پروفیسر اجمل ساوند: خُون سے لال دھرتی


بچپن میں سندھ کے جھنڈے کو لال رنگ اور بیچ میں کلہاڑے کا لوگو دیکھتا تو حیرت ہوتی تھی اور سوال اُٹھتے کہ آیا کیوں یہ لال جھنڈا ہے اِس کا کیا مطلب ہے؟

آج سمجھ آیا یہ سرمایہ دارانہ جاگیر دارانہ سردارانہ نظام کا سندھ کی دھرتی کے ساتھ کھلواڑ ہے یہ سرخ رنگ، رنگ نہیں بلکہ عوام کا بہایا گیا خُون ہے ۔اور یہ کلہاڑا ہم پر مسلط قابض ٹولے کی نشاندھی ہے جو ہمیں غلام رکھنے کے لیے طاقت پیسے کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔
یہ طبقہ علم تعلیم ترقی جدت کے افکار مُنکر اور دشمن طبقہ ہے یہ طبقہ ہمیں محکوم غلام رکھنے کا طبقہ ہے۔ یہ طبقہ ہمیں conformist رکھنے کا طبقہ ہے یہ چاہتے ہیں یہ اپنی عیاشیوں میں مگن رہیں اور تنازعات سے سوشل کنٹرول قائم رہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ہاں میں، ہاں ملا کر رہیں اِن کی غلامی کرتے رہیں یہ نہیں چاہتے کہ عوام میں تعلیم آئے آگاہی آئے، یہ چاہتے ہیں عوام بے شعور ہوکر ان کے نیچے رہ کر زندگی گزارے ۔یہی وجہ ہے ہمارے سندھ میں اسکول سسٹم میں تعلیمی معیار تباہ ہے۔ گاؤں دیہاتوں میں اسکولوں کے ماسٹر وڈیرے کی سفارشات پر بنے ہوتے ہیں اور سال میں ایک بار نظر آتے ہیں نہیں تو گُم رہتے ہیں اسکول میں طلباء کے بجائے بھینسوں کا باڑا بن جاتا ہے۔ سندھ کے بورڈ کا معیار انہی کے وجہ سے تباہ ہے نَقل کرنا آسان بنا کر یہ تخلیقی زہن تباہ کر رہے ہیں اور پیغام دے رہیں ہیں نقل کرو بس، پڑھنے کی شعور لانے کی ضرورت ہی کیا؟

اِن کے پاس ہر کسی کو خریدنے کا راز ہے یہ ہر کسی کو خریدنے میں کچھ ہی وقت لیتے ہیں ڈاکو سے پولیس تک ، ایک چھوٹے سے لائن مین صحافی سے لے کر بڑے بڑے آفیسرز تک ۔سب کو خرید کر اپنے مطابق چلانے کا اختیار ہے ،پولیس اور ڈاکو ان کے سب سے بڑے ہتھیار ہیں کہاں کس ہتھیار کا استعمال کرنا ہے یہ بخوبی جانتے ہیں۔ جب جسے چاہا اُٹھوا لیا، اغواء کروا دیا ، جسم گولیوں سے چھلنی کرکے کسی گمنام گلی کوچے میں پھینکوا دیا پولیس مقابلے کا نام دے کر مروا دیا یا ڈاکوؤں کا نام دے کر مروا دیا۔

آج جو ایک پڑھے لکھے پروفیسر کے ساتھ معاملہ ہوا ہے یہ آج کا معاملہ نہیں ہے یہ اب سے نہیں ہے یہ بہت پہلے سے ہے،یہ روز کا معمول کا ہے ، روز کتنے ہزاروں ماؤں کے بیٹے یہ گم کر رہے ہیں اور گُم کرچکے ہیں، کتنے ہی ماں اپنے بیٹوں کی غم میں پاگل ہوگئے کتنے ہی باشعور نوجوان پڑھے لکھے طبقے کو انہوں نے ایجنسیوں کی گمنام کوٹھڑیوں میں پھینک دیا ۔کتنوں کو ڈاکوؤں کو پیسے دے کر مروایا جب جس نے آواز اٹھائی اس کے نام و نشان مٹا دیے گئے

آج ایک پروفیسر اجمل ساوند کو بے دردی سے مار کر انہوں اپنے نظریے کے پیغام کو اور واضح اور کُھلا کر دیا ہے

"کہ اے تم سندھ واسیوں تم لوگ ہمارے غلام ہو ہم اپنی مرضی اپنی خواہش کے مطابق اے سی کے بند کمروں میں بیٹھ کر جس کے ساتھ جب جو چاہیں وہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، تم سب کی مستقل کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم ہی تمہاری خدا میں ہیں ہماری عبادت کرو تو جنت نہیں تو جہنم واجب ہے ، ہم تمہارے گاؤں کی آئے ہوئے اسکول کے فنڈز سے اپنے بچے باہر ممالک میں پڑھائیں گے تمہارے سڑکوں کے فنڈز سے باہر فلیٹس لیں گے ، باہر اپنے لئے ڈالر کے ذخائر لگائیں گے یہاں بدامنی پھیلائیں رکھیں گے تاکہ ہمارا شاہانہ نظام چلتا رہا۔ اور ہاں تُم ہماری محکومیت میں ہاں میں ہاں ملائے رہو نہیں تو ورنہ تمہاری لاش بھی کسی گلی میں پڑی سڑ رہی ہوگی۔”

Facebook Comments HS