جسٹس فائز عیسیٰ کا فیصلہ غائب
اس وقت پورے ملک کے ساتھ سپریم کورٹ بھی تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سپریم کورٹ پر سیاسی کارکنوں کا ہجوم بدتمیزی حملہ آور ہے۔ اس مرتبہ معزز چیف جسٹس آف پاکستان کو سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی طرف سے ہی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ پہلے عزت مآب جسٹس منصور علی شاہ صاحب اور جسٹس مندوخیل صاحب کا ایک نوٹ سامنے آیا۔ اس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ صاحب کا پچیس صفحات پر مشتمل نوٹ سامنے آیا۔ اور آج حافظ قرآن کے لئے اضافی نمبروں کے مقدمہ میں محترم جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کا تفصیلی فیصلہ ہماری سپریم کورٹ کی سائٹ پر نمودار ہوا۔ کوئی ان سے اختلاف کرے یا اتفاق، ان تینوں فیصلوں میں بہت سے اہم نکات اٹھائے گئے تھے۔ اور پوری قوم ان پر بحث کر رہی تھی۔ لیکن اچانک جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کا فیصلہ جو کہ مع اردو ترجمہ کے سپریم کورٹ کی سائٹ پر موجود تھا، پر اسرار طریق پر غائب کر دیا گیا۔ شاید اس فیصلہ کے نتیجہ میں اتنے سوالات پیدا نہ ہوتے لیکن اس طرح سپریم کورٹ کی سائٹ سے ایک فیصلہ کو غائب کر دینا زیادہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ان فیصلوں میں اس بات پر تو کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ آئین میں انتخابات کا ایک وقت مقرر ہے اور انتخابات اپنے وقت پر ہی ہونے چاہئیں۔ لیکن ان فیصلوں میں اٹھائے گئے کئی نکات بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر نکات کا سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائی سے کوئی تعلق نہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ صاحب لکھتے ہیں :
When caprice and convenience of the judges takes over، we enter the era of an ”imperial Supreme Court“ ۔
ترجمہ: جب ججوں کی خواہشیں اور مصلحتیں حاوی ہوجائیں تو ہم ایک امپیریئل سپریم کورٹ کے دور میں داخل ہو جاتے ہیں۔
اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ ایک جمہوری ملک کے ستون کی بجائے ایک نوآبادیاتی دور کی یادگار کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ پھر اسی فیصلہ میں لکھا ہے
it is high time that we revisit the power of ”one-man show“ enjoyed by the office of the Chief Justice of Pakistan.
یعنی اب وقت آ گیا ہے کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے کیے جانے والے ون مین شو پر نظر ثانی کریں۔
ابھی اس نوٹ کی باز گشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ عزت مآب جسٹس اطہر من اللہ صاحب کا ایک نوٹ نمودار ہوا۔ اس نوٹ میں بجا طور پر لکھا تھا کہ آئین کی رو سے از خود نوٹس اس وقت لیا جانا چاہیے جب بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہوں لیکن اس کا استعمال بالکل مختلف مقاصد کے لئے کیا جا رہا ہے اور مسلسل کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے پاکستان کی تاریخ میں ایسے فیصلوں کی مثالیں دیں جن میں ملک میں مارشل لاء کے نفاذ اور آئین شکنی کو جائز قرار دیا گیا تھا اور یہ نتیجہ نکالا کہ ان فیصلوں کے نتیجہ میں ملک کو آمریت کے طویل ادوار کا دوزخ جھیلنا پڑا۔ اور پاکستان کے عوام نے ناقابل تلافی نقصان برداشت کیا۔ اطہر من اللہ صاحب کا یہ فیصلہ عملی طور پر پاکستان کی تاریخ میں سپریم کورٹ کے کردار کے بارے میں ایک چارج شیٹ تھا۔
اس از خود نوٹس کے بارے میں جج صاحب نے دلائل کے ساتھ یہ رائے دی کہ جب ان مسائل پر لاہور اور پشاور ہائی کورٹ میں کارروائی ہو رہی تھی تو اس معاملہ پر سپریم کورٹ کا از خود نوٹس لینا بلاجواز تھا۔ ان حقائق کو درج کرنے کے بعد جسٹس اطہر من اللہ صاحب نے اس المیے کی نشاندہی فرمائی :
Public trust is eroded when the Court is perceived as politically partisan and the judges as ’politicians in robes‘ .
ترجمہ: عوام کا اعتماد اس وقت مجروح ہوتا ہے جب عدالت ایک سیاسی فریق کے طور پر نظر آنے لگتی ہے اور ججوں کو ایسے سیاستدان سمجھا جاتا ہے جنہوں نے ججوں کا لباس پہنا ہو۔
اور اس نوٹ میں جج صاحب نے اس رائے کی تائید فرمائی کہ از خود نوٹس چار تین کی اکثریت سے مسترد ہو چکا ہے۔
یہ نوٹ اس بات کا واضح اعتراف تھا کہ ملک کی سپریم کورٹ سیاست میں ملوث ہو چکی ہے اور یہ اعتراف کسی معتوب صحافی یا دو ٹکے کے دانشور کا نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے ایک جج کا تھا۔ اس پس منظر میں جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کا فیصلہ سپریم کورٹ کی سائٹ پر آویزاں کیا گیا۔ اس فیصلہ نے محترم جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے از خود نوٹس کے بارے میں باقی تین جج صاحبان کی آراء سے اتفاق کیا۔ اور اس بات کا اظہار کیا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی صاحب کو وفاقی حکومت سپریم کورٹ سے واپس بلا چکی ہے۔ اور اس حکم کے بعد وہ زبردستی غیر قانونی طور پر رجسٹرار کے طور پر احکامات جاری کر رہے ہیں۔ یہ عاجز اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگر سپریم کورٹ خود اپنے دفاتر میں غیر قانونی احکامات کو نہیں روک سکتی تو وہ ملک کے عوام کو کیسے انصاف مہیا کرے گی؟
ایک اور بحث جو آج کل بہت زور شور سے جاری ہے وہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کا روسٹر اور بنچ بنانے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ اس فیصلہ میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس کو ماسٹر آف روسٹر قرار دیا جا رہا ہے جب کہ نہ صرف آئین بلکہ 1980 میں بننے والے قواعد میں کہیں پر چیف جسٹس کو ماسٹر آف روسٹر نہیں قرار دیا گیا۔ اگر یہ صحیح ہے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ پھر کس بنا پر معزز چیف جسٹس صاحب یہ اصرار کرتے رہے ہیں کہ بنچ بنانا ان کا صوابدیدی اختیار ہے۔
اس فیصلہ میں معزز جج صاحب نے اس بات کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کا صرف وہ فیصلہ نافذالعمل ہو گا جو کہ ان حدود کے اندر رہ کر دیا جائے جو آئین پاکستان نے اس کے لئے مقرر کی ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ بعض صورتوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر موثر نہیں رہتا۔ اس کے مثال انہوں نے یہ دی:
اختیار سماعت کے اہم نکتے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے، فرض کریں کہ سپریم کورٹ کسی قتل کا مقدمہ خود سننے کا فیصلہ کر لیتی ہے اور پھر ملزم کو سزا دے دیتی یا بری کر دیتی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس اقدام کا کوئی قانونی اثر نہیں ہو گا کیونکہ نہ تو آئین نے اور نہ ہی قانون نے سپریم کورٹ کو فوجداری مقدمہ چلانے کا اختیار سماعت دیا ہے۔ تاہم یہ مقدمہ کوئی سیشن جج چلا سکتا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے ججوں سے دو درجے نیچے ہے۔ اور دیوانی قانون سے مثال لیں، تو فیملی کورٹ کا کوئی جج تو عائلی قانون کے متعلق امور کا فیصلہ کر سکتا ہے، مگر یہ اختیار سماعت سپریم کورٹ کو حاصل نہیں ہے۔
اب تک تو ملک کئی دانشور حضرات اور نامور اینکر صاحبان یہ اصرار کرتے رہے کہ جب سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا تو پھر بس خاموش ہو جاؤ۔ ادب کا یہ تقاضا ہے کہ چوں چرا کیے بغیر احکامات کی پیروی کرتے جاؤ۔ لیکن جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے تو یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ اگر سپریم کورٹ اپنے آئینی دائرہ کار سے باہر جا کر کوئی فیصلہ دیتی ہے تو وہ قانونی طور پر موثر ہی نہیں رہتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی تاریخ میں سپریم کورٹ نے آئینی دائرہ کار سے باہر جا کر فیصلے سنائے ہیں یا نہیں۔ پھر کیاہم صرف خاموش ہی رہیں؟
اس ساری بحث کو لپیٹتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چیف جسٹس قابل احترام ہیں لیکن وہ ’ماسٹر‘ نہیں ہیں۔ دنیا بھی اس دور سے نکل رہی ہے جب بادشاہ اور آمر مطلق اختیار استعمال کرتے تھے۔ اور اس فیصلہ کا یہ آخری سخت جملہ اس خطرناک صورت حال کو بے نقاب کر رہا تھا:
”متکبرانہ آمریت کی دھند میں لپٹے کسی کمرۂ عدالت سے نکلنے والے فیصلے آئین کو برطرف نہیں کر سکتے۔“
کیا ملک کی تاریخ میں ہماری عدالتوں کے فیصلوں نے آئین کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کے فیصلے ملک پر مسلط کیے ہیں کہ نہیں۔ اگر اس کا جواب ’ہاں‘ میں ہے تو پھر قوم کے سامنے کیا راستہ بچتا ہے؟
بہر کیف یہ فیصلہ شائع کیا گیا اور پھر سپریم کورٹ کی سائٹ سے غائب بھی کر دیا گیا اور اوپر یہ لکھا ہے کہ یہ آخری پچیس فیصلوں کی فہرست ہے۔ کیا مذکورہ فیصلہ ان پچیس فیصلوں میں نہیں آتا۔ کس کے حکم پر ایسا کیا گیا؟ کیا اسی رجسٹرار صاحب نے اس کا حکم دیا تھا جن کے احکامات کو جسٹس فائز عیسیٰ صاحب نے اپنے فیصلہ میں غیر قانونی قرار دیا تھا۔ پاکستان کے آئین کی شق 19 کے تحت ہر شہری کو اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کی یہ آزادی محفوظ نہیں تو اور کس شخص کا یہ حق محفوظ ہو گا؟ اور اسی آئین کی شق 19 الف کے تحت مجھ جیسے ہر شہری کو عوامی اہمیت کی حامل تمام معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ اگر اس طرح ایک فیصلہ کو منظر سے غائب کر دیا جاتا ہے تو ہمارا یہ حق ناجائز طور پر سلب ہوتا ہے۔ عزت مآب چیف جسٹس صاحب غور فرمائیں کہ کس پاداش میں ہمارا یہ حق ہم سے چھینا گیا ہے؟ کیونکہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح تو کر سکتی ہے لیکن پاکستان کے عوام کے حقوق کو سلب نہیں کر سکتی۔ ہائے ابن انشا یاد آ گئے
کچھ کہنے کا وقت نہیں یہ کچھ نہ کہو خاموش رہو
اے لوگو خاموش رہو ہاں اے لوگو خاموش رہو
سچ اچھا پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیالہ بھی
پاگل ہو کیوں ناحق کو سقراط بنو خاموش رہو
ان کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے
سر آنکھوں پر سورج ہی کو گھومنے دو خاموش رہو
آنکھیں موند کنارے بیٹھو من کے رکھو بند کواڑ
انشاؔ جی لو دھاگا لو اور لب سی لو خاموش رہو


