مصطفی ہوٹل بمبئی
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے
اب تک ہم جن ہوٹلز میں بھی ٹھہرے ان میں سے کوئی بھی ہوٹل کسی مسلمان کا نہیں تھا۔ اس سے بظاہر کوئی فرق تو نہیں پڑتا لیکن اگر آپ کسی ایسے ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں جن کے مالکان مسلمان ہوں تو وہاں پر آپ کو بہت ساری سہولیات خود بخود میسر آ جاتی ہیں مثلاً کھانے میں یقینی طور گوشت مل جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نماز وغیرہ کا بھی بندوبست کیا گیا ہوتا ہے۔
ہوٹل کے مالک عبدالسمیع کافی لمبی چوڑی جسامت کے مالک تھے اور اونچی آواز میں بات کرنے کے بھی عادی تھے۔ میں فارغ وقت میں ان کے پاس بیٹھ کر ان سے ممبئی کے بارے میں وہ باتیں کرتا رہتا جن کا تعلق مسلمانوں اور ہندوؤں کے آپسی تعلقات اور شہر کی معاشی و معاشرتی زندگی سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر یہاں پر کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ شہر میں ہندوؤں کی آبادی 60 فیصد سے زائد ہے اور کچھ لوگوں کے مزاج میں شر پسندی بھی پائی جاتی ہے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کم ہے۔
مسلمانوں کے لیے زیادہ مشکلات نہیں ہیں۔ البتہ جس چیز کو ہم ہندوؤں کی مسلمانوں سے نفرت کہتے ہیں وہ ان کے دھرم کا حصہ ہے۔ مثلاً ہندو دھرم میں گوشت کھانا بہت برا سمجھا جاتا ہے اور وہ کسی ایسے شخص کو ملنا بھی پسند نہیں کرتے جو گوشت کھاتا ہو۔ اگر کوئی ایسا شخص ان کے گھر چلا جائے تو وہ یقینی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا گھر ناپاک ہو گیا ہے۔ آپ اسے ہندوؤں کی مسلمان دشمنی کا نام دیں یا کوئی اور یہ ان کے دھرم کا حصہ ہے۔ وہ ہر غیر ہندو کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہ کوئی خاص مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔
یہ 1999 ء کی بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت بھی میں کچھ ہندوؤں کے گھر گیا تھا اور مجھے کسی طرح کا کوئی بھی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ اس پر میں نے ان سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ پرانی نسل کا ہے نئی نسل کا نہیں۔ نئی نسل کے ہندو لڑکے اور لڑکیاں گوشت کھاتے بھی ہیں اور نہیں بھی کھاتے لیکن جو جتنا مذہبی ہوتا ہے وہ اتنی ہی احتیاط کرتا ہے۔ نئی نسل دوسری طرح کے لوگوں سے ملنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتی۔
میں نے ان سے مسلمانوں کے بارے میں بات کی۔ جس پر ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی اکثریت اپنی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ہم میں اتحاد بھی مناسب ہے۔ ابھی تک لوگ جدید رجحانات کا شکار نہیں ہوئے۔ ہمارے لباس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ ہمارے بچے نئے رجحانات کے مطابق لباس پہنتے ہیں۔
کاروبار کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ ہندو اور پارسی بڑی دیر سے کاروبار کر رہے ہیں۔ اس لیے کوئی شک نہیں کہ زیادہ تر کاروبار انھی لوگوں کے پاس ہیں لیکن اب آہستہ آہستہ مسلمان بھی کاروبار میں آرہے ہیں۔ پرانی نسل کے لوگ زیادہ تر مزدوری کرتے تھے۔ میں نے عبدالسمیع صاحب سے پوچھا کیا آپ کا تعلق گجرات سے ہے؟ میں نے سنا ہے کہ ممبئی کے لوگ گجرات والوں کو پسند نہیں کرتے، اس میں کتنی حقیقت ہے؟ اس پر انھوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے۔
ان لوگوں نے اس کام کے لیے تحریک بھی چلائی اور اپنی زبان کی بنیاد پر ایک الگ اسٹیٹ کی مانگ بھی کی۔ جو انھیں مل گئی لیکن اب حالات بدل گئے ہیں اور اب کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ آنے والے دنوں میں یہ فرق مزید کم ہو جائے گا۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ شیو سینا سے متعلق میں نے ان سے جاننا چاہا، جس پر انھوں نے زیادہ بات نہیں کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ شیو سینا کی پالیسیز عمومی طور پرنا پسند کی جاتی ہیں۔ انھیں اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ شیو سینا آگے جاکر کتنی طاقتور ہو جائے گی۔
ایک دن عبدالسمیع صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ منی بیگم کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں میں جانتا ہوں وہ غزلیں گانے والی ایک خاتون ہے جو بڑی عمر کے لوگوں کو بہت پسند ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں بھی ان کی گائیکی بہت پسند ہے لیکن یہاں پر ان کی کیسٹس نہیں ملتیں۔ اس وقت ابھی انٹرنیٹ عام نہیں ہوا تھا اور کمپیوٹر بھی ہر جگہ پہ موجود نہیں تھا۔ ٹیپ ریکارڈ کا دور تھا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ کا آئندہ آنا ہو تو میرے لیے منی بیگم کی کیسٹس ضرور لے کر آنا۔ میں جب دوبارہ ممبئی گیا تو میں ان کے لیے منی بیگم کی کیسٹس ساتھ لے کر گیا جس پر وہ بہت خوش ہوئے شکریہ بھی ادا کیا۔






