اردو ناول جدیدیت کے تناظر میں: تعارفی مطالعہ
ڈاکٹر مظہر عباس شعبہ اردو، دی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ فکشن اور تنقید ان کے خاص میدان ہیں۔ ناول کی دلچسپی ہی تھی جس کے باعث انھوں نے ڈاکٹریٹ کے لیے ”اردو ناول پر جدیدیت کے فکری و فنی اثرات“ جیسا موضوع منتخب کیا۔ ان کی تازہ کتاب ”اردو ناول جدیدیت کے تناظر میں“ ان کے پی ایچ ڈی کے موضوع کی ترمیمی شکل ہے جسے فکشن ہاؤس لاہور نے 2023 ء میں شایع کیا ہے۔ پی ایچ ڈی کے اس پروجیکٹ کے نگران کار ڈاکٹر نجیب جمال صاحب ہیں جو خود بھی ناول کی فنی باریکیوں اور جدید و مابعد جدید تنقید سے عمیق آگاہی رکھتے ہیں۔
جدیدیت بیسویں صدی کی ایسی صورت حال ہے جسے معرض تفہیم میں لانا مشکل کام ہے کیوں کہ اردو کے اکثر ناقدین جدیدیت کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ وہ ماڈرن ازم، ماڈرنٹی اور ماڈرنائزیشن کی حدود کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں۔ کچھ اسے روایت سے جوڑتے ہیں اور کچھ روایت کے انقطاع پر زور دیتے ہیں۔ یورپ میں جدیدیت ایک صورت حال ہے اور اس صورت حال میں فکرو فن کے جو تصورات رائج ہوئے، وہ جدیدیت کی ذیل میں آتے ہیں اور ان ہی کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر مظہر عباس نے اردو ناول پر جدیدیت کے فکرو فنی اثرات کو تلاشنے کی کوشش کی ہے۔
انھوں نے اس کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا باب ”جدیدیت پس منظر اور پیش منظر“ کے عنوان سے ضبط تحریر میں لایا گیا ہے۔ باب کے شروع میں انھوں نے جدیدیت کو مختلف ناقدین کی آرا کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ جدیدیت کی کلی تفہیم، اس کے فکری پس منظر کو سمجھے بغیر ممکن نہیں اسی لیے احیائے علوم کی تحریک، اصلاح دین کی تحریک، انسان دوستی، وجودیت اور مارکسزم کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ باب دوم ”اردو ناول پر جدیدیت کے فکری اثرات“ کے زیر عنوان، رقم کیا گیا ہے۔
باب کے آغاز میں اردو ناول اور وجودیت کے اثرات کو پیش کیا گیا ہے۔ بحث کے بعد مصنف اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ”اردو ناول میں وجودیت اور وجودی کیفیات اس طرح موجود نہیں ہیں جیسے مغربی ناول اور خاص طور پر سارتر اور کامیو کے ناولوں میں نظر آتی ہیں۔ اردو ناول میں زیادہ تر سیاسی، سماجی، معاشی، تہذیبی اور نفسیاتی شعور کو پیش کیا گیا ہے۔ کہیں کہیں کرداروں اور ناول کی مجموعی صورت حال میں وجودی کیفیات کا گہرا نقش ضرور نظر آتا ہے۔
وجودیت کے گہرے اثرات عزیز احمد، قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، انیس ناگی، انور سجاد، جوگندر پال، مشرف عالم ذوقی، مرزا اطہر بیگ اور خالد جاوید کے ناولوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔“ اسی طرح انسان دوستی نے بھی اردو ناول کو متاثر کیا ہے، جس کے مختلف زاویوں سے ناول کو دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے جیسے سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکی انسان دوستی کے تناظر میں اردو کے متعدد ناول نگاروں کی تخلیقات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ اردو ناول میں اگرچہ اشتراکی انسان دوستی کو بہت زیادہ پیش نہیں کیا گیا، لیکن جتنا ذکر آتا ہے قابل توجہ ہے اور اردو ناول میں موضوعاتی وسعت کا باعث بنا ہے۔ جدیدیت کا ایک اور پہلو روشن خیالی بھی ہے جسے یورپ کی تاریخ کے تاریک دور میں مذہبی طبقے نے کچل دیا تھا۔ نشاۃ ثانیہ کے دور میں اس کا احیا ہوا اور بیسویں صدی میں رونما ہونے والی جدیدیت میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہوئے۔ اردو ناولوں میں روشن خیالی اور سیکولر نظریات کا اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔
ناول نگاروں نے مذہبی تعصبات سے ماورا ہو کر انسان اور انسان سے وابستہ مسائل اور اس کے کائنات کے ساتھ رشتے کو اجاگر کیا ہے۔ پریم چند اور کرشن چندر، سے لے کر سجاد ظہیر اور عبداللہ حسین کے ناولوں میں اسے دریافت کیا جا سکتا ہے۔ باب کے آخر میں جدید سیاسی، معاشی، معاشرتی منظر نامے میں اردو ناول کو پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس حوالے سے مرزا اطہر بیگ کے ناول ”غلام باغ“ ، وحید احمد کے ناول ”زینو“ اور مشرف عالم ذوقی کے ناول ”پوکے مان کی دنیا“ کو بطور خاص زیر بحث لایا گیا ہے۔ مصنف کا خیال ہے کہ نو استعماریت، کنزیومرزم، میڈیا، گلوبلائزیشن، انٹر نیٹ، چیٹنگ اور جنک فوڈ کے اثرات نہ صرف معاشی سطح پر موجود ہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی نوجوان نسل کو متاثر کر رہے ہیں۔
تیسرا باب ”اردو ناول کا فن اور جدیدیت“ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس باب میں جدیدیت کی جن تکنیکوں نے اردو ناول کو متاثر کیا ان میں علامت نگاری، شعور کی رو، آزاد تلازمہ خیال، داخلی خود کلامی، تجریدیت، فلیش بیک، فلیش فارورڈ اور سررئیلزم کو بطور خاص تجزیے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ ان تکنیکوں کے استعمال سے ناول نگاروں نے کرداروں، ماحول، مناظر اور اسلوب کی سطح پر اردو ناول نگاری کو ثروت مند کیا ہے۔ مذکورہ تکنیکوں سے متاثر ہو کر ناول نگاروں نے کرداروں کی خارجی دنیا کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ داخل کو بھی اہمیت دی اور اس ضمن میں ڈورتھی رچرڈ سن، بودلئیر، ملارمے، پال ورلین، ورجینیا وولف، جمیز جوائس، ولیم جیمز اور ولیم فاکنر جیسے ناول نگاروں کے فنی محاسن سے استفادہ کیا ہے۔
چوتھا باب ”منتخب اردو ناولوں کا خصوصی مطالعہ“ ہے جس میں قرۃ العین حیدر کے ”آگ کا دریا“ ، انور سجاد کے ”خوشیوں کے باغ“ ، جوگندر پال کے ”نادید“ اور فہیم اعظمی کے ”جنم کنڈلی“ کو جدیدیت کے تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر مظہر عباس نے ”آگ کا دریا“ کو موضوع اور تکنیک ہر دو حوالوں سے جدید ناول کا پیش رو قرار دیا ہے۔ انور سجاد کا ناول ”خوشیوں کا باغ“ براہ راست جدیدیت سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ اردو کا واحد ناول ہے جو ایک پینٹنگ سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے۔
یہ پینٹنگ پندرہویں صدی کے مصور ”ہایئر انیمس بوش“ کی ہے جسے اس نے The Garden of Delights کا نام دیا تھا۔ ناول میں بیک وقت حقیقت نگاری، علامت نگاری، استعارہ، خواب اور بیداری، آزاد تلازمہ خیال اور خود کلامی کی تکنیکیں مستعم ہیں۔ ناول نگار کی فکری وسعت، مشاہدے کی گہرائی اور بیان کے قرینے نے اسے جدید اردو ناول میں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ جوگندر پال کا ناول ”نادید“ جدید اردو ناول میں تکنیک کے اعتبار سے منفرد اہمیت کا حامل ہے۔
ناول میں جس طرح بلائنڈ ہاؤس کا نقشہ کھینچا گیا ہے وہ ہندوستان کے سماج کی علامت بن جاتا ہے۔ اندھے لوگوں کی داخلی بصیرت کو آنکھوں کی بصیرت پر ترجیح دے کر اردو ناول میں انوکھا تجربہ کیا گیا ہے ۔ جدیدیت کی ایک اور صفت تجربہ پسندی ہے۔ تجربہ ہی ایک ایسی شے ہے جس سے انسان زندگی اور کائنات کے حقائق کو گرفت میں لیتا ہے۔ یورپ میں ناول نے تجربہ پسندی سے خاصا استفادہ کیا، اردو ناول نگاروں نے بھی اس سے اثرات قبول کیے ہیں۔
قرۃ العین حیدر سے لے کر انور سجاد، انیس ناگی اور فہیم اعظمی نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ فہیم اعظمی کا ناول ”جنم کنڈلی“ اس کی بہترین مثال ہے۔ اس ناول میں جدیدیت کی متعدد تکنیکوں کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ شعور کی رو، خود کلامی اور سررئیلزم کے عناصر نے اس کے بیانیہ میں پیچیدگی کو ہوا دی ہے۔ کتاب کا آخری باب ”اردو ناول جدیدیت کے تناظر میں“ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔ اس باب میں مصنف نے قاری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اردو ناول نے براہ راست جدیدیت کے اثرات قبول کیے ہیں۔
روشن خیالی کے ابتدائی اثرات نذیر احمد کے ہاں موجود ہیں۔ اردو کے بیشتر ناول روشن خیالی اور سیکولر ازم کے حامل ہیں۔ مذہبی تعصب، نسلی تعصب، روایت پرستی، قدامت پسندی اور اسلاف پرستی جیسے رجحانات سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ تاریخی ناولوں میں یہ اثرات آسانی سے مل جاتے ہیں۔ روشن خیالی اور سیکولر خیالات کا آغاز پریم چند، کرشن چندر سے ہوتا عبداللہ حسین اور مرزا اطہر بیگ تک موجود ہے۔ اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جو اردو ناول کے فکری و فنی ارتقا کا باعث بنے گا۔
ڈاکٹر مظہر عباس نے اردو ناول کو جدیدیت کے تناظر میں پرکھنے کے لیے تفصیلی اور تجزیاتی مطالعہ بڑی ژرف نگاہی سے کیا ہے اور کسی بھی جگہ خیالات کے تسلسل کو منقطع نہیں ہونے دیا جس سے نتائج کے استنباط میں قاری کو آسانی محسوس ہوتی ہے۔ مذکورہ کتاب ناول کی تجزیاتی تنقید میں گراں قدر اضافہ ہے اور ناول کے عشاق کے لیے نئے تناظر کا باعث بنے گا۔


