ہمارا ”شاندار“ ماضی تمنائی


ہمارے کچھ دوست ہمارے ”شاندار“ قومی ماضی جو دراصل ”ماضی تمنائی“ ہے کے بارے میں بہت سی خوش فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں، اور برصغیر کے ماضی کو صرف بادشاہوں کی طرف سے لکھوائی گئیں اپنی قلمی تحریر کردہ تواریخ کی بنیاد پر ہی موجودہ اور سابق حالات و معیار زندگی کا موازنہ فرماتے ہیں۔ ان کی خدمت میں چند مختصر گزارشات، کہ ایک زاویہ اور بھی ہے۔ اگر کبھی انگریزوں کے دہلی اور پنجاب پر قبضے سے قبل کے یہاں کے سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کا مطالعہ فرما لیں۔

ایسی طوائف الملوکی تھی، کہ خدا کی پناہ، کھایا پیتا لائے دا، باقی احمد شاہے دا۔ بلا تخصیص ہر سال لوٹنے اور قتل و غارت کے ماہر افغان فوجی دستے، پھر بندہ بیراگی، پھر مرہٹے، سکھوں کے گھڑ سوار جتھے ہمیں وسیع پیمانے پر تاخت و تاراج کرتے دکھائی دیتے۔ جو تاج محل آج ہمیں محبت کی ایک یادگار دکھائی دے رہا ہے اس کی تعمیر نے ملک کو تقریباً دیوالیہ ہونے کے نزدیک پہنچا دیا تھا۔ آخری مغل بادشاہ کے کچن تک کا انتظام ہندو ساہوکاروں سے قرض لے کر کیا جاتا تھا۔ تعلیم صرف مذہبی اداروں کے ساتھ وابستہ تھی اور بہت کمیاب اور قیمتی، ہاتھ سے لکھی کتب یعنی قلمی نسخوں کی وجہ سے بہت کم عوام کی دسترس میں تھی، لہذا لکھ پڑھ لینے اور کچھ دینی کتب کے مطالعے کو ہی تعلیم یافتہ سمجھا جاتا تھا۔

باقاعدہ شفا خانے اور ہسپتال موجود نہ تھے، بلکہ قدیم یونانی طریقہ علاج پر اٹکل پچو طریقوں سے علاج کیا جاتا تھا۔ بلکہ انگریزوں کو برصغیر میں تجارت اور تجارتی کوٹھیوں ( سٹورز ) کے قیام کی اجازت ہی تب ملی، جب بادشاہ جہانگیر کے شدید بیمار ہونے پر اس کے دربار میں آئے ہوئے ایک انگریز ڈاکٹر نے بادشاہ کا کامیاب علاج کیا اور جب اسے انعام کی پیشکش کی گئی تو اس نے اپنی ذات کے لیے مال و دولت و خلعت کے بجائے اپنی قوم کے لیے تجارت کی اجازت مراعات اور تجارتی کوٹھیوں یعنی تجارتی سامان کے لیے گوداموں کی تعمیر کی اجازت مانگی۔

بعد میں ان ہی گوداموں میں پڑے سامان کی حفاظت کے لیے محافظ دستے تعینات کئیے گئے اور جوں جوں مقامی حکمرانوں کی اپنے نظام پر گرفت ڈھیلی پڑتی گئی یہی تجارتی کوٹھیاں قلعوں کی شکل اختیار کرنے لگیں اور ان کے حفاظتی دستے تربیت یافتہ فوج کی شکل اختیار کر گئے۔ جن کے ساتھ مقامی لوگ بھی باقاعدہ تنخواہ کے عوض بھرتی کئیے گئے۔

انگریزوں کی آمد سے قبل کے نظام میں سارا ملک بادشاہ کی ملکیت ہوتا تھا۔ اور زمین وہ عارضی طور پر اظہار فرمانبرداری اور وفاداری کی صورت میں ودیعت کرتا تھا، جائیداد وراثت کی شکل میں منتقل نہیں ہوا کرتی تھی، ٹیکس یا لگان بادشاہ اس صوبے دار سے وصول کرتا جس کو علاقہ یا گاؤں دیا ہوا ہوتا، وہ آگے اپنی مرضی کا ٹیکس لے کر کچھ حصہ بادشاہ کو دیتا۔ باقی اپنے لیے رکھ لیتا۔ اسی کی ذمہ داری عہدے اور رتبے کے لحاظ سے بوقت ضرورت اپنی رعایا میں سے بے قائدہ فوج کہلانے والے افراد کی طے شدہ تعداد مہیا کرنا بھی ہوتی تھی۔

انگریزوں نے ہی عوام کے لیے قابل برداشت ٹیکس اور انصاف و تحفظ کا مضبوط نظام بنایا، تب ہی عوام معیاری تعلیم حاصل کر سکے۔ انگریزوں کی آمد سے قبل برصغیر کے کسی دریا پر کوئی باقاعدہ پل تک نہ تھا، ، تعلیم تو یہاں پہلے پرائمری، پھر مڈل اور پھر سیکنڈری تک بتدریج فروغ دی گئی، اور پھر اس سلسلے کو بڑھاتے ہوئے ڈگری تک کی تعلیم کے لیے پنجاب یونیورسٹی، کامرس کی جدید ٹریننگ کے لیے ہیلی کالج آف کامرس، سول انجینئیرنگ کی جدید تعلیم کے لیے دو ادارے رڑکی اور رسول میں گورنمنٹ سکول آف انجینئیرنگ کے نام سے سنہ اٹھارہ سو اکہتر میں قائم کیے گئے، میڈیکل کی جدید تعلیم کے لیے لاہور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج قائم کیا گیا، اس کے علاوہ تقریباً ہر شہر میں کالجز قائم کئیے گئے جن میں چیفس کالج، گورڈن کالج وغیرہ جیسے اعلی تعلیمی ادارے شامل تھے، تعلیم کو ہنر کے ساتھ جوڑا گیا۔ اور فنی تعلیم کا آغاز کیا گیا۔ اس سے قبل اور اب تک بھی ہمارے معاشرے میں ہنر نسل در نسل سینہ بہ سینہ کی حیثیت سے رواج پا کر مخصوص نسلوں کے لیے مخصوص ہو چکے تھے۔ لوہار، کمہار، نائی، جولاہا، وغیرہ وغیرہ۔ انہوں نے ہی پنجاب میں دنیا کا بہترین نہری نظام تعمیر کیا جس کی وجہ سے اس علاقے میں زرعی انقلاب آ گیا، اسی طرح برصغیر میں رسل و رسائل کے مقصد سے شاہرات کا جامع نظام اور ریلوے کا بہترین نظام قائم کیا، جو تقریباً ان ہی بنیادوں پر پاکستان و ہندوستان میں اب تک بہترین طریقے سے کام کر رہا ہے۔

باقی دنیا کی طرح برصغیر میں بھی پرنٹنگ پریس کے استعمال نے تعلیم و ادب کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے علوم و ادب عام آدمی کی دسترس میں آ گئے۔ حیرت کی بات کہ دیوبند کا ادارہ دینی تعلیم و تحقیق تک انگریزوں کی تجویز و سرکاری مدد اور سرپرستی سے ہی قائم ہوا۔ ہندوستان کے عام آدمی کی سیاسی نظام میں شمولیت کے مقصد کو ایک باقاعدہ شکل دینے کے مقصد سے پہلی ہندوستانی سیاسی جماعت، انڈین کانگریس کی بنیاد بھی ایک انگریز ”ایلن آکٹیون ہیوم“ نے ہی رکھی۔

دراصل ہمارا المیہ کچھ اور ہے وہ یہ کہ جن کا کوئی مستقبل نہ ہو ان کو ہمیشہ ماضی (چاہے وہ ماضی تمنائی ہی کیوں نہ ہو ) خوبصورت اور اچھا لگنے لگتا ہے۔ یہاں ہمیں اس دوسرے مکتبہ فکر کا بھی ہمدردانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جو آج صدق دل سے یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں کی برصغیر آمد سے قبل برصغیر علمی اور اقتصادی طور پر بہت عروج پر تھا۔ دراصل ان حضرات کے نظریے کے اخلاص کا ثبوت اسی محاورے کی طرح ہے، کہ جیسے کہا جاتا ہے کہ ”دادا یا باپ کے ڈالے گئے ڈاکے کا مال جب بیٹے یا پوتے تک پہنچتا ہے تو وہ“ مقدس وراثت ”میں بدل جاتا ہے۔

ان حضرات تک جو بھی کچھ معلومات اور موقف ان کے روایتی ذرائع سے پہنچا، وہ ان کے لیے مقدس سچ کی طرح ہی تھا۔ یہاں اس ضمن اور موقف کی مثال کے طور پر ہم ایک واقعے کا ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب سنہ 1857 کی جنگ آزادی یا غدر کے بعد مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے لاڈلے دو بیٹوں مرزا مغل، مرزا خضر سلطان اور مرزا مغل کے بیٹے مرزا ابو بکر کے سر کیپٹن ولیم ہڈسن نے کاٹ کر بادشاہ کو پیش کیے تو ہم اسے بجا طور پر ایک انتہائی بہیمانہ اور ظالمانہ فعل کہتے اور سمجھتے ہیں۔

لیکن اس تمام واقعے کی ہم تک ترسیل کے دوران جو بات ہم تک پہنچنے سے رہ گئی تھی، کہ یہ مغل شاہزادے لال قلعے میں باغی فوجیوں کی طرف سے قید کئیے گئے انگریز خواتین، بچوں اور حضرات کے قتل، ظلم و تشدد اور ان میں سے کچھ خواتین کی زبردستی عصمت دری کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ لہذا جب دلی پر انگریزی فوج کا قبضہ ہو گیا، تو انہوں نے انتقاماً ان شہزادوں، کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد ان کے سر اتار کر اسی سالہ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے سامنے پیش کر کے اپنے انتقامی جذبات اور اشتعال کی تسکین کی۔

ایک اور پہلو جو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ برصغیر میں اس سے پہلے ہر حملہ آور چاہے وہ افغانستان سے آنے والے مسلح فوجی گروہ ہوں، ایران سے آیا ہوا نادر شاہ ہو، یا لوکل مغلوں، مرہٹوں، یا سکھوں کے برسرپیکار گروہ ہوں، وہ فتح کی صورت میں روایتاً خواتین کی عصمت دری کرتے یا ان کو غلام اور لونڈیاں بنا کر طویل قطاروں میں باندھ کر سلسلہ کوہ ہندو کش پار کروا کر لے جاتے۔ بلکہ ایک روایت کے مطابق ”کوہ ہندو کش“ کے نام کی وجہ تسمیہ ہی یہ ہے کہ ادوار قدیم میں جب ہندوستان پر حملوں کے بعد یہاں سے ہزاروں کی تعداد میں لونڈیاں اور غلام افغانستان اور ایرانی علاقوں کی طرف لے جائے جاتے تو عام طور پر موسم سرما میں اس برفانی سلسلہ کوہ کو عبور کرتے ہوئے، ان قطار در قطار غلام بنائے مردو زن میں سے بہت بڑی تعداد شدید سردی اور دیگر مصائب کی وجہ سے ہلاک ہو جایا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے اس سلسلہ کوہ کا نام ہی ”ہندو کش“ پڑ گیا۔

لیکن دوسری طرف ہم برصغیر پر انگریزی قبضے کے واقعات کی تفصیل پر نظر دوڑائیں تو ان میں جہاں ہمیں انتہائی ظالمانہ قتل و غارت اور انتقام کے واقعات تو نظر آتے ہیں لیکن خواتین کے اغواء اور عصمت دری کا ایک بھی واقعہ ہمارے سامنے نہیں آتا۔ بلکہ جب انگریزی اقتدار برصغیر پر مستحکم ہو گیا تب بھی ہمیں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں اگر کسی انگریز سے ذاتی طور پر بھی ایسی حرکت سرزد ہو گئی تو اس کو بلا کسی رودو رعائت ان کے قانون کے مطابق سزا دی گئی۔

اس کے ساتھ ہی ہمیں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں ان انگریزوں نے دیسی خواتین کے ساتھ باقاعدہ شادیاں بھی کیں، اس ضمن میں ایک برطانوی صحافی رابرٹ تھورپ جن کو ”تحریک آزادی کشمیر“ کا پہلا شہید کہا جاتا ہے، ان کے انگریز والد نے وادی کشمیر کی اپنی سیاحت کے دوران ایک کشمیری دوشیزہ سے عشق ہو جانے پر اس کشمیری لڑکی سے شادی کر لی۔ اور اس کو اپنے ساتھ برطانیہ لے گیا، اس کے بطن سے جنم لینے والے اس انگریز کے بیٹے کو اس کی کشمیری ماں اپنے وطن کشمیر کے قصے اور واقعات سنایا کرتی تھی۔

جب یہ لڑکا جوان ہوا تو تو اس نے برطانیہ میں اپنی صحافت کا آغاز کیا، ماں سے سنی بچپن میں کشمیر کی کہانیوں کی وجہ سے اس کے دل میں اپنی ماں کا وطن، جس کی وہ بچپن سے داستانیں سنا کرتا تھا، کو دیکھنے کا شوق پیدا ہوا، ہندوستان پر انگریزی حکومت تھی لیکن کشمیر پر ڈوگرہ مہاراجہ حکمران تھا، تو رابرٹ تھورپ سیاحت کی غرض سے اور اپنی ماں کی جنم بھومی دیکھنے کشمیر آیا، لیکن یہاں آ کر اس ریاست کے ہندو ڈوگرہ حکمرانوں کے اپنی مسلم رعایا پر ظلم و ستم و غیر انسانی سلوک دیکھ کر حیران رہ گیا۔

اس نے یہاں سے ہی اپنے برطانوی اخبار میں، یہاں کے حالات عوام کی مظلومیت اور ان پر بہیمانہ ظلم و ستم پر چند مضامین لکھ کر برطانیہ اپنے اخبار میں شائع کروائے۔ جن کی وجہ سے برطانیہ کے حلقوں میں مہاراجہ کشمیر کے اپنی رعایا کے ساتھ غیرانسانی اور ظالمانہ سلوک پر گفتگو ہونے لگی۔ اس تمام بات اور اپنے مظالم کا پردہ چاک ہونے پر مہاراجہ کو بہت غصہ آیا لہذا اس نے اپنے ایک کشمیری پنڈت وزیر کے مشورے پر اس انگریز صحافی کو 22 نومبر سنہ 1868 کو سرینگر میں زہر دلوا کر ہلاک کر دیا، اس کی قبر آج بھی سرینگر کے شیخ باغ میں موجود ہے۔ اور کشمیری اسے تحریک آزادی کشمیر کے پہلے ”شہید کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS