امریکی سیاہ فام افسر جو متعصبانہ فرض سے مجبور ہو کر رو پڑا
گیارہ ستمبر 1999ء کے بعد امریکہ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور اس دوران اگلے پانچ سالوں تک مجھے وہاں آنے جانے کا تقریباً ہر سال اتفاق ہوتا رہا۔ کچھ بڑے یاد گار واقعات بھی پیش آئے ان میں سے دو کا ذکر یہاں ضروری ہے۔
2002 ء میں جس دن میں میکسیکو سے ٹیکساس اترا اس دن امریکہ نے امیگریشن کے لئے بائیو میٹرک سسٹم کا آغاز کیا تھا۔ یہ خبر میں نے آتے ہوئے اخبار میں پڑھی تھی۔ اس نئے سسٹم سے گزرنے کے لئے لازم جن ممالک کی فہرست دی گئی تھی ان میں پاکستان کا نام شامل نہیں تھا۔
میں جب امیگریشن کے ڈیسک پر پہنچا تو ایک افریقی امریکن امیگریشن افسر بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے اخبار بھی اس طرح تہہ کر کے رکھا ہوا تھا جس میں یہ خبر نمایاں طور پر نظر آ رہی تھی۔
جب میں نے اپنا پاسپورٹ آگے کر دیا تو اس نے پہلے اخبار میں دی گئی ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام تلاش کیا پھر اپنے کمپیوٹر میں کچھ ٹائپ کر کے غالباً تلاش کیا۔ ٹیلی فون پر کسی سے بات کی اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”آج ایک نیا سسٹم رائج ہوا ہے جس سے کچھ ممالک کے شہریوں کو گزرنا ہو گا۔ آپ کے ملک کا نام اس فہرست میں تو نہیں مگر میرا سینئر آفیسر کا کہنا ہے کہ آپ کو بھی اس بائیو میٹرک سسٹم سے گزرنا لازمی ہے“ ۔
میں اخبار میں اس خبر کو پڑھتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ جہاں کہیں بھی کچھ ہوتا ہے تو اس کا کھرا پاکستان کی طرف جاتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملک کا نام اس فہرست میں نہ ہو۔ میں اس بات کے لئے ذہنی طور پر تیار تھا تو ’آل رائٹ‘ کہتے ہوئے کھڑا ہوا۔
اپنا کمپیوٹر کو تیار کرنے کے بعد اس افریقی امریکن افسر نے مجھے دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا ”فرائض منصبی کی ادائیگی کے لئے مجھے آپ کے ساتھ آپ کی شہریت، مذہب اور نسل کی بنیاد پر تعصب برتنا پڑے گا جس کے لئے میں انتہائی شرمندہ ہوں۔ میں آپ کے ساتھ جو تعصب برتنے والا ہوں یہ امریکی آئین، یہاں دی گئی تعلیم اور سکھائے گئے اصولوں کی ہی نفی نہیں بلکہ میرے اسلاف کی دی گئی قربانیوں سے بھی انکار ہے جو انھوں نے اس ملک کو تمام تر تعصبات سے پاک کرنے کے لئے دی تھی۔“
یہ کہتے ہوئے میں نے اس افسر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اپنے بھی ضبط نہ کر سکا۔ اس افسر کے الفاظ میں میگنا کارٹا کی تلخیص تھی، مارٹن لوتھر کنگ کی جدوجہد اور عزم کا خلاصہ تھا اور عظیم امریکی خواب تھا جس کی تعبیر سب نے دیکھی جب 2008ء میں ایک افریقی امریکن بارک اوباما نے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے سربراہ کے طور پر لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں حلف اٹھایا۔
ایک دوسرا واقعہ جو یاد گار ہے وہ ٹیکساس یونیورسٹی آسٹن میں دیکھا۔ یہاں شعبہ طبیعات میں ایک استاد کی آسامی کے لئے ایک پاکستانی بلوچ کا انتخاب ہوا تھا۔ یہ صاحب اس سے پہلے اٹلی میں پڑھا رہے تھے جہاں سے وہ بغرض انٹرویو امریکہ آئے تھے۔ انٹرویو کے بعد انتظامیہ نے ان سے کہا کہ کچھ دن وہ یہاں پڑھائیں اس دوران ان کو ویزہ اور امریکہ میں کام کرنے کی اجازت مل جائے گی جس کو امیگریشن کی زبان میں گرین کارڈ کہتے ہیں۔
استاد کا کہنا تھا کہ جب تک قانونی طور پر اجازت نہیں ملتی وہ یہاں پڑھائے گا ضرور مگر اس کا معاوضہ نہیں لے گا۔ جب بلوچ استاد نے پڑھانا شروع کیا تو وہ طلبہ میں انتہائی مقبول ہوا۔ یونیورسٹی میں باقاعدہ پڑھانے کے لئے قانونی اجازت اور ویزہ کے لئے بھیجے گئے کاغذات پر کارروائی سرخ فیتے کی میزوں پر انتہائی سست روی کا شکار تھی کہ استاد کی چھٹیاں ختم ہوئیں اور واپس اٹلی جانے کا وقت آ پہنچا۔
طبیعات پڑھنے والے طلبہ نے اپنے مقبول استاد کے ویزے کے لئے کیمپس میں جلوس نکالنے کے علاوہ آسٹن سے منتخب ہوئے والے عوامی نمائندوں سے امیگریشن حکام کے نام کا خط بھی حاصل کیا اور متعلقہ افسر سے ملاقات کی۔ جب طلبہ نے عوامی نمائندوں کا سفارشی خط متعلقہ افسر کو دیا تو اس نے کہا ”جاکر ان نمائندوں سے کہہ دو کہ اس بارے میں قانون سازی کریں جو ان کا کام ہے، میرا کام ان کے بنائے قانون پر عمل درآمد کرنا ہے۔ اپنے بنائے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کے لئے خط لکھ کر ان نمائندوں نے امریکی آئین کی خلاف ورزی کی ہے جو انتہائی سنگین جرم ہے“ ۔
مجھے پنجگور کے اس بلوچ سے مل کر جو خوشی ہونی تھی وہ فطری تھی جس نے غیر قانونی طور پر رہنے، تنخواہ لینے سے انکار کیا تھا۔ مگر دوران گفتگو مذکور ہوا امیگریشن افسر جس نے عوامی نمائندوں کی سفارش سننے سے انکار کیا تھا میرے لئے کم متاثر کن نہیں تھا کیونکہ ہمارے ہاں ایسی کوئی مثال میں دیکھی نہ سنی تھی۔
ان دنوں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قانون شکنی کے مقدمات ہیں اور وہ گرفتار ہوا ہے۔ بالکل ایسا ہی پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان پر بھی مقدمات بنے ہوئے ہیں مگر وہ گرفتار نہیں ہوسکا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خان میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے دونوں ہی مقبول منتخب راہنما ہیں۔ دونوں کا انداز سیاست بھی ایک جیسا ہے، لگائے گئے الزامات میں بھی مماثلت ہے۔ دونوں نے ہار کو تسلیم نہیں کیا اور اپنے حامیوں کی مدد سے وفاقی دارالحکومت پر ہلہ بول دیا۔ دونوں کی نجی زندگی بھی سرگوشیوں سے بھرپور ہے۔
کہنے والے یہ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنی ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لئے انسانی حصار یا ہیومن شیلڈ بنانے کا طریقہ عمران خان سے ہی سیکھا تھا جو اپنے نجی محافظوں یا باڑی گارڈز، بطور سابق وزیر اعظم فراہم کردہ سیکیورٹی، ایف سی اور رینجرز کے دستوں کے علاوہ دو وفاقی اکائیوں کی پولیس کے ساتھ ہزاروں نوجوانوں کا جمگھٹا دن رات لگائے رکھتے ہیں۔
مگر ٹرمپ نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا، اپنے اوپر لگائے الزامات کی صحت جرم سے انکار کیا اب کھلی عدالت میں مقدمہ چلے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی وہی ہو گا جو دیگر امریکی شہریوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جو آئین اور قانون میں لکھا ہے۔ امریکہ میں کوئی کسی کو یہ کہہ دے کہ تم میرے کرسچن بھائی ہو، میرے نسل کے کالے یا گورے ہو، ایشیائی یا افریقی ہو تو یہ جرم سمجھا جاتا ہے۔ امریکی آئین میں دیے گئے حقوق ہر سکول میں پڑھائے جاتے ہیں۔ یہاں کا ہر شہری پچپن میں آئین میں دیے اپنے حقوق سے آگاہ ہوتا ہے اور عملی زندگی میں اپنے فرائض سے۔
نا انصافیاں امریکہ جیسے ملک میں بھی ہوتی ہیں۔ امریکہ میں بھی لوگ عدم مساوات کا شکار ہوتے ہیں مگر یہ ادارہ جاتی سطح پر نہیں انفرادی طور پر ہوتی ہیں۔ عام لوگوں کو امریکی آئین اور اس میں شہریوں کو دیے حقوق پر پورا بھروسا ہوتا ہے۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرفتار ہو گیا کیونکہ یہاں کسی بھی شخص کو استثنا حاصل نہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کو گرفتار کر کے عدالت کے سامنے پیش نہ کیا جاتا تو ہر دوسرا شہری اس روش پر چل نکلتا اور ریاست کی عملداری کو چیلنج کرتا کیونکہ امریکہ میں کئی ہزار ایسے افراد، ادارے اور گروہ رہتے ہیں جو اپنی دولت، طاقت اور استطاعت میں کئی ممالک سے بھی بڑے ہیں۔
ہمارے ہاں وزرائے اعظم اور دیگر منتخب و غیر منتخب عوامی راہنماوں کے ساتھ واضح نا انصافیوں کے باوجود آج تک یہ روایت رہی کہ سیاسی مقدمات میں عدالت کے سامنے پیش ہونا اور اپنے مقدمات کی پیروی کرنا اور عدالتوں کے سامنے سرنگوں ہونا ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا رہا۔ اگر انسانی حصار میں ریاستی اداروں کو یرغمال بنا کر قانون اور انصاف سے فرار کی راہ اختیار کرنے کی روش چل نکلتی تو پھر یہاں کوئی بھی قانون کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتا۔
قومی ریاستیں اپنی ہیئت اور تشکیل میں ایک جیسی ہوتی ہیں جن کی وجود کا دار و مدار قانون کی عملداری پر ہوتا ہے۔ امریکہ ہو یا پاکستان طاقتور سے طاقتور شخص کو بھی ایک دن قانون کے سامنے سرنگوں کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی کو کوئی استثنا دی بھی جاتی ہے تو اس کا راستہ قانون کی بھول بھلیوں سے ہی گزر کر نکلتا ہے۔ قانون کی نظر میں کوئی شخص، ادارہ یا گروہ ریاست سے بڑا یا طاقتور نہیں ہوتا۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے تو پھر مدعا علیہ رہتا ہے یا مدعی کیونکہ ریاست میں مقتدر صرف ریاست ہوتی ہے۔


