چھوٹی عمر کا بڑا شاعر


اسامہ ضوریز یونان صغیر کہلائے جانے والے سرائیکی وسیب کے شہر تونسہ کا نوجوان شاعر ہے۔ کہتے برگد کے گھنے پیڑ کے نیچے کوئی دوسرا درخت نہیں اگ سکتا۔ کہنے کو تہذیب حافی کا کزن ہے۔ تہذیب حافی کو استاد مانتا ہے لیکن حافی کے ہوتے ہوئے بھی اسامہ نے اردو شاعری میں اک بڑا نام بنایا ہے بقول اسامہ

تو مری ذات کے پھیلاؤ سے واقف ہی نہیں
ایسے گملوں میں اگانے سے نہیں ہوتا میں

اسامہ ضوریز میرے لنگوٹیے دوست زبیر اسلم کا کلاس فیلو اور یار غار ہے اسامہ میرا دوست ہے میری اسامہ سے کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ مزید اسامہ ضوریز نے تہذیب حافی کی طرح کئی سال میرے شہر کوٹ ادو میں گزارے ہیں۔ معروف اینکر جنید سلیم نے اک بار مجھے کہا تھا کہ کوٹ ادو کی مٹی میں ایسا کچھ ضرور ہے کہ یہاں سے شاعری کا خمیر اٹھتا ہے۔ وہ میرے شاعری ذوق اور کوٹ ادو سے تعلق رکھنے والے اپنے بہنوئی مجید سالک کے حوالے سے یہ بات کر رہے تھے مگر میں اسے حافی اور ضوریز سے جوڑ کر دیکھوں گا۔ میں اسامہ ضوریز کے متعلق جب بھی کچھ لکھنا چاہوں تو سوچتا ہوں کہ اس کی شخصیت پہ بات کروں یا پھر اس کی شاعری پہ۔

اس کی شخصیت کا اک الگ سحر ہے۔ غالب کا یہ مصرع ’بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے‘ اسامہ ضوریز کی شخصیت کو بیان کرتا ہے۔

اسامہ وقت کا وہ ولی ہے جس نے اس چھوٹی سی عمر میں دنیا کو کھنگال کر دیکھ لیا ہے اب وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کی خوشنمائی بس اک دھوکہ ہے اسامہ اس کے بھیانک چہرے سمیت اسے دیکھ چکا ہے۔

اگر آپ اسامہ کو ملیں گے تو آپ کو اکتایا ہوا سب سے بے زار کم گو سا لڑکا ملے گا جس کا حلیہ ہر بار مختلف ہو گا کبھی بال بڑھائے ہوئے ہوں گے کبھی شیو بڑھی ہوئی اور کبھی بال بہت چھوٹے اس عمر میں جب لڑکے بالے نت نئے فیشن اپناتے ہیں اسامہ مفلوک الحال حلیے میں سوچتا ہوا ملے گا۔

میں شاعری کو سمجھنے کا دعویٰ نہیں کرتا میں بس شاعری کو پسند کرنے والا اک عام سا قاری ہوں۔ لیکن میں اگر سچ کہوں تو اس وقت اردو شاعروں میں میرا سب سے پسندیدہ ترین شاعر اسامہ ضوریز ہے۔ لیکن مقام گریہ ہے کہ اسامہ جیسے بے پناہ شاعر نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔

اسامہ کا کلام بہت تھوڑا ہے مگر یقین کریں جو کلام ہے اک اک شعر اک اک غزل باکمال ہے شاندار ہے بے مثال ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

زندگی ہے اجل تو تو بھی نہیں
سوچتا ہوں اٹل تو تو بھی نہیں
تیرے ہوتے بھی سب خراب ہی تھا
اور پھر آج کل تو تو بھی نہیں
اے شگوفوں میں رنگ بھرتے شخص
اس اداسی کا حل تو تو بھی نہیں
جو تری جستجو میں چھوڑ دیا
اس کا نعم البدل تو تو بھی نہیں
مجھ کو یہ جان کر اداسی ہوئی
کچھ مسائل کا حل تو تو بھی نہیں
میں بھی ضوریزؔ کوئی زمزم ہوں
اور پھر گنگا جل تو تو بھی نہیں

اردو شعرا میں اکثر ایسے ہیں جن کی غزل کا اک آدھ شعر اچھا ہوتا ہے جبکہ باقی شعر بس بھرتی کے ہوتے ہیں۔ آپ مندرجہ بالا غزل کو پڑھیں بار بار پڑھیں پر بار ہر شعر اک نیا معنی اک نئی جہت اک نئے احساس سے روشناس کرائے گا۔ اسامہ ضوریز کی اک اور غزل پیش خدمت ہے

ترے تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو
ذرا تو بیٹھو کہ پیروں کی نیند پوری ہو
وصال کر کے جدائی کا نام تک نہ رہے
پھر اتنا جاگیں کہ برسوں کی نیند پوری ہو
خدا تو چاہے گا خوابوں میں سب رہیں مصروف
خدا تو چاہے گا بندوں کی نیند پوری ہو
ترا بچھڑنا کہ بس جاگنے کی دوری پہ ہے
تو کیسے خوف کے ماروں کی نیند پوری ہو
یہ روٹی پانی کا جھگڑا ہے اور لوگوں کا
میں چاہتا ہوں کہ ساروں کی نیند پوری ہو
اسی کی مرضی کہ کتنوں کا چوکیدار رہے
اسی کی مرضی کہ جتنوں کی نیند پوری ہو
جو ایک جاگے تو دونوں کو اضطراب رہے
جو ایک سوئے تو دونوں کی نیند پوری ہو

سبحان اللہ کیا انفرادیت ہے۔ کیا احساس ہے آپ اس غزل کو اردو کے کسی بھی بڑے پائے کے شاعر کی غزل کے سامنے رکھ دیں کسی بھی لحاظ سے یہ غزل آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔ قاری اسامہ ضوریز کی غزلوں کا اسیر ہوتا جاتا ہے۔ اک اور نمونہ کلام دیکھیے

رات کے دریا کا کنارہ بھی کبھی آئے گا
وقت کا کیا ہے ہمارا بھی کبھی آئے گا
میرے حصے میں کبھی آیا تھا اچھا کوئی دن
پوچھنا تھا کہ دوبارہ بھی کبھی آئے گا
اس تسلی سے لگے جاتے ہیں دیوار کے ساتھ
تیری بانہوں کا سہارا بھی کبھی آئے گا
چاہنے والوں کا جو قحط ہے امید تو ہے
اس کے جانب سے اشارہ بھی کبھی آئے گا
میں ہی ہر بار بچھڑنے پہ بہت روتا ہوں
اس ہتھیلی پہ انگارہ بھی کبھی آئے گا

ہائے ہائے! کیا شاندار غزل ہے۔ اک اک شعر موتیوں میں پروئے جانے کے قابل۔ اسامہ ضوریز کو پڑھتے جائیں تو یقین کریں دل چاہتا ہے کہ ہر شعر ہر غزل اردو پڑھنے والے اک اک شخص کو جا کر سنائی جائے۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ اسامہ ضوریز کی ساری شاعری قارئین کے لیے یہاں لکھتا جاؤں باذوق قارئین پڑھتے جائیں سر دھنتے جائیں۔ اک اور غزل دیکھیے

ترے بغیر ترے ساتھ، ایک جیسے تھے
کہ ہجر و وصل کے لمحات ایک جیسے تھے
پھر ایک دن وہ سحر خیز میرے پاس آیا
وگرنہ میرے بھی دن رات ایک جیسے تھے
نہ چاہنے پہ بھی اک دوسرے کے ہو ہی گئے
دعا الگ تھی مگر ہاتھ ایک جیسے تھے
بچھڑنے والے کسی اور کا کہا مت مان
کہ تیرے میرے خیالات ایک جیسے تھے
پھر اس کے بعد خبر آئی وہ بہت خوش ہے
جدا ہوئے تھے تو حالات ایک جیسے تھے

اسامہ ضوریز صرف غزل ہی نہیں نظم بھی لاجواب کہتا ہے۔ جہاں شاعر رقیب کو رقیب روسیاہ کہتے ہیں رقیب سے جلتے ہیں رقیب کے مخالف ہوتے ہیں وہاں اسامہ محبوب کی خوب صورتی کی تعریف اور رقیب کے حق میں مقدمہ کس انوکھے انداز میں لڑتا ہے ملاحظہ ہو۔

تو کوہ قاف کی شہزادیوں کی رشتے دار
اس انتشار بھری مخلوق میں اتاری گئی
تمام آنکھوں کی تسکین تیرے چہرے سے
تمام دنیا تیری آرزو میں زندہ ہے
یوں تیرا اک انسان کے لئے جینا
تمام لوگوں کے حق میں زیادتی ہو گا

آخر میں اسامہ ضوریز سے اک پرستار ہونے کے ناتے اس درخواست کے ساتھ کہ اسامہ شاعری کو ترک کرنے کا فیصلہ ترک کرے، چند متفرق اشعار پیش خدمت ہیں

1 : پھول اس واسطے کھلتا ہے کہ تو دیکھے اسے
موسم اس واسطے اچھا ہے کہ تو سیر کرے
2 : یہ دکھ نہیں کہ شہر میں میرا کوئی نہیں
یہ دکھ کی بات ہے کہ کسی کا کوئی نہیں
اس کا بچھڑنا لے گیا حس مزاح تک
ہنسنے کی بات کرتا ہوں ہنستا کوئی نہیں
3 : ہم لوگ تیری خوشیوں میں شامل تو ہوں گے دوست
ظاہر ہے غم بھی بیچ میں حائل تو ہوں گے دوست
ویسے بھی صرف آگ لگانے کی بات ہے
دس بیس لوگ شہر میں جاہل تو ہوں گے دوست
4 : آواز جس کی پیاری ہے ملنے چلیں اسے
سنتا نہیں کسی کی مگر بولتا تو ہے
وہ قافلے میں تو کیا تھا، غبار میں بھی نہ تھا
جو اول آیا ہے پہلے ہزار میں بھی نہ تھا
تیرے نہ آنے کا سن کر بہت اداس ہوا
وہ آدمی جو تیرے انتظار میں بھی نہ تھا
6 : پا تو لوں گا میں کسی کے قرب میں غم کا علاج
لیکن ایسے میں مجھے تیرا خیال آ جائے
7 : جو رو رہے ہوں ان کی خوشی میں شریک ہوں
جو ہنس رہے ہوں ان کو دلاسا دیا کریں
8 : ہم تو جیسے کہ کنارے پہ کھڑے ہوتے ہیں
وہ اداسی ہے کہ بس بات ملے رونے کو
جس قدر رونے کی عادت ہے وہ دن دور نہیں
لوگ بلوائیں گے مرنے پہ مجھے رونے کو
9 : ہمارے اشک تیرے پاؤں تک بھگونے لگے
بلوچ ہوتے ہوئے بھی کسی کو رونے لگے
تمہارے ساتھ تو سورج ابھرتا دیکھتے تھے
تمہارے بعد سبھی دوست جلدی سونے لگے
10 : ستارے توڑ کے لایا تھا اس کو دینے کو
اسے دیے بھی نہیں ہاتھ بھی خراب ہوئے
تمہارا ملنا تو پہلے بھی کتنا مشکل تھا
اور اب کی بار تو حالات بھی خراب ہوئے

اسامہ ضوریز مشاعروں میں نہیں جاتا دوستوں یاروں کی محفلوں بیٹھکوں میں اپنے شعر سناتا ہے اس کے باوجود اک زمانہ اس کا پرستار اور معترف ہے۔ میری طرح اسامہ کے کئی پرستاروں کی خواہش ہے کہ اسامہ ضوریز لکھنا شروع کرے اور اردو ادب میں اس مقام تک پہنچے جس کا وہ حقدار ہے۔

Facebook Comments HS