بیوہ کارڈ


ماسی برکتے ابھی تو چھٹا روزہ ہے اور راشن بہت زیادہ ہوگیا ہے۔ میرا خیال ہے اب بس کر دینا چاہیے۔ دن میں کئ کئ جگہوں سے راشن اکھٹا کرتی نوراں تھکنے لگی تھی۔ نوراں تیرا دماغ چل گیا ہے یہی تو سیزن کے دن ہیں۔ اس مہینے جو جو کچھ اکھٹا کر سکتی ہے کر لے۔ ماسی برکتے نے پتے کی بات بتائی۔ لیکن اتنے راشن کا ہم کریں گے کیا، خراب ہوجائےگا۔ اری چپ کر تیری تو مت ماری گئ ہے کیا پہلے کبھی نہیں اکھٹا کیا راشن۔ ماسی برکتے نے نوراں کو جھڑک دیا۔ اور کرنا کیا ہے، وہ جو پارک کے سامنے سپر سٹور والا ہے اس کو جا کر بیچ آئیں گے کم قیمت پہ۔ کہہ ایسے رہی جیسے جانتی نہیں کچھ بھی۔ اتنے راشن کا کریں گے کیا، ماسی برکتے نے نوراں کی نقل اتارتے ہوئے ٹھٹھہ لگایا۔
ماسی اگر یہ راشن کوڑیوں کے دام ہی بیچنا ہے تو بہتر نہیں کہ ہم اسے کسی حق دار کو لینے دیں۔ نوراں پھر بولی۔
نوراں تجھ پر یہ کون سا بھوت سوار ہوا ہے آج، پہلے تو تم ایسی بہکی بہکی باتیں نہیں کرتی تھی۔ مجھے یاد ہے آج تک کتنے رمضان ہم نے اکھٹے بھگتائے ہیں۔ اور پھر ہم کون سا کوئ انہونا کام کر رہی ہیں۔ زیادہ تر راشن لینے والے یہی کرتے، ہم اکیلی تو نہیں ہیں۔ ماسی برکتے نے اسے رسان سے سمجھایا۔
ویسے بھی راشن بانٹنے والے ہم پہ احسان تھوڑا کرتے ہیں، دیتے ہیں تو اپنے اللہ کو دیتے ہیں۔ اللہ نے ان کے مال میں غریبوں یتیموں کا حق رکھا ہے۔ تیرے میرے لیئے نہیں اپنی آخرت سنوارنے کے لیئے دیتے ہیں۔ دیکھا نہیں کیسے خزانوں کے منہ کھول رکھے ہیں لوگوں نے اس مہینے۔ اب یہ صدقے زکوٰۃ خود تونہیں کھائیں گے۔ تجھے مجھے ہی دیں گے، تو پھر کیوں نہ لیں۔ آخر کو یتیموں اور بیواؤں کا حق ہے۔ اور تمھیں تو پتہ ہی ہے یہاں بیوہ اور یتیم کے نام پہ تو لوگ سارا سال ہی کھلے دل سے مدد کرتے ہیں۔ ہائے میں بیوہ میرے بچے یتیم، ماسی برکتے نے اپنامخصوص جملہ دہرایا۔
تیری بات تو ٹھیک ہے ماسی پر ہم حق دار تو نہیں نا کہ ہر یتیم اور بیوہ پر تو زکوٰۃ، خیرات نہیں لگتی۔ اور یہ تو ہم دونوں جانتی ہیں کہ ہم دونوں پر اللہ کا بڑا کرم ہے یہ صدقے خیرات لیئے بغیر بھی بہت اچھا گذارا ہوسکتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم زکوٰۃ اور مفت کے راشن لیتی ہیں۔ یہ ضرورت مندوں کا حق مارنے والی بات ہے۔
دیکھ نوراں حق کی بات نہ کر، یہاں حق دار ہے کون ؟ رمضان میں راشن،صدقے، خیرات زکوٰۃ اکھٹے کرنے والے حق داروں سے زیادہ دوسرے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اصل حق دار تو زیادہ تر شرم کے مارے نکلتے ہی نہیں گھروں سے۔ ان نامرادوں کی تو ناک ہی بڑی لمبی ہوتی ہے، یہ گھٹنوں تک۔ بس اسے ہی لے کے بیٹھے رہتے ہیں۔ خوداری کےنام پہ بھوکے مرجاتے ہیں، پر یہ سب لینے نہیں آتے۔ ہونہہ آئے بڑے خودار کہیں کے۔ نہیں لیتے تو نہ لیں ہم کیوں چھوڑیں۔آخر کو ہم بیوہ عورتیں، ہمارے بچے یتیم ہیں۔ ماسی کو غصہ آگیا۔
رمضان میں تو لوگوں کو نیکیاں کمانے کا سمجھو بھوت سوار ہوجاتا ہے، تو ہم کیوں نہ فائدہ اٹھائیں۔ غریب روزے دار کی بڑی عزت کرتے ہیں، بس اتنا کہنے کی دیر ہے، کچھ بھی ہوجائے میں روزہ کبھی نہیں چھوڑا۔ تو بس پھر دیکھ روزے دار کا خیال کیسے کرتے ہیں۔ جسے دیکھو مٹھی میں ہزار پانچ سو تھما دے گا، لے ماسی روزہ کھول لینا، آگے سے آنکھوں میں آنسو بھر کر روتی آواز میں دو چار دعائیں دو تو اگلی بار زیادہ پیسے دیتے ہیں۔ ماسی برکتے منہ کے آگے کپڑا رکھ کے ہنس پڑی۔
 حالانکہ ماسی تو نے زندگی میں کبھی روزہ رکھا ہی نہیں۔ بھوک تو تجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔
اب ایسی بھی بات نہیں نوراں، جوانی میں کبھی کبھار روزہ رکھ لیاکرتی تھی، پر سچی بات ہے یہ سموسے اور چاٹ وغیرہ دیکھ کر نا مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ پر کسی پہ ظاہر نہیں کیا میں نے آج تک کہ روزہ نہیں رکھتی، یہی کہتی ہوں روزے سے ہوں۔ جسے دیکھو پیسے اور راشن دے کر کہے گا مجھے ڈاکٹر نے منع کیا ہے روزے رکھنے سے، یہ روزوں کا ہدیہ لو اور میرے حصے کے روزے رکھ دینا۔ جب روزے رکھنے کے نام پر اتنے پیسے ملتے ہوں تو کیوں چھوڑوں پیسے۔ پچھلے سال روزے رکھنے کا پورا ایک لاکھ اکھٹا ہوا تھا مجھے۔ میں تو ان پیسوں سے اے سی لگوا لیا۔ تجھے بھی اس بار پیسے اکھٹے ہوتے ہیں تو پچھلے کمرے میں اے سی لگوا لینا۔ چل اٹھ اب نخرے نہ کر اور لگ لائن میں۔ دیر ہو رہی، پھر ملکوں کی طرف بھی جانا ہے راشن لینے۔
ماسی برکتے جہاں دیدہ عورت ہے۔ شادی کے دس سال بعد اس کا شوہر چار چھوٹے بچے اور بہت سا مال ومتاع چھوڑ کر وفات پاگیا۔ لیکن آفرین ہے ماسی برکتے کی دور اندیشی پہ اس نے بچوں کے علاوہ لوگوں کوکسی چیز کی بھنک تک نہ لگنے دی۔ ماسی برکتے نے بچوں کی یتیمی اور اپنی بیوگی کو خوب کیش کرایا۔ ہر کسی کے سامنے بیوہ کارڈ کو اس طرح استعمال کیا کہ کوئ بخیل سے بخیل شخص بھی ماسی برکتے کی بیوگی اور چار بچوں پہ ترس کھائے بنا نہیں رہتا تھا۔ ماسی برکتے کے بینک اکاؤنٹ میں لاکھوں روپے پڑے ہیں۔ لاکر زیور سے بھرا ہے۔ یہ سب ماسی برکتے نے اپنے برے وقت کے لیئے بچا کر رکھا ہے۔
نوراں ماسی برکتے کی ہمسائی ہے۔ دونوں کی دیوار سے دیوار اور ذہن سے ذہن ملے ہوئے ہیں۔ نوراں بیوہ ہوئی تو اس کے چاچے کے بیٹے نے نوراں سے نکاح کرنا چاہا۔ لیکن ماسی برکتے نے اسے بروقت صحیح راہ دکھائی۔ دیکھ نوراں اس بیوگی میں بڑی برکت ہے۔ ہاتھ پیر بھی ہلانا نہیں پڑتا، اور سب عیش بھی مل جاتے ہیں۔ ہر کسی کو بتاؤ تم بیمار ہو کام کاج نہیں کر سکتی، یتیم بچوں کے ساتھ کیسے گذارہ کروں۔ پھر دیکھو کس کس طرف سے پیسوں کی بارش ہوتی ہے۔ میری مان تو اس بیوگی کو اپنے لیئے نعمت جان۔ شادی کر کے تجھے چاچے کے پتر سے کیا ملنا دو وقت کی روٹی۔ وہ بھی احسان جتا جتا کے دے گا۔ الٹا جو تیرے پاس جمع پونجی ہے وہ بھی سب لے لے گا، کہ آخر کو سب جانتے گھر والا تیرا اچھا کماتا تھا۔ لیکن اگر تو بیوہ ہی رہتی ہے تو سمجھ تجھ پر اللہ کا کرم رہے گا۔ تیرا یہ کہنا ہی لوگوں کا دل چیر کے رکھ دے گا میں بیوہ میرے بچے یتیم اور گھر بیٹھے تجھے ساری آسائشیں مل جائیں گی۔ یاد رکھ لوگ بیوہ عورتوں اور یتیموں پہ بڑا ترس کھاتے ہیں، تیری ساری حیاتی سکھ میں کٹ جائے گی۔ میری مثال تیرے سامنے ہے۔ اور نوراں نے یہ بات پلو سےباندھ لی تھی۔
لیکن آج سورج کی تپش نے شائید نوراں کادماغ خراب کر دیا تھا۔اسی لیئے وہ راہ فرار ڈھونڈ رہی تھی۔ لیکن اب ماسی برکتے اسے پھر سے راہ راست پہ لے آئی ہے۔ لہذا وہ دیوار کی طرف منہ کر کے ہاتھ میں پکڑے شاپر سے دوائی کی بوتل میں ڈالی کوکا کولا پی کر واپس لائن میں لگ گئی۔
Facebook Comments HS