سرچ اور ریسرچ کی ”گھمن“ گھیریاں


معروف ”ریسرچر“ محترم جناب مرشدی الیاس گھمن صاحب کا سرچ اور ریسرچ کے متعلق علمیت سے بھرپور بیان سنا۔ میں چار و ناچار تسلیم کرتا ہوں کہ آج تک اسلامی فکر کا جتنا بساط بھر طالبعلمانہ مشاہدہ کر پایا اتنے عظیم استدلال اور ارفع مثال سے دین خدا کی کسی قدر کو کسی بھی عالم دین نے ثابت نہیں کیا۔ مجھے کہنے دیجئے کہ یہ اعزاز میرے مرشد جناب الیاس گھمن صاحب ہی کے لیے وقف کر رکھا تھا خدا نے۔

آپ نے ایک ایمان آفریں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان سے سوال کیا گیا کہ یہ جو اسلام میں نئی نئی ریسرچ اور تحقیق آ رہی ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ آپ کی عالمانہ خرد نے یوں فکری رفعت کی اڑان بھری اور انسانی ذہانت کی وسعتوں کو ایک جست میں سر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہاں عزیزیہ میں اگر رات کو فٹبال میچ ہو رہا ہو تو ان گراؤنڈ میں لگی لائٹس کو سرچ لائٹس کہتے ہیں (ویسے فلڈ لائٹس کہتے ہیں لیکن علمیت کے اس مقام پر لغت کی پہنچ کہاں) ایک کھلاڑی گیند کو لے کر گول پوسٹ کی طرف بڑھ رہا ہو اور ایک بچہ جا کر لائٹس بند کر کے دوبارہ آن کردے تو یہ ہوگی ریسرچ لائٹ۔ اب گراؤنڈ میں سرچ لائٹس کو ریسرچ لائٹس بنانے پر کیا بچے کو شاباش ملے گی؟ نہیں ناں بالکل ایسے ہی چودہ سو سال دین کے مسلمات پر ریسرچ کرنا منع ہے۔ مجمع سے زور سے آواز آئی سبحان اللہ۔

میں اپنے آپ کو تصوراتی طور پر اس مجمع میں بیٹھا محسوس کر رہا ہوں۔ میں پچھتا رہا ہوں کہ مرشدی الیاس گھمن صاحب کے پرنور دائرہ فیض میں آنے میں مجھے دیر لگ گئی۔ کیونکہ یہ ویڈیو دیکھتے ہی مجھے ان کا فیضان یوں عطا ہوا کہ چند مثالیں مجھ احقر کے ذہن میں بھی آئیں جو آپ کے مطالعہ کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔

دین میں بہت ساری ایسی چیزوں کو Relate کیا جاتا ہے جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ اگر ایک بچہ سکول لیٹ آئے تو استاد اسے یہ کہہ کر چھوڑ دے گا کہ آئندہ لیٹ ہوئے تو خیر نہیں۔ اب اگر وہی بچہ اگلے دن پھر لیٹ آئے تو یہ ہو گا ”ری لیٹ“ تو اب اس بچے کو استاد کھلے تو مارے گا کہ کل بھی لیٹ تھے اور آج ری لیٹ۔

مسلمانوں کی ایک عادت ہے کہ قول و فعل میں تضاد بہت ہوتا ہے۔ اسے اب تو سیاست میں بھی تقریباً سارے سیاستدان یو ٹرن لیتے ہیں۔ ٹرن کہتے ہیں مڑنا۔ یو ٹرن مطلب تم نے مڑنا۔ اب اگر بار بار یو ٹرن لیں تو اسے ری ٹرن کہتے ہیں۔ پھر بچے کی مثال۔ سکول میں ایک بچہ اگر تفریح کے وقت ہی لمبی ٹرن ٹرن کر کے گھنٹی بجا دے تو استاد اسے کہیں گے یو ٹرن وہ کہے گا جی۔ استاد کہے گا آئندہ گھنٹی بجائی تو پھر دیکھنا۔ اب وہی بچہ اگلے تین دفعہ ٹرن ٹرن ٹرن گھنٹی بجا دے تو یہ ہو گا ری ٹرن۔ اب تو استاد وہ کرے گا کہ بچہ ٹرن ٹرن ٹرن کرتا گھر جائے گا۔ اس لیے یوٹرن اور ریٹرن منع ہے مسلمان کے لیے۔ جو کہو وہی کرو۔ لگی سمجھ؟ او بولو  تے سہی۔

اچھا اب ایک اور چیز مسلمانوں میں بد دیانتی اور بے ایمانی بھی بہت پائی جاتی ہے۔ بعض اوقات خدا اس کی سزا دنیا میں ہی دے دیتا ہے۔ موبائل نئے نئے آئے تھے تو ہم نے گھر کے لیے ایک لکڑی کی الماری بنوائی۔ مجھے اس کی پلائی کچھ اچھی نہیں لگی تو میں نے بڑھئی کو میسیج کیا اس نے جواب نہیں دیا میں نے پھر ری پلائی لکھا تو اس کو بڑی شرمندگی ہوئی اور وہ پلائی کی نئی اچھے والی شیٹ لے کر آ گیا اور اس نے وہ لگائی۔ تو یہ ہوتا ہے پلائی میں بے ایمانی کرنے پر ری پلائی کی سزا۔ خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے مومنو۔

اچھا ایک اور بات یہ انگریزی جو ہے یہ یہود و نصاریٰ کی زبان ہے جو کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے ان کی تقلید کبھی نہیں کرنی چاہیے ورنہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے ہماری ایک مذہبی تنظیم ہے اس کا ایک بہت ممبر تھا۔ وہ باہر کے ملک چلا گیا۔ کافی سال بعد لوٹا تو اسے ہمارے صدر صاحب ملے تو اس سے کہا یاد ہیں وہ بابرکت محفلیں کہنے لگا جی آئی ری ممبر۔ انہوں نے پکڑ کے اس کی ممبر شپ دوبارہ کر دی۔ کہا اب پیسے بھی ڈالروں میں دو۔ لگا پچھتانے لیکن اب پچھتائے کیا ہووت جب پکی رسید گئی کٹ۔ ڈالر دینے پڑے جھٹ پٹ۔

اسی طرح ایک آدمی کو کچھ پیسے چاہیے تھے تو اس نے مجھے کہا اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کچھ پیسے درکار ہیں۔ میں نے جواباً کہا بھیا تنخواہ پر ری مائنڈ کروانا۔ تو وہ بے چارہ الیاس گھمن صاحب کا سیدھا سادہ سا پیروکار تھا مجھ سے ناراض ہو گیا۔ کافی عرصے بعد ملا تو میں نے پوچھا کہنے لگا میں نے کسی اور سے لے لیے تھے کہ کہیں آپ تنخواہ پر ”ری مائنڈ“ نہ کر جائیں

اب آخری بات یہ آج کل عمران خان صاحب کہتے ہیں ”رجیم چینج آپریشن“ بھائی یہ کیا ہے جانتے ہو؟ بھئی ایک تو ہر چیز سمجھانی پڑتی ہے۔ خان صاحب نے بتایا تھا کہ وہ کون تھا جس نے رات کو عدالتیں کھلوائیں جنرل باجوہ۔ ایک ج۔ کس نے کھولیں۔ جسٹس عطا بندیال۔ ری ج۔ حکومت تبدیل ہوئی یعنی ”چینج“ پھر خان صاحب کو گولی لگی تو ٹانگ کا آپریشن ہوا تو کیا ری جیم چینج آپریشن۔ ہیں؟ خان صاحب نے چیف جسٹس کو قوم کا باپ قرار دیا۔ یعنی پہلے باجوہ کو پاکستان کے واحد سیاستدان جس نے جان اللہ کو دینی ہے اس نے باپ کہا تھا اب چیف جسٹس کو۔ تو وہی نہ ری جیم چینج آپریشن۔

نون لیگ جنرل باجوہ کے ج کا ذکر نہیں کرتی پی ٹی آئی جنرل فیض کے ج کو گول کر جاتی ہے۔ اصل ری ج چینج آپریشن تو یہ ہے بھائیو۔ چلیں صفیں سیدھی کر لیں اور موبائل ہمیشہ کے لیے بند کر دیں اتنی ”گھمن گھیریوں“ والی تحریر کے بعد آپ اب کچھ پڑھنا بھی نہیں چاہیں گے۔ اگر پڑھنی ہے تو میں ایک مثال اور دے سکتا ہوں پاکستان میں بوٹ کی حکومت رہی ہے اب جو حالات بن رہے ہیں ملک ”ری بوٹ“ کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔

Facebook Comments HS