرہ مغرب کی افسردہ کن جمہوریت سے جان چھڑا کر چین کی اس توانا استبدادیت کی طرف بڑھنا چاہتی ہے جس نے یک جماعتی ڈھانچہ کے ذریعے بیرونی مداخلتوں اور داخلی انتشار پہ قابو پاکر اقتصادی ترقی کا بے مثال ماڈل تیار کیا، چین میں جہاں یہودیوں کی ملٹی نیشنل کمپنیاں پچھلی چار دہائیوں سے بڑے پیمانے کی سرمائی کاری کر رہی تھیں وہاں اسرائیلی تھنک ٹینک 1980 کی دہائی میں سوشلسٹ چین میں نافذ کی جانے والی معاشی اصلاحات اور نیو اتھاریٹرین سسٹم کے مطالعہ میں بھی مصروف تھے، جس کے نتیجہ میں اسرائیلی ریاست نے جمہوریت کا ہاتھ جھٹک کے اپنے سیاسی اور اقتصادی ڈھانچہ کو چین کے جدید استبدادی نظام کے مطابق ڈھالنے کی منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے عدالتی اصلاحات کے ذریعے اختیارات کے منقسم نظام کو ایک مرکز پہ مرتکز کرنے کی مساعی کا آغاز کرنا چاہا لیکن مغربی اشرافیہ اس دولت مند اقلیت کو جمہوریت کے طلسماتی جال سے نکلنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

سوموار کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا اتحاد اس وقت افراتفری کا شکار ہو گیا، جب وزیر دفاع کی برطرفی کے خلاف ملک گیر مظاہرے پھوٹ پڑے۔ نیتن یاہو گورنمنٹ کی اتھارٹی کو موثر اور ریاستی ڈھانچے کو زیادہ مربوط بنانے کی خاطر ایسی عدالتی اصلاحات لانے چاہتے ہیں جسے مخالفین ”جمہوریت“ کے لئے خطرہ قرار دے کر مزاحمت پہ اتر آئے ہیں۔ بلاشبہ تقسیم اختیارات کا موجودہ جمہوری نظام دراصل جمود ( سٹیٹس quo) قائم رکھنے کا وہ سنہرا جال ہے جسے توڑ کر ارتقا کی طرف بڑھنا، جال میں پھنسے شہریوں کو مشتعل کر دیتا ہے۔

چنانچہ بڑے پیمانہ پہ بھڑک اٹھنے والے مظاہروں اور قوم پرست مذہبی اتحاد کے ٹوٹنے کے خطرہ کے پیش نظر نتن یاہو نے وقتی طور پہ قانون سازی کا ارادہ ملتوی کر دیا، حکمران لیکوڈ پارٹی کے قانون سازی میں شریک ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ وزیراعظم اوور ہال کو معطل کر دیں گے، جس نے اسرائیلی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہروں کو انگیخت دے کر مملکت کو بدامنی کی آگ میں دھکیل دیا۔ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے ”شرم کرو، شرم کرو!“ کے نعروں کے ساتھ بل کی حمایت کرنے والے کمیٹی کے چیئرمین سمچا روتھمین پر حملہ کر دیا اور بل کا موازنہ عسکریت پسند اسلامی گروپوں کی یلغار سے کرتے ہوئے اسے ریاست پر دشمنانہ قبضہ کے مترادف قرار دیا، ممبران نے کہا نتن یاہو کے ہوتے ہوئے حماس اور حزب اللہ کی ضرورت نہیں تاہم اسی گتھم گتھا کے باوجود جب وزیر خزانہ بیذلیل سموٹریچ نے 2023 / 24 کا بجٹ ابتدائی ووٹنگ کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا تو حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کو شکست ہوئی۔

حکمران اتحاد کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بینگویر نے ٹویٹ کیا کہ ہمیں انارکی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیں، نہ عدلیہ میں اصلاحات کو روکنا چاہیے۔ لیکن اس وقت بین گوریون ہوائی اڈے سے ٹیک آف معطل اور اسرائیلی اہم بندرگاہوں، بینکوں، ہسپتالوں اور طبی خدمات کے اداروں میں ہڑتالیں اور میکڈونلڈز کی تمام شاخیں بند کر دی گئیں گویا احتجاج نے پوری معیشت کو لپیٹ لیا۔ ہسٹادرٹ کے چیئرمین آرنون بار ڈیوڈ نے کہا ”ملکی حالات کو نارمل کریں اگر اصلاحات واپس لینے کا اعلان کر کے حکومت نے ارادہ نہ بدلا تو صورت حال مزید خراب ہو جائے گی۔

وسیع تر داخلی اور عالمی دباؤ کے بعد وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ عدلیہ کو تبدیل کرنے کا منصوبہ مہینوں کے احتجاج، بڑھتی ہوئی مزدور ہڑتالوں اور اپنی حکومت کے اندر سے مخالفت کے باعث مؤخر کیا جا رہا ہے۔ نیتن یاہو نے پیر کو قوم سے خطاب میں کہا“ بات چیت کے ذریعے خانہ جنگی سے بچنے کا موقع ملے تو بطور وزیر اعظم اسے ترجیح دوں گا۔ تاہم انہوں نے عدالتی اصلاحات کو منظور کرنے کے موقف پہ قائم رہتے ہوئے اس معاملہ میں وسیع تر اتفاق رائے حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا، تاخیر سے مراد ہے، بل کو اپریل کے آخر تک پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے نہیں رکھا جائے گا۔

خطاب کے فوراً بعد ، ملک کی سب سے بڑی مزدور یونین ہسٹادرٹ نے کہا، وہ عام ہڑتال ختم کر رہے ہیں لیکن وزیر اعظم کے خطاب سے قبل ہی مخالفین نے کہہ دیا تھا کہ، تاخیر اور عارضی انجماد کافی نہیں، اپوزیشن مذاکرات میں صرف اس صورت شریک ہو گی، جب پارلیمنٹ اصلاحاتی بل کو مکمل طور پر رد کر دے گی کیونکہ اس وقت قانون سازی کا عمل ایسے مرحلہ میں ہے جہاں نیتن یاہو اگر چاہیں تو اسے بحال کر کے ایک دن سے بھی کم وقت میں منظور کرا سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ”صدر جو بائیڈن اپنے خدشات نیتن یاہو پہ واضح کر چکے ہیں“ ۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا۔ ”یہ ضروری ہے کہ مشترکہ جمہوری اقدار جو برطانیہ، اسرائیل تعلقات کی بنیاد ہیں، کو قائم اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو محفوظ رکھا جائے“ ۔ اصلاحاتی منصوبوں پر عوامی جدوجہد اسرائیلی معاشرے میں حکومت کے حامیوں کے درمیان بھی گہری تقسیم کو ظاہر کرتی ہے، کچھ لوگ عدالتی تبدیلیاں کو ضروری قرار دے کر حمایت کرتے ہیں لیکن نیتن یاہو کے منصوبے کے مخالفین مصر ہیں کہ ان اقدامات سے عدلیہ کمزور اور اسرائیل کو آمریت میں بدل دیا جائے گا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ رپورٹ کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو شدید عوامی دباؤ کے باعث اپنے وزرا کے اصرار کے باوجود اصلاحاتی منصوبے کو روکنے کا اعلان کر دیں گے۔ بظاہر نیتن یاہو کی جانب سے وزیر دفاع یوو گیلنٹ کی برطرفی کو وزیر اعظم اور ان کے اتحادی کی طرف سے اسی ہفتے اوورہال پلان کی منظوری کا اشارہ سمجھا گیا، یووگیلنٹ حکمران لیکوڈ پارٹی کے پہلے سینئر رکن ہیں جنہوں نے اصلاحات کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے، گہری تقسیم سے فوج کے کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جس کے بعد رات گئے ہجوم سڑکوں پر آ گئے، جس پر لیکوڈ پارٹی کے وزرا نے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر آمادگی ظاہر کی۔

نیتن یاہو نے گیلنٹ کو برطرف کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب بحریہ کے سابق ایڈمرل نے ہفتے کے روز اس انتباہ کے ساتھ، کہ اوور ہال منصوبہ سے ریاستی سلامتی خطرات میں الجھ گئی، اصلاحات روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنی برطرفی کے تھوڑی دیر بعد ، 64 سالہ گیلنٹ نے ٹویٹر پر لکھا ”اسرائیلی ریاست کی سلامتی ہمیشہ میری زندگی کا مشن رہی اور رہے گی“ ۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں یائر لاپڈ اور بینی گینٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ”نیتن یاہو نے سرخ لکیر عبور کر لی کیونکہ سیاسی کھیل میں ریاستی تحفظ ممکن نہیں ہوتا، انہوں نے لیکوڈ پارٹی کے ممبران سے مطالبہ کیا کہ وہ قومی سلامتی کو “ کچلنے ”میں حصہ دار نہ بنیں۔

نیویارک میں اسرائیل کے قونصل جنرل نے کہا کہ وہ گیلنٹ کی برطرفی پر مستعفی ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کی تحقیقی یونیورسٹیوں نے اعلان کیا کہ وہ قانون سازی کے دباؤ کی وجہ سے کلاسز کا انعقاد روک دیں گے۔ یہ آئینی بحران، اس قانون سازی کے نازک مرحلہ پر پیش آیا، جس میں اصلاحاتی بل کے ذریعے ججوں کی تقرری پر ایگزیکٹو کو کنٹرول دینے کے لئے اس پارلیمنٹ کی توثیق حاصل کرنا تھی، جہاں نیتن یاہو اور ان کے اتحادی 120 میں سے 64 نشستوں پر قابض ہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے، یہ منصوبہ، جو پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم کرنے کا اختیار دیتا ہے، عدالتی اور انتظامی شعبوں کے درمیان توازن پیدا کر کے اس منفی رجحان پر روک لگائے گا جسے وہ مداخلت پسند عدالت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت جو کرنا چاہتی ہے وہ یہ نہیں کہ وہ عدالتی نظام کو درست یا زیادہ منصفانہ بنانے کے لئے اس میں مناسب ترمیم کرے بلکہ اس کے برعکس وہ عدالتی نظام پر مکمل کنٹرول چاہتے ہیں۔

اسرائیلی سیاست دان اور بائیں بازو کی ہداش پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اوفر کاسف نے کہا“ نیتن یاہو اسرائیل کو یک نسلی استبداد سے بدلنا چاہتے ہیں کیونکہ میری نظر میں اسرائیل کبھی بھی جمہوریت نہیں رہا کیونکہ یہ ریاست یہودیوں کی بالادستی پر مبنی ہے، اس لیے اسے پہلے سے جمہوریت کے طور پر نہیں مانا جا سکتا، اوفر کاسف کا تجزیہ حقیقت سے زایدہ قریب ہے جو چینی ماڈل استبداد کی طرف بڑھتی اسرائیلی ریاست کے عزائم کی درست تشریح کرتا ہے، شاید اسی لئے یروشلم کے ایک مغرب نواز تھنک ٹینک، اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو، گائے لوری کہتے ہیں کہ موجودہ تیز رفتار قانونی اور سیاسی پیش رفت اسرائیل کو مغرب سے الگ کر دے گی۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ”ہم اس لحاظ سے آئینی بحران کے آغاز پر ہیں کہ مختلف گورننگ باڈیز کے اختیارات کے ماخذ اور قانونی حیثیت پر اختلاف پیدا ہو گیا“ ۔

اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ فعال ججوں کو لگام دے کر منتخب حکومت اور عدلیہ کے درمیان توازن قائم رکھنا ناگزیر ہے لیکن مخالفین اسے قانونی چیک اینڈ بیلنس کو کمزور اور جمہوریت کے لئے خطرہ باور کرتے ہیں

Facebook Comments HS