چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے


میری آنکھ نے جب اس دنیا کے تصور کو محسوس کیا تو میں نے اپنے آپ کو اس سرسبز و شاداب اور مضبوط شجر کی بانہوں میں پایا۔ وقت کے ساتھ میرا قد جتنا بھی بڑا ہوتا گیا، اوپر دیکھنے میں میرا سایہ وہی ایک شجر تھا۔ جب آسمان میں اپنے پروں کو پھیلا کر اڑنے کا وقت آیا تو کئی سالوں میں حاصل کی گئی اپنی بلند چوٹی کو اس شجر نے ایک ہی لمحے میں میرے قدموں کے سپرد کر دیا اور میں اس کی بلندیوں کی آنکھ سے اپنی اڑان کی ابتدا کو دیکھنے اور سمجھنے لگا۔

جب اس کی چوٹی سے دنیا کو دیکھتا تو ساری دنیا سمٹ کر اتنی چھوٹی محسوس ہوتی کہ کوئی مشکل نظر بھی نہ آ پائی۔ میرے کمزور سے پنجوں کو اس کی مضبوط ٹہنیوں کا سہارا تھا جنہوں نے میری اڑان کو اس طور اعتماد بخشا کہ یہ احساس آسمان کی ہر مشکل سے آنکھ ملانے کو کافی تھی کہ وہ شجر فضاؤں میں میرا مسکن تھا نہ کہ زمین کی پستی۔

وہ شجر خود تو دھوپ میں جلتا لیکن مجھے چھاؤں میں رکھتا کہ میرے پاس آتے آتے اس دھوپ کا نرم سا گداز ہی پہنچ پاتا جو دھوپ کی کرن بن کر میرے دل کو بہلاتی اور شدید گرمی میں بھی کئی سماعتیں میرے چہکار کی مستی کو سنتے۔ جب برسات میں زور کا مینہ برستا تو پانی کے قطروں کی شدت اس کے پتوں پر سے بہہ کر میرے پاس آتے آتے رب کی وہ رحمت بن چکی ہوتی کہ میں فقط ان قطروں کی ٹھنڈک ہی محسوس کر پاتا۔ پت جھڑ کے موسم میں جب اس شجر کے اپنے وجود سے پتے و پھول جھڑ جاتے تو تب بھی وہ خالی ٹہنیاں، وہ مضبوط تنا، مجھے دنیا کی ہر بری نظر سے چھپانے کو کافی تھے۔

تیز ہواؤں میں میں اس کی ٹہنیوں سے لپٹ جاتا اور مجھے یوں سمیٹ لیتا کہ ہواؤں کے وہ تند و تیز تھپیڑے مجھے جھولا جھلاتے اور میں اس پر سینہ پھلائے ہواؤں کی ان تیزیوں کو چہک چہک کر چھیڑتا۔ جب بہاروں میں تتلیاں اس کے وجود پر لگے پھولوں کے گرد گھومتی تو دنیا کا ہر رنگ و نعمت اسی ایک شجر کے گرد سمٹی ہوئی محسوس ہوتی کہ وہ ایک وجود ہی میرے لیے فردوس بریں تھا۔ میں چہکتا تو وہ جھومتا، اور یہ لاڈ اس کی محبت کی وہ پہیلیاں تھیں کہ جنہیں بوجھتے بوجھتے میں بڑا ہو گیا۔

وہ خاموش وجود، اپنی بانہیں پھیلائے، ہر شام میری راہ تکتا، میرا استقبال کرتا۔ وہ رات کے اندھیرے میں میرے کمزور وجود کی سب سے مضبوط ڈھال بن جاتا کہ جس کی آغوش میں میں ہر فکر سے آزاد سکون سے سو جاتا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ وجود مجھ سے غافل اس لیے نہیں ہو سکی کہ میری تھکن کو سمجھتا ہے، محسوس کرتا ہے۔ سارا دن گزرنے کے بعد اس کی طرف لوٹنا دنیا کی طرف میری کی گئی تمام تر کوششوں میں سے سب سے کم کوشش ہوتی مگر اس کمتر کوشش پر سب سے زیادہ خوش ہونے والا وہ ایک وجود بس وہ ایک شجر ہی تھا۔ ایک خوشی کہ رات کو اس کا باسی اس کی طرف لوٹ کر آیا ہے۔

پھر وہ ایک شام جب میں اپنے شجر کی طرف لوٹ کر آیا تو میری آنکھوں نے ایک ایسا خالی آسمان دیکھا جس کی زمین پر میرے محسن کا وجود بے سدھ پڑا تھا۔ وہ کٹ چکا تھا۔ یہ حقیقت میرے لیے ناقابل تسلیم شاید اس لیے تھی کہ آج مجھے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ اس آسمان میں میرا سائبان میرے اس محبوب کا وجود تھا۔ ان فضاؤں میں میں اس بے فکری سے اس لیے اڑتا پھرتا تھا کہ وہ میرے اعتماد کا محور تھا۔ آج اسی آسمان نے مجھے زمیں پر یوں دے مارا کہ میری طاقت، میرا درخت آج زمیں بوس تھا۔ میرے پاؤں نے آج پہلی بار اس زمین کی مٹی کی تپش کو محسوس کیا تھا کہ اب اس زمین پر وہ چھاؤں اور اس کی ٹھنڈک مٹ چکی تھی۔ وہ مٹی سخت تھی کہ آج اس کے پتے بھی اپنا وجود کھو کر ہواؤں کے سپرد ہو چکے تھے۔ مجھے آج پہلی بار اپنے وجود کی پستی اور کمزوری کا احساس اس شدت سے محسوس ہو رہا تھا کہ

نہ ہی وہ آسمان اپنا محسوس ہوا اور نہ وہ زمین اپنی۔ میرے رنگ مجھ سے چھن گئے، میرا سہارا گم گیا، اور میری ساری دنیا ایک ہی لمحے میں پرائی ہو گئی۔ میرا مسکن اب دربدری تھی، کوئی ہم نفس نہیں، ہر دعا بے اثر کہ اب اس محسن سے ملنے کے لیے زمیں کی خاک چھاننی پڑے گی۔ ایک لمحے کو چاہت، شفقت، ہمت اور قربانی کو یکجا کیا تو اسی ایک کی صورت نظر آئی۔ مجھے اب اس زمیں کے طول و عرض سے کیا لینا کہ میری دنیا تو فقط اسی ایک وجود کے سائے میں لپٹی ہوئی تھی۔ لیکن پھر وہ رب ہے جو فرماتا ہے کہ!

”اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشا ہے اور (ہمیشہ کی) زندگی (کا مقام) تو آخرت کا گھر ہے۔ کاش یہ (لوگ) سمجھتے“ ۔ ( العنکبوت: 64 )

Facebook Comments HS