فائنل ائر کا آغاز اور گائنی وارڈ


”شروع شروع میں ہم آپ کو بہت برے لگیں گے اور پھر وقت کے ساتھ آپ کو ہماری عادت ہو جائے گی!“

یہ ٹھیک آج سے بیالیس دن پہلے کی بات ہے ہم بھاگتے دوڑتے گائنی او پی ڈی پہنچے، دیکھنے میں ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جہاں کافی ساری فی میل ڈاکٹرز براجمان تھیں اور ہم وہاں اُن مجرموں کی طرح لائن میں کھڑے تھے جنہیں عنقریب سزا سنائی جانی ہو۔ چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے (امید ہے باقی میل کلاس فیلوز کو بھی) یہ محسوس ہونے لگا کہ ”میں یہاں ہوں ہی کیوں؟“ بہرحال اِن سوچوں سے آزادی تب ملی جب یہ آواز کان میں پڑی کہ ”شروع شروع میں ہم آپ کو بہت برے لگیں گے اور پھر وقت کے ساتھ آپ کو ہماری عادت ہو جائے گی“ اور ساتھ ہی حکم صادر کیا گیا کہ ”جائیں! سب ایک ایک ہسٹری لے کر آئیں“ دل میں ایک پل کو خیال گزرا کہ فائنل ائر میں آنے کا کَکھ فائدہ نہ ہوا جو یہ ہسٹری ابھی بھی جان سے چمٹی ہے۔ بہرحال حکم عدولی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، اس لیے منہ پر ماسک کا غلبہ درست کیا اور اپنا سا منہ لیے عورتوں کے جمِ غفیر میں کود پڑے۔

اب ہم جس جانب کو رخ کرتے، مریض ہمارے منہ پر داڑھی مونچھ دیکھ کر (غالباً ماسک کے بس سے بات باہر تھی، پل بھر کے لیے مجھے ہیلمٹ پہن کر آنے کا خیال بھی ذہن سے گزرا۔ ) اپنے معائنہ کی غرض سے لائی گئی پرچیاں چھپا دیں کہ ”ہمیں کوئی مسئلہ یا بیماری نہیں ہے ہم تو بس یونہی یہاں آئی ہیں۔“ بندہ پوچھے ”بیماری کوئی نہیں ہے تو بی بی آپ ہسپتال میں آم کھانے آئی ہیں؟“ بہرحال یہ تو کہنا ممکن نہیں تھا۔ ایک اور بات یہ بھی تھی، چونکہ میرے ساتھ دراز قد ”ڈاکٹر“ عثمان صاحب (یہ ڈاکٹر کا لقب بھی پہلی بار ہمیں گائنی نے ہی بخشا) بھی اِس اہم مہم پر کمر بستہ تھے تو غالباً مریضوں کے لیے اتنے ”بڑے“ ڈاکٹر صاحب کو دیکھنے کے بعد میرے جیسے چھوٹے ڈاکٹر صاحب کو خاطر میں لانا یا ہضم کرنا تھوڑا مشکل مرحلہ تھا۔

بہرحال حکم بجا لانے کا بوجھ سر پر لیے میں کوشش کرتا رہا، تب تک جب تک کسی مریضہ کو میری شکل پر ترس نہیں آ گیا کہ وہ مجھے اپنی ذاتی زندگی میں مخل ہونے کا اہل سمجھے! یہ تو او پی ڈی کی کہانی ہے، ٹھیک پہلا دن گزار لینے کے بعد ہماری نائٹ تھی۔ اچھا جب ہم جونیئر تھے تو سینیئرز کو نائٹ کے لیے جاتا دیکھتے تو لگتا تھا کہ اصل مرحلہ تو ان کے سر ہے ہم تو بس یونہی آکسیجن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کر رہے ہیں۔ وہ تو بعد میں پتا چلا کہ کام ادھر بھی لگ بھگ یہی کرنا ہے۔ خیر پہلی نائٹ اور باقی ساری راتیں میں نے کیسے گائنی ختم ہونے کے بعد والی سکون کی نیند کے خواب دیکھتے گزاریں، یہ داستان کافی لمبی اور ناقابلِ بیاں ہے!

گائنی وارڈ میں ہفتے کا تیسرا دن یعنی بدھ کا دن خاصا اہم ہوتا تھا، اور اس بات کا اندازہ ہمیں تب تک نہیں تھا جب تک ہم نے ایک بدھ گزار نہیں لیا۔ وارڈ میں داخل ہوتے ہی عجیب افراتفری کا سماں تھا کوئی اِدھر بھاگ رہا ہے اور کوئی اُدھر۔ ٹی ایم او نے اُس دن جلدی جلدی مجھے ماں کے ساتھ موجود بچے کی ایگزامینیشن کے نام پر اُس کا سر اور اُس کی لمبائی ماپنے کا بتایا (وہ الگ بات ہے کہ میں تب بھی اور آنے والے دنوں میں بھی بچوں کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پاؤں ماپنے، اور اُن سے کھیلنے کو بہترین تھیراپی مانتا رہا ہوں۔ ) بہرحال بدھ کے دن والے راؤنڈ میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہا۔ پریزینٹیشن کو لے کر عجیب قسم کا خوف تھا وہ کافی حد تک ختم ہو گیا!

شروع شروع کے ہی دنوں میں ایک بار ہمارے وارڈ میں ایتھکس کو لے کر کافی لمبی ڈسکشن ہوئی۔ اُس میں ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ مریض سے کانسینٹ لینے سے پہلے اُسے علاج کا سارا طریقہ، فوائد و نقصانات بتانے چاہئیں۔ گو کہ یہ ایک روٹین کی ڈسکشن تھی جیسا کہ مختلف موضوعات پر ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ہمارے ایک بیچ میٹ نے اس کو سیدھا دل پر لے لیا۔ اتفاق سے اُس روز ہماری نائٹ تھی اور میڈیم نے اُسے مریضہ کے شوہر سے کانسینٹ فارم دستخط کروانے کو بھیج دیا۔ میں بھی برکت کے لیے پیچھے پیچھے چل دیا۔

اب وہ بھائی صاحب لیبر روم کے باہر کھڑے تقریر کر رہے ہیں کہ ”یہ آپ کی مریضہ کا چوتھا حمل ہے، مریضہ کا بچہ ٹیڑھا ہے۔“ اور ایتھکس کے بخار میں آ کر خوب دھواں دھار تقریر جاری ہے، مریضہ کے شوہر کے ساتھ پانچ چھے لوگ اور بھی تفصیلات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ خیر اس سانحے کے بعد ہدایات میں وضاحت کی گئی کہ یہ کام آپ نے اکیلے میں مریضہ کے شوہر یا جو کوئی بھی ساتھ ہو اُسے سمجھانا ہے۔

یونہی ایک بار میں لیبر روم میں مریضہ کا بلڈ سیمپل لینے کے بجائے اُس کے ساتھ آئی اُس کی ساس کا خون نکالنے لگا تھا، وہ تو شکر ہے کہ پرک کرنے سے چند لمحے پہلے میں نے اُس کا نام پوچھ لیا (خیر ظاہری حالات سے یہ بھی غلط نہ لگتا تھا کہ ساس کی نسوں سے بھی بہو کا خون ہی نکلے گا۔ ) بہرحال اِس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جو ہم نے دیکھے یا خود اُن کا حصہ بنے اور اپنی بے وقوفیوں پر خوب ہنسے بھی۔ لیکن ایسی تمام غلطیوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔

یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ بطور میڈیکل سٹوڈنٹ رونا دھونا تو ہماری رگوں میں دوڑتے ہوئے خون میں شامل ہے لیکن سنجیدگی سے غور کیا جائے تو میں نے گائنی میں بہت سی چیزیں سیکھی ہیں۔ گائنی میں آنے سے پہلے لگتا تھا کہ یہ بیالیس دن تو بس وقت کا ضیاع ہیں کیونکہ یہ تو ہمارا کام نہیں ہے لیکن اصل کام سے ہٹ کر بھی گائنی میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو بے حد ضروری ہیں۔ فی میل مریض کے ساتھ بات کیسے کرنی ہے، اُس سے ہسٹری کیسے لینی ہے یہ چیزیں دوسرے وارڈز میں سہی طریقے سے سیکھنے کا شاید ہی موقع ملے۔ اور شاید یہ فائنل ائر کے پہلے وارڈ کی وجہ سے تھا یا پھر گائنی کی وجہ سے، لیکن میں نے خود کو اتنا مراعات یافتہ اِس سے پہلے کبھی نہیں محسوس کیا۔

مجھے یاد ہے کہ شروع کے دنوں میں میرے بیڈ پر ایک مریضہ تھیں۔ آپریشن کے بعد اُن کی پٹی تبدیل کرنا تھی، لیکن اُس وقت اُن کا بیٹا اور بھائی پاس بیٹھے تھے، تو میں نے اُن سے کہا کہ مریضہ کی پٹی تبدیل کرنی ہے تو وہ فوراً سے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ”ڈاکٹر صاحب آپ تبدیل کر لیں ہم باہر چلے جاتے ہیں۔“ میں اُس وقت چند لمحوں کے لیے سوچ میں پڑ گیا تھا کہ یہ کتنی بڑی بات ہے خاص طور پر اُس خطے میں جہاں پردے کے اعتبار سے خاصہ سخت ماحول ہے۔ اِس وارڈ میں، میں نے میاں بیوی کے تعلق کی بہترین شکلیں بھی دیکھی ہیں۔

ایسی جگہ جہاں بہت سے مردوں کو اُن کی بیویوں کے زندہ رہنے یا مر جانے سے بھی کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہاں مرد کو بار بار اپنی بیوی کا پسینہ پونچھتے ہوئے بھی دیکھا ہے، آپریشن کے بعد اپنی بیوی کو سہارا دے کر وارڈ میں چکر لگواتے ہوئے بھی دیکھا ہے، اِس سوچ سے قطع نظر کے آس پاس چلنے پھرنے والے لوگ اُس کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ اس وارڈ میں، میں نے بیٹی پیدا ہونے پر منہ چڑھانے والی ساس بھی دیکھی ہے اور بیٹی پیدا ہونے پر خوشی سے ادھر اُدھر بھاگتی ہوئی ساس بھی دیکھی ہے!

سینئرز کہتے تھے کہ گائنی ختم تو سمجھو آدھی سے زیادہ فائنل ائر ختم، لیکن میرے خیال میں پوری ہی ختم ہے کیونکہ دوبارہ سے میڈیکل سٹوڈنٹ والے موڈ میں واپس جانا خاصا مشکل مرحلہ ہے۔ ایک اور بات جو اب میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو انفارمیشن آپ کو وقت سے پہلے دی جائے وہ ہمیشہ سو فیصد ٹھیک ہو، ہر انسان اپنے اعتبار سے رائے دیتا ہے۔ لیکن کسی بھی چیز کے بارے میں تب تک رائے قائم نہیں کرنی چاہیے جب تک آپ خود اُسے ایکسپیرینس نہ کر لیں۔ گائنی میں آنے سے پہلے ہمیں اتنا ڈرایا گیا تھا کہ بہت برا وقت گزرے گا، یہ ہو گا وہ ہو گا۔ لیکن ہم نے بہت اچھا وقت گزارا ہے۔ ٹھیک ہے مشکل ہے، تھکا دینے والی روٹیشن ہے۔ لیکن بہت یادگار بھی ہے ہر حوالے سے، اور عادت تو یقیناً ہو ہی جاتی ہے!

 

Facebook Comments HS