سندھ میں قبائلی تصادم نے ہیرے کو نگل لیا

میری سدھیر کے ساتھ دوستی ہو چکی تھی، میرا خوشی و غمی پر ان کے یہاں آنا جانا رہتا تھا۔ وہاں میں نے پروفیسر محمد اجمل ساوند کو دیکھا جو فیس بک پر میرے دوست تھے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ میرے دوست کے قریبی رشتہ دار ہیں جو اس قبائلی تصادم والے ماحول سے نکل کر لاڑکانہ کیڈٹ کالج سے ہوتے ہوئے مہران یونیورسٹی حیدرآباد سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کے بعد فرانس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سکھر کی نامور آئی بی اے یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
کندھ کوٹ سے شروع ہونے والا سفر لاڑکانہ کیڈٹ کالج، مہران یونیورسٹی حیدرآباد سے ہوتا ہوا فرانس تک جاری رہا۔ ویسے یہ سفر ناممکن تو نہیں تھا لیکن قبائلی تصادم میں آئے دن اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے کے ساتھ ساتھ جاری رکھنا ناممکن سا لگتا تھا لیکن پروفیسر محمد اجمل ساوند نے ہمت مرداں مدد خدا یہ کٹھن مرحلہ کامیابیوں کے ساتھ پورا کیا۔ فرانس سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں مستقل رہائش پذیر والے آپشن کو ختم کرتے ہوئے وہ واپس اپنے وطن کو لوٹے تاکہ اندھیرے میں رہنے والے اپنے لوگوں کو وہاں سے نکال کر جدید تعلیم سے ہمکنار کر سکے کیونکہ وہ اپنے لوگوں کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کے بجائے قلم دیکھنا چاہتے تھے اور وہ ایسا کر بھی رہے تھے۔ سننے کو یہ بھی ملا ہے کہ ساوند، سبزوئی قبائلی تصادم جس کا میں اوپر ذکر بھی کرچکا ہوں حل کروانے میں پروفیسر صاحب کا بڑا ہاتھ تھا انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے یہ بھی ممکن کر دکھایا تھا۔
سکھر و لاڑکانہ ڈویژن میں صدیوں سے جاری قبائلی تصادم کا مکمل خاتمہ اب تک نہیں ہوسکا ہے۔
ایک تصادم ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع، کیونکہ یہاں جہالت نے جڑیں بے حد مضبوط کی ہوئی ہیں۔ آج بروز جمعرات طبیعت میں ناسازی کے باعث میں کورٹ بھی نہیں جا سکا تھا۔ جونہی نیند سے اٹھا، موبائل سے فیس بک اکاؤنٹ جیسے ہی استعمال کیا تو پہلی ہی خبر پروفیسر محمد اجمل ساوند کی ہلاکت کی پڑھنے کو ملی، ایسا لگا جیسے پیروں تلے زمین نکل گئی ہو۔ پروفیسر صاحب کو کندھ کوٹ سے سکھر واپسی آتے ہوئے راستے میں سندرانی، ساوند تصادم کے تناظر میں نشانہ بنایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ قبائلی تصادم حال ہی میں شروع ہوا ہے اور پروفیسر صاحب اس کی نظر اس لئے ہوئے کیونکہ ان کے نام کے آخر میں ان کے قبیلہ کا نام ”ساوند“ آتا ہے، باقی اس تصادم سے ان کا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اپنی دھرتی سے محبت کرنے والے صوفی منش انسان پروفیسر محمد اجمل ساوند جو واپس آئے تھے اپنے لوگوں کو اندھیروں سے نکالنے لیکن وہ بدقسمتی سے انہی اندھیروں کی بھینٹ چڑھ گئے۔
پروفیسر صاحب ہیرا کے مانند تھے، ولایت سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے باوجود بھی نہ رہن سہن بدلا، نہ زبان بدلی اور نہ ہی رویے میں کوئی بدلاؤ آیا۔
گزشتہ پندرہ سالوں سے سندھ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کی حکومت ہے۔ جن کا نعرہ تھا سرداری نظام کا خاتمہ، اس نعرے کی تکمیل تو نہ ہو سکی لیکن یہ نعرہ پیپلز پارٹی کا جیسے منشور ہی بن چکا ہو کیونکہ مشکل سے سندھ کے ایک یا دو سردار گھرانوں کے علاوہ تمام پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں۔ یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ سندھ میں جاری قبائلی تصادم کی بنیاد تو سردار و وڈیرے ہیں اس کے باوجود بھی سندھ حکومت اس بیماری کا خاتمہ اپنے ہاتھ میں اختیارات ہوتے ہوئے بھی نہیں کر سکی۔
اس سے اندازہ لگائیں کہ وہ اپنے لوگوں کے تحفظ کے متعلق کتنے سنجیدہ ہیں۔ آئے دن کئی ماؤں کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے لیکن مجال ہے حکومت اس لعنت کے خاتمے کے لئے کوئی اقدامات اٹھائیں۔ حکومت اس اہم معاملے کے حل کے لئے کبھی سنجیدہ دکھائی نہیں دی اور جو اس معاملے کے حل کے لئے کوشاں رہے ہیں انہیں بھی راستوں سے ہٹایا جا رہا ہے جیسے پروفیسر صاحب کو ہمیشہ کے لئے ہٹا دیا گیا۔ سندھ کے عوام کو سوچنا ہو گا کہ انہیں کن کے ساتھ کھڑا ہونا ہے؟
ان کے ساتھ جو چاہتے ہوئے بھی انہیں اس قبائلی تصادم جیسی بلا سے جان چھڑوانے کو تیار نہیں اور دوسرے وہ جو اپنی پر آسائش زندگی کو ایک طرف رکھ کر ان کے روشن مستقبل کے متعلق سوچتے ہیں۔ بہرحال سندھ کے لوگوں کو سوچنا ہو گا اس سے قبل کہ کوئی اور پروفیسر محمد اجمل ساوند نہ بنے۔ پس پروفیسر صاحب کا قتل لمحہ فکریہ ہے اور یہ بات سندھ کی حکومت کو بھی سمجھنی چاہیے۔

