فیصلے بولتے ہیں!

سو موٹو کیس پر سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کا فیصلہ آنے کے بعد اگر یہ فیصلہ خود بولتا ہے تو دوسری جانب اس پر تبصرے کرنے والے اس سے بھی بڑھ کر چیخ چیخ کر بول رہے ہیں اور یہ ہمیشہ وتیرہ رہا ہے کہ کسی بھی مقدمے میں اکثر دو یا دو سے زیادہ فریقین ہوتے ہیں اور یہ لازمی ہے کہ فیصلہ کسی ایک فریق کے حق اور دوسرے کے مخالفت میں آئے گا۔ جس فریق کے حق میں فیصلہ آتا ہے وہ اسے انصاف کا فتح اور عدلیہ کی آزادی سے جوڑ دیتے ہیں جبکہ متاثرہ فریق اسے انصاف کا قتل اور عدلیہ کے ترازو کو غیر متوازن جیسے القابات اور خطابات سے نوازتے ہیں۔
ہم جب لاء پڑھتے تھے تو اساتذہ لیکچر کے دوران کہتے تھے کہ جج خود نہیں بولتے بلکہ ججز کے فیصلے بولتے ہیں لیکن آج کل فیصلہ آنے سے پہلے پتہ چل جاتا ہے کہ آنے والا فیصلہ کس نوعیت کا ہو گا۔ ہمیں یہ بھی پڑھایا جاتا تھا کہ وکلاء آرگیومنٹ کرتے ہیں اور ججز صرف سنتے ہیں لیکن آج کل ایسا تاثر ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ وکیل سنتے ہیں اور ججز بولتے ہیں۔
آئے دن میڈیا پر یہ گرما گرم خبریں کسی خاص مقدمے کے حوالے سے آ رہی ہوتی ہیں کہ بس پانچ منٹ میں ججز صاحبان کمرہ عدالت میں آنے والے ہیں۔ جج صاحبان کمرہ عدالت میں آئے۔ ججز صاحبان کمرہ عدالت میں بیٹھ گئے۔ ججز صاحبان نے صرف پانچ منٹ متعلقہ مقدمے کے بارے میں سماعت کی۔
جج صاحب نے یہ کہا۔ جج صاحب نے بھری عدالت میں وکیل کی سرزنش کی۔ جج صاحب نے وکیل کو جھاڑ پھلائی۔ جج صاحب ناراض ہو کر کمرہ عدالت سے اٹھ کے چلے گئے۔ جج صاحب ملزم کا انتظار کر رہے ہیں۔ وکلاء کو ملزم پیش کرنے کا حکم۔ عدالت پانچ بجے مقدمے کی سماعت کرے گی۔ رات دس بجے سپریم کورٹ کے گیٹ کھلنے لگے۔ ججز صاحبان بھی عدالتوں میں پہنچ گئے۔ ججز صاحبان نے رات گئے فیصلہ سنایا۔
عدالتوں کی پل پل کی خبریں جو فیصلے میں آنی چاہیں وہ فیصلے سے پہلے باہر آ رہی ہوتی ہیں اور ایک عام آدمی نے بھی ذہن بنا لیا ہوا ہوتا ہے کہ آنے والا فیصلہ کس نوعیت کا ہو گا۔
تو میں بات کر رہا تھا کہ ججز نہیں بلکہ ججز کے فیصلے بولتے ہیں تو حالیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے آنے کے بعد عام اور خواص نے اس پر اتنے تبصرے نہیں کیے جتنا کہ یہ فیصلہ خود بول رہا تھا کہ ہاں میں اسی سہ رکنی بینچ کا فیصلہ ہوں۔ ہر فیصلے کا ایک اوتھر یا لکھاری ہوتا ہے اور اس کے ایک سے زیادہ لکھاری بھی ہوتے ہیں جیسے کوئی کتاب یا تھیسز مل کر کرتے ہیں اور اس کو ان لکھاریوں کی تصنیف گردانا جاتا ہے۔ مجموعی عمل کو تو کوئی کسی ایک سے منسوب نہیں کر سکتا ہے لیکن جب یہ کسی ایک کا لکھا ہوا ہو تو پھر کسی ایک کے ساتھ منسوب کیا جا سکتا ہے جیسے ہم کسی کی تخلیق۔ افسانے ناول۔ غزل یا انشائیہ یا کسی مزاح کو پڑھ کر سمجھ جاتے ہیں کی یہ تخلیق چیخ چیخ کر بول رہی ہے کہ ہاں میں فلاں کی تخلیق ہوں۔
لیکن جب اس تخلیق پر تنقید کرنے والے تنقیدی رائے دینا شروع کرتے ہیں تو پھر تنقید بھی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بول رہی ہوتی ہے کہ ہاں میں فلاں کی تنقید ہوں لیکن تنقید کی خاصیت یہ ہے کہ یہ یک طرفہ نہیں ہوتی ہے یہ عیوب و محاسن کا مرکب اچھائی اور برائی کا مجموعہ، خوبیوں اور خامیوں کا ملاپ ہوتا ہے۔ اگر یہ تخلیق کسی کو اچھی لگی ہو تو پڑھنے یا سننے والے اس کی تعریف کریں گے اس کی اچھائیوں کو زیر بحث لائیں گے اس کی خوبیوں کو گنوائیں گے اور اس کے محاسن کو اجاگر کریں گے اور ادب میں تنقید کے اس طرز یا اس طرز تنقید کو تقریظ کہتے ہیں۔ جبکہ اس کے دوسرے پہلو جس میں کوئی تخلیق جب کسی کو پسند ہی نہ آئے یا ان کے مطابق کم معیار کا ہو تو اس تخلیق کی خامیوں، عیوب اور برائیوں کو زیر بحث لایا جاتا ہے جس کو تنقیدی ادبی اصطلاح میں تنقیص کہا جاتا ہے۔
حالیہ سپریم کوٹ کا فیصلہ بھی کچھ اس طرح کے مرحلے سے گزرا ہے۔ آئے دن اس کی خبریں عوام تک پہنچتی رہیں، کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے۔ سب لوگوں کو پہلے سے جیسے معلوم ہو کیونکہ عوام نے اس پر حیرت ہی ظاہر نہیں کی بلکہ جس کو میں نے سنا اور تجزیہ کرتے ہوئے سماعت آشنا پایا یہی کہا کہ دیکھا میں نے کیا کہا تھا۔ وہی ہوا کہ نہیں۔ پہلے سے پتہ تھا کیا فیصلہ آئے گا۔ مطلب اب جب بولتے ہیں تو فیصلوں کا پتہ لوگوں کو پہلے سے پتہ چل جاتا ہے ویسے آپس کی بات ہے جس فیصلے کے بارے میں عوام کو پہلے سے پتہ ہو تو وہ عوامی فیصلہ تو ہو سکتا ہے لیکن خواص چہ مگوئیاں کرتے ہیں کہ اگر کسی فیصلے کے لئے پہلے سے ذہن تیار کیا گیا ہو تو قانونی اصطلاح میں ایسے فیصلے کو ایک خاص لفظ کہا جاتا ہے جس کو خاص لوگ ایسے خاص موقع پر استعمال کرتے ہیں۔

