پاکستانی طبعیات اور مابعد الطبعیات

پاکستان میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں ایک وہ ہیں جو اپنے سماجی ’فوائد‘ خصوصاً معاشی اور سماجی حیثیت کی وجہ سے وہاں پر رہتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ دنیا کہ کسی اور ملک میں انہیں اس قسم کا سماجی رتبہ اور مالی فائدہ نصیب نہیں ہو گا اور دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنے معاشی اور خاندانی ’مسائل‘ کی وجہ سے وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ایک پاؤں پر اس ملک کو چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں مگر چاہنے کے باوجود وہاں سے نکلنے میں ناکام ہیں۔
مگر یہ دونوں طرح کے لوگوں کی آبادیاں اپنی اپنی خواہشوں اور مجبوریوں کو چھپانے کے لیے وطن پرستی، مذہب پرستی اور روایت پرستی کا نعرہ لگاتے ہوئے پاکستان میں ہی رہتی ہیں۔ ہاں، اگر کسی وجہ سے پہلے طبقے کی مالی یا سماجی حیثیت بدقسمتی سے ان سے چھن جائے یا اگر دوسرے طبقے کو خوش قسمتی سے پاکستان سے نکلنے کا موقع مل جائے تو وہ پاکستان سے باہر نکل کر پھر وہی پاکستان سے محبت کے راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔ وہ پاکستان واپس جاکر وہاں دوبارہ رہنے کے ’علاوہ‘ اپنے ’پیارے وطن‘ پاکستان کی محبت میں کچھ بھی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور ہاں، اگر کوئی بڑا فائدہ اپنے وطن میں نظر آئے تو وہی وطن پرستی اور قوم پرستی کے نعرے لگاتے ہوئے فوراً واپس بھی چلے جاتے ہیں۔
اب سوال یہاں سادا سا یہی ہے کہ کیا یہ راگ واقعی میں راگ محبت ہے یا محض ایک عادت یا یہ پاکستان میں مجبوری یا خود غرضانہ خواہش سے رہنے والوں کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ٔ ہے؟ کیا یہ بے وفائی پاکستان کے مکینوں کا قصور ہے یا یہ خود پاکستان کا ہی قصور ہے جو اپنے آنگن میں رہنے والوں کو بسانے میں سراسر ناکام رہا ہے؟
آئیں پاکستان کے پس منظر میں کسی بھی وطن اور وہاں بسنے والے فرد کے درمیان پائے جانے والے اس ربط یا تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اس قوم پرستی اور وطن پرستی کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اور اس قسم کی ’پرستش‘ ایک فرد کی نفسیات میں کس طرح سے اپنی جگہ کا تعین کرتی ہے؟
قوم پرستی اور وطن پرستی دو مختلف الفاظ ہیں مگر ہم معنی سمجھے جاتے ہیں۔ وطن پرستی یعنی پیٹراٹرزم سے مراد وطن کی روایتوں، وہاں کی تہذیب، زبان اور معاشرے، آب و ہوا، گلی کوچوں، رہن سہن، صبح و شام سے مجموعی پیار و محبت ہے یعنی اس میں ایک سکون، امن و آتشی اور ایک ٹھنڈک کا سا احساس ہے جبکہ قوم پرستی یا نیشنل ازم سے مراد ان ہی احساسات کے پس منظر میں اپنے وطن کی بڑائی اور ایک غرور کا تصور ہے یعنی اس میں خود کو اور قوموں سے اعلی سمجھنے، ایک جوالہ مکھی، حسد، جلن اور ایک تعصب کی گرمی کا احساس ہے۔
عمومی طور پر یہ دونوں ہی جذبات دنیا کی ہر قوم کے انسانوں میں پائے جاتے ہیں مگر ان کی کمی یا زیادتی کا تعلق ان انسانوں کی فطری نفسیات اور سماجی بلوغت پر انحصار کرتی ہے۔ کئی صورتوں میں بہت سے انسان ان دونوں جذبات کے فرق سے قطعی ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں محض ایک ہی فطری اور مقدس جذبہ سمجھتے ہیں گو کہ ایسا ہر گز نہیں ہے کیونکہ وطن پرستی کسی حد تک فطری اور مثبت احساس ضرور ہے مگر قوم پرستی ایک سراسر مصنوعی جذبہ ہے۔ ایک وطن ان دونوں جذبات کی شدت سے ہی اپنے مکینوں کو خود سے باندھ کر رکھتا ہے۔
یوں اگر دیکھا جائے تو ہر ایک وطن کی بھی اس میں بسنے والے انسانوں کی طرح اپنی ایک ’طبعیاتی‘ اور ایک ’مابعد طبعیاتی‘ ساخت ہوتی ہے۔ اگر ہم وطن پرستی اور قوم پرستی کی نفسیات کو اس وطن اور اس میں بسنے والوں کی مابعد الطبعیاتی ساخت سے تعبیر کریں اور اس وطن کے زمینی حقائق یعنی داخلی و خارجہ پالیسیز، قوانین، تعلیم و صحت اور دیگر سماجی نظام کو اس کی طبعیاتی ساخت کے طور پر لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں ساختوں کا آپس میں رشتہ براہ راست تناسب کا ہے یعنی اگر طبعیاتی ساخت بہتر ہوگی تو مابعد الطبعیاتی ساخت یعنی اس کے ایسینس میں اضافہ ہو گا۔
ان دونوں ساختوں کا مجموعی توازن ہی اس کے مکینوں کو خود میں بسنے یا آباد رہنے پر بخوشی راضی کر سکتا ہے دوسری صورت میں وہاں کے مکین اپنی طبعیاتی زندگی کو مابعد الطبعیاتی تصورات پر فوقیت دیں گے مگر پھر جب وہ اپنے وطن سے نکل کر کسی اور وطن میں بس جائیں گے تو غیر ارادی طور پر اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہوئے ملیں گے۔ ہاں، اگر کبھی یہ توازن کسی ایک رخ پر زیادہ نظر آئے تو اس کی وجہ ان انسانوں میں وطن پرستی سے زیادہ قوم پرستی کا پایا جانا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایسے لوگ یوں تو دوسرے ممالک میں اپنی زندگی عیش و آرام کے ساتھ گزارتے ہیں مگر اپنی قوم پرستی کے جذبات کی وجہ سے اپنے نئے ملک اور وہاں کی عوام کے ساتھ ایک مسلسل غصے، جلن اور نفرت کے احساس وغیرہ کے ساتھ ہی زندگی گزارتے ہیں۔
جہاں تک وطن پرستی کا تعلق ہے، یہ ایک فطری جذبہ ضرور ہے مگر وطن سے ماں جیسی بیالوجیکل محبت کا تعلق اسی جینیٹک میپنگ سے ہے جو مصنوعی طور پر صدیوں سے نسل در نسل ایک خاندان، رسوم و رواج، مذہب اور تہذیب سے وابستگی کے نتائج میں انسانوں کے خلیات میں پیدا ہوتی ہے یعنی اس میں اور قوم پرستی میں فرق صرف وقت کے دورانیہ اور گرد و پیش و ماحول کے اثر کا ہی ہے۔ قوم پرستی دراصل ایک جذباتی ابال کی طرح ہوتی ہے اس لیے یہ عموماً نوجوانوں اور سیاسی نا بالغوں میں پائی جاتی ہے جس کی بے انتہا منفی طاقت کی وجہ سے اسے کسی بھی ملک کی استحصالی سیاسی قوتیں اپنے مصرف کے لیے باآسانی استعمال کر لیتی ہیں اور عموماً کرتی بھی رہتی ہیں جبکہ وطن پرستی کا تعلق انسانیت سے ہے یہ جذبہ جب وسعت اختیار کرتا ہے تو کسی بھی وطن میں بسنے والے لوگوں سے رنگ، نسل، مذہب اور قومیت کے عمومی تصور سے بالاتر ہو کر محبت کا ایک گہرا اور طویل رشتہ قائم کر لیتا ہے۔
وہ ملک بلاشبہ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں ایسے ایماندار سیاسی لیڈرز نصیب ہوتے ہیں جو وطن اور قوم پرستی جیسے مابعد الطبعیاتی جذبات کو اپنے سیاسی عزائم میں استعمال کرنے کے بجائے وہاں کی طبعیاتی ساخت یا زمینی حقائق پر توجہ کرتے ہیں اور حقیقت میں اس کی بہتری کے لیے تگ دو کرتے ہیں کیونکہ ایسینس کی بہتری مٹیریل کی بہتری پر ہی انحصار کرتی ہے نہ کہ وطن پرستی اور قوم پرستی کے نعروں سے وطن کی ساخت بہتر ہوتی ہے۔
کاش پاکستان کو بھی نعرے اور بیان بازوں کے بجائے عملی طور پر بہتر بنانے والے لیڈر نصیب ہوجائیں۔

