نفسیات کی رصدگاہ سے: ذہنی امراض کا علاج اور سیلف ہیلپ (5)


ذہنی صحت کے سلسلہ کے مضامین پڑھ کر عوام الناس سوال کرتے ہیں کہ ان کا علاج کس طرح ہوتا ہے؟

اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ علاج اس وقت ہوتا ہے جب مرض موجود ہوتا ہے۔ یعنی ہم بیمار ہوتے ہیں تو سب سے پہلے اس بیماری سے آگاہی ہوتی ہے جو مختلف علامات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے مثلاً بخار، فلو، درد، دست آنا، قے وغیرہ۔ ہم جسمانی درد سے گزرتے ہیں اور درد کی شدت اور دیگر علامات جسمانی ظاہر ہوتی ہیں اور ہم ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں۔ ڈاکٹر چیک کر کے اور مختلف قسم کے لیبارٹری ٹیسٹوں سے گزار کر فوراً علاج شروع کر دیتا ہے۔ جسمانی امراض کے ضمن میں یہ بہت آسان ہوتا ہے۔ مریض، خاندان والے اور دیگر متعلقہ لوگ سب ایک پیج پر ہوتے ہیں اور اگر وسائل محدود بھی ہوں تو علاج کے لیے انتظامات کئیے جاتے ہیں۔ حتی کہ کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں جن میں مایوسی کا عنصر بھی ہو تب بھی علاج آخری سانس تک کروایا جاتا ہے۔

لیکن ذہنی امراض کا معاملہ مختلف ہے۔
ذہنی امراض کے ضمن میں تین وجوہات رکاوٹ بنتی ہیں :

اول۔ مریض کو خود علم نہیں ہوتا کہ اسے ذہنی امراض میں سے کوئی ایک یا زیادہ مسائل درپیش ہیں۔ اس کی وجہ ذہنی امراض سے آگاہی کا نہ ہونا ہے۔ بلکہ بہت سے تعلیم یافتہ افراد بھی مینٹل ہیلتھ کے مسائل اور بیماریوں کے بارے میں جانکاری نہیں رکھتے۔ اور بہت سے کیسز میں عام معالج بھی درست رہنمائی سے قاصر رہتے ہیں۔

دوم۔ اگر عام معالج مریض کی تشخیص کر کے اسے نفسیاتی معالج یعنی سائیکیاٹرسٹ، سائیکولوجسٹ یا تھراپسٹ کو ریفر کر بھی دے تو مریض خود یا اس کے خاندان والے اس کو نفسیاتی علاج کے لیے لے کر نہیں جاتے۔ اس کی بھی چند وجوہات ہیں :

ایک تو مریض علاج کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یا۔

خاندان کے لوگ نفسیاتی علاج کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی بھی وجوہات ہیں کہ اولا وہ بھی ذہنی علاج کی اہمیت سے واقف نہیں ہوتے،

مریض کے بیمار رویوں کو بیماری نہیں سمجھتے
یا بہت چانسز ہوتے ہیں کہ وہ ادویات سے گھبراتے ہیں۔
تیسرے علاج کی طوالت اور علاج کا مہنگا ہونا بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے

چوتھی وجہ یہ ہے کہ آبادی کی اکثریت ذہنی امراض سے آگاہی رکھتی بھی ہے تو سماجی خوف یعنی سٹگما یا کلنک کا ٹیکہ سمجھ کر ذہنی امراض کو چھپایا جاتا ہے۔ جس میں ہمارے معاشرے میں سب سے بڑا خوف شادی نہ ہونے کا ہے۔ جبکہ یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ایک نفسیاتی مریض شادی کے بعد بہت سے مزید لوگوں کے لیے اذیت بن سکتا ہے اس کے بیمار رویے اور کردار دوسرے لوگوں کو بھی ذہنی مریض بنا سکتے ہیں۔ یعنی اگر ایک عورت /مرد کسی بھی ذہنی مرض میں مبتلا ہے تو اس کے کرداروں اور بیمار رویوں سے ان کے بچے بھی نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن سکتے ہیں۔

ایسے والدین جن کے بچے مینٹل ہیلتھ کے مسائل کا شکار ہیں ان کی شادیوں کو حل سمجھتے ہیں یا وہ خود بھی اپنے ذہنی بیمار بچوں کی شادیاں کر کے انہیں اپنے سر سے اتارتے ہیں اور یہاں سماجی غیر اخلاقی رویے دیکھنے میں آتے ہیں کہ والدین شادیاں کرتے وقت اپنے بچوں کی مینٹل ہیلتھ کے مسائل کو چھپاتے ہیں اور یوں ایک اور خاندان اذیت کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔

ان تین یا تین سے زیادہ رکاوٹیں بھی ہو سکتی ہیں۔

مثلاً لوگ ذہنی امراض کو گناہ، آسیب اور جن بھوت کا قبضہ یا جادو ٹونے کا اثر سمجھتے ہوئے یعنی توہم پرستی کی وجہ سے پیروں فقیروں کی جانب رجوع کرتے ہیں۔

لیکن اب ہم بات کریں گے کہ جب اگر سائنسی بنیادوں پر نفسیاتی علاج کروانے کا ارادہ کر لیا جاتا ہے تو اس سے پہلے ہمیں جان لینا چاہیے کہ نفسیاتی علاج کے کتنے مراحل ہیں جن سے گزرنا پڑتا ہے اور ہر مرحلے کو کامیابی سے مکمل کرنا ہے۔

ذہنی امراض کے علاج کے مراحل :
پہلا مرحلہ :۔ سیلف ہیلپ یا اپنی مدد آپ
دوسرا مرحلہ :۔ فیملی سپورٹ یا خاندان کا تعاون
تیسرا مرحلہ :۔ پروفیشنل ہیلپ بذریعہ ہسپتال داخلہ۔
چوتھا مرحلہ:۔ فالو آپ اور ہمیشہ نفسیاتی معالج سے رابطہ رکھنا اور مشاورت لیتے رہنا
پانچواں مرحلہ :۔ بحالی کے پروگرام اور نارمل زندگی کی طرف آنا۔
آج کے مضمون میں پہلے مرحلے کے بارے میں ہے۔
سیلف ہیلپ:

نفسیاتی علاج میں سب سے آئیڈیل صورتحال یہی پہلا مرحلہ ہے۔ جس میں مریض رضا کارانہ طور پر خود قدم بڑھاتا ہے۔ یہ مریض، خاندان اور معالج کی خوش قسمتی کا مرحلہ ہے جہاں سب مراحل آسانی سے طے ہوتے چلے جاتے ہیں اور فرد صحت مند ہو کر نارمل زندگی میں واپس آ جاتا ہے۔ یہ خوش قسمت صورتحال بہت شاذ ہی ملتی ہے۔ اس میں مریض چاک چوبند ہوتا ہے، اپنے رویوں پر اور کرداروں پر نظر رکھتا ہے، اسے مینٹل ہیلتھ کے بارے میں

آگاہی ہوتی ہے۔

اکثر مریض تعلیم یافتہ اور شعور رکھتے ہیں۔ اور ذہنی مسائل کو بھی جسمانی بیماریوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ اور یقیناً وہ اپنے معاملات کی طرح اپنی ذہنی صحت کے بارے میں آزادانہ فیصلے اور علاج کے لئے اخراجات بھی برداشت کر سکتے ہیں۔

اس خوش قسمت مرحلے کو خوش قسمت بنانے میں ایک اہم بات سامنے آئی ہے کہ یہ سمجھ دار مریض انسان دوست ہوتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کے بیمار رویوں، کرداروں اور الجھنوں کی وجہ سے ان کے گھر والے یا دوسرے متعلقہ لوگ الجھن میں پڑ کر اذیت اٹھائیں۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ان کی الجھی اور بیمار ذہنی کیفیتیں ماحول کو ٹاکسک بنائیں۔

چنانچہ یہ باشعور، انسان دوست مریض علاج کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔
اس ضمن میں نفسیات کی رصدگاہ سے ایک کیس بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ ایک مریضہ بتاتی ہیں کہ۔
” میں ایک پڑھی لکھی برسر روزگار خاتون تھی۔ شادی سے پہلے مجھے کچھ نفسیاتی مسائل کا سامنا تھا اور میں ادویات استعمال کر رہی تھی۔ میرے والدین میری شادی پر مصر تھے جبکہ میں پس و پیش کر رہی تھی۔ لیکن میرے والدین کے اصرار پر میری شادی ہو گئی اور شادی کے وقت میرے والدین نے مجھے علاج بند کرنے کو کہا اور مجھے بھی اپنی بیماری کو چھپانے کو کہا۔ میں عرصہ تک بغیر علاج کے اپنے آپ کو کنٹرول کرتی رہی اور شادی کو کامیابی سے چلانے کی کوشش کرتی رہی۔ بچے بھی پیدا ہوئے۔ سب کچھ اچھا تھا لیکن بچوں کی پیدائش کے بعد میری دبی ہوئی نفسیاتی الجھنیں ایسے رویوں اور کرداروں میں ظاہر ہونے لگیں جو دوسروں کو بھی نہ صرف نظر آنے لگیں بلکہ ماحول میں کشیدگی پیدا کر کے میرے بچوں پر بھی منفی طور پر اثر انداز ہو رہی تھیں۔ یہی وہ مقام تھا کہ میں نے اپنے ہنستے کھیلتے گھر اور دوسروں کے سکھ کی خاطر اپنے شوہر کو اعتماد میں لے کر بات کی کہ میں اپنا رکا ہوا علاج کروانا چاہتی ہوں۔ میں خوش قسمت تھی کہ میرے شوہر بھی باشعور تھے اور ہم نے فیملی کے باقی افراد سے بات کی اور اپنے جی پی سے ساییکیا ٹرسٹ کا ریفرل لیا جہا‌ں پہلے ادویات کا استعمال ضروری تھا۔

میں ہر دوا کے فوائد اور سائڈ ایفیکٹ پر اپنے معالج سے بات کرتی اور ہر قدم پر اس کے مشورے پر عمل کرتی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر ہی دوا چھوڑتی۔ ایک مقام پر ہسپتال میں بھی داخل ہونا پڑا جس کو میں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ ہسپتال میں قیام کے دوران اگرچہ شدید بیماری ہونے کے باوجود شعوری کاوشوں سے ڈاکٹروں اور عملے کے ساتھ تعاون کیا جس کی وجہ سے سپورٹ گروپ میں مجھے عقلمند اور تعاون کرنے والی مریضہ کا سرٹیفکیٹ ملا۔

ہسپتال کے بعد بھی علاج چلتا رہا۔ ہر سیشن میں مجھے سائیکو تھیراپی کا وقت بھی دیا جاتا۔ آہستہ آہستہ میری ادویات بھی کم ہوتی چلی گئیں اور میں صحت کی طرف گامزن تھی۔

ابتدا میں مجھے ہر ماہ نفسیاتی معالج کے پاس جانا ہوتا تھا لیکن رفتہ رفتہ اس میں کمی آتی گئی۔ اب میں برائے نام ادویات لیتی ہوں اور اس مقام پر ہوں کہ اپنے گھر والوں کے لیے کسی تکلیف کا باعث نہیں۔ میں نے تھیراپی کے ذریعہ اپنے کرداروں اور منفی رویوں پر قابو پانے کے طریقے سیکھے اور اب خود اپنی مدد آپ کے ذریعہ بے ضرر زندگی گزار رہی ہوں۔ اور اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے علاوہ نارمل سوشالائزیشن اور مشاغل میں بھی دلچسپی لیتی ہوں ”

Facebook Comments HS