ہوش ربا مہنگائی اور ہماری روزمرہ زندگی


جب ترسیلات زر، برآمدات اور ٹیکس وصولی میں کمی کی وجہ سے ملکی کرنسی کی قدر گھٹ جاتی ہے تو مہنگائی کا جن بے قابو ہوتا ہے، اور مہنگائی غریب عوام کی روزمرہ زندگی، معیشت اور نفسیات پر گہرے منفی نقوش چھوڑ جاتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے ایک ملک بیرونی قرضوں کے دلدل میں پھنس کر اپنی خودمختاری کھو بیٹھتا ہے اور مقروض ملک کے عوام سیاسی بالغ نظری، معاشی خوش حالی اور تخلیقی صلاحیتوں سے محروم رہتے ہیں۔ مقروض عوام کی پہلی ترجیح پیٹ ہوتی ہے۔

مہنگائی دراصل بچت، اعتدال، برداشت اور سنجیدگی کے لیے زہر قاتل ہوتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کاروباری مراکز اور صنعتیں بند ہو کر بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ غریب ملکوں میں جرائم، عدم برداشت اور خودکشیاں معمول کا حصہ ہوتی ہیں، مگر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر غریب ممالک کے حکم ران ناقابل تصور حد تک سرمایہ دار اور دولت مند ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جس کے عوام غریب اور حکم ران دولت مند ہیں۔

پاکستانی عوام مہنگائی، غربت، افلاس، جرائم اور بے روزگاری کو اپنی تقدیر اور اپنے اعمال کا صلہ سمجھتے ہیں۔ ان کی نظر میں ان کے منظور نظر رہنما دودھ کے دھلے اور باقی رہنما تمام مسائل کی جڑ ہیں۔ ان کے نزدیک ان کو درپیش تمام بحرانوں کا خاتمہ صرف ان کے پسندیدہ رہنما ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن آج تک کسی نے یہ سوچا نہیں ہو گا کہ ان کے معیار زندگی اور ان کے پسندیدہ رہنماؤں کے معیار زندگی میں کتنا فرق ہے۔ کیا پاکستانی عوام یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ان کے پسندیدہ رہنما بدعنوان، جھوٹے، فریبی، مکار، عیاش اور بداخلاق بھی ہوسکتے ہیں؟ کیا پاکستانی عوام یہ تصور کر سکتے ہیں کہ ان کو درپیش تمام مسائل کے ذمہ دار ان کے پسندیدہ رہنما ہیں؟ شاید نہیں۔

اندھی عقیدت ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو سوچنے، سمجھنے، تنقید کرنے اور سوال اٹھانے سے روکتی ہے۔ مسائل خلا میں معلق چیز نہیں، بل کہ اس کے پیچھے کئی محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔ پاکستان کو درپیش تمام مسائل مصنوعی ہیں قدرتی نہیں، مگر مستقل ہیں عارضی نہیں۔ پاکستان میں صرف عوام غیر محفوظ، مہنگائی کا شکار اور بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جب کہ سیاست دان، جرنیل، جج، بیوروکریٹ اور اعلیٰ افسر محفوظ، خوش حال اور بنیادی سہولتوں سے آراستہ ہیں۔

یہاں صرف غریب عوام بے گھر ہیں، جب کہ ان کے رہنما بیرون ملک میں بھی بڑے بڑے محلات اور جائیدادوں کے مالک ہیں۔ یہاں ووٹ دینے والے غریب سے غریب تر اور ووٹ لینے والے امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں عوام نے خود سے زیادہ رہنماؤں کے لیے خون سینچا ہے۔ یہاں کے عوام کو اپنی اولاد سے زیادہ حکم رانوں کی اولاد کی فکر رہی ہے۔ یہاں کے عوام محنت پر یقین نہیں رکھتے۔ یہاں کے عوام درپیش مسائل اور مہنگائی کا مقابلہ بحث مباحثوں، گھریلو لڑائیوں اور مخالف سیاسی رہنماؤں کو برا بھلا کہنے سے کرتے ہیں۔

فی زمانہ مہنگائی سے کوئی مفر نہیں۔ بجلی اور گیس کے بلز آمدنی سے زیادہ آنے لگے ہیں۔ غیر معیاری سستا آٹا کے حصول کے لیے درجنوں لوگ زندگی ہار گئے ہیں اور سو روپیہ میں سے سینتالیس روپیہ غیر موثر ہو گئے ہیں۔ علاج معالجے کو عیاشی تصور کیا جاتا ہے ۔ رمضان المبارک میں افطار اور سحری کا بندوبست کرنا آزمائش بن گیا ہے۔ تعلیمی سال کے آغاز پر پرائیویٹ اسکول اور اسٹیشنری مافیا نے عوام کو بے دردی سے لوٹا۔ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ بیکری اور قصاب مافیا نے رہی سہی کسر پوری کردی اب عید کی آمد پر درزی برادری، کپڑے اور جوتے بیچنے والے مافیاز سرگرم ہو گئے ہیں۔ عوام کو اعتدال اور کفایت شعاری سے کام لینا ہو گا۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ بے حس اور بے بس ہو گئی ہے۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور مخلص رہنماؤں کی قلت نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے۔ پاکستانی سیاسی رہنماؤں کی کم زوری موروثیت ہے جس کی وجہ سے ملک میں عسکری مداخلت اور مذہبی انتہاپسندی نے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ طاقت ور حکم رانوں نے غبن کے ذریعے ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ہے، قانون کو بے اثر کیا ہے، احتساب کا عمل ناکارہ بنایا ہے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو غدار اور باغی ٹھہرایا ہے۔ عوام تبدیلی کے آرزو مند نہیں رہے، صحافیوں نے سچ بولنا چھوڑ دیا ہے، رہنماؤں کو موروثیت سے پیار ہو گیا ہے، مسائل جنم لینے لگے ہیں اور مہنگائی بڑھ گئی ہے۔

مہنگائی تفریح، ادب، موسیقی، تخلیقی صلاحیت، خودی اور منطقی سوچ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مہنگائی زدہ معاشرے میں اقدار اور روایات کی پاس داری نہیں ہوتی اور نہ ہی ایسے معاشرے میں خوش گوار ازدواجی زندگی، پرخلوص دوستیاں، تسلی بخش ہمسائیگی، غریبوں کی مدد، پرتکلف ضیافتیں، بچوں پر شفقت، بڑوں کی عزت، عورتوں کا احترام اور معذوروں کی قدر ہوتی ہے۔ مہنگائی نے چائلڈ لیبر، خواتین پر تشدد، دماغی امراض، دہشت گردی، انتہاپسندی، ضعیف الاعتقادی اور اسٹریٹ کرائمز میں بے تحاشا اضافہ کیا ہے۔ مہنگائی زدہ معاشرے میں ملک کی محبت اور باہمی اتحاد و اتفاق بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح مہنگائی زدہ عوام عالمی حدت، آبادی میں اضافہ، مذہبی ہم آہنگی، ملکی قوانین اور حتی کہ اپنے بنیادی حقوق سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔

عوام نے مہنگائی کے خلاف تین محاذوں پر لڑنا ہو گا: دن رات ایک کر کے محنت و مشقت کرنا، غیر مخلص اور بدعنوان سیاسی رہنماؤں کا بائیکاٹ کرنا اور منتخب نمائندوں کا سخت احتساب کرنا۔ پاکستان میں مہنگائی ہمارے حکم رانوں کی عیاشیوں، بدعنوانیوں اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ مہنگائی نے نہ صرف ہماری معیشت اور سیاست کو گدلا کیا ہے، بل کہ ہماری تہذیب و ثقافت اور سماجی اقدار کو بھی داؤ پر لگایا ہے۔ حالیہ ناقابل برداشت مہنگائی نے سفید پوش عوام کو کوڑیوں کا محتاج بنایا ہے اور ملک کو بین الاقوامی دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بنایا ہے۔

حکم رانوں کو چاہیے کہ وہ ملکی اداروں کو باہمی تصادم سے بچائیں، باہمی سیاسی دشمنیوں سے بچیں اور اپنی تمام تر توجہ مہنگائی کے خاتمے پر مرکوز رکھیں۔ عوام کو باعزت امداد کی فوری ضرورت ہے۔ عوام کی قوت خرید ختم ہو چکی ہے اور قوت برداشت بھی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ ملک میں سرعام لاقانونیت اور انارکی پھیلے، حکم رانوں کو ہوش کا ناخن لینا چاہیے۔ یہ ملک مزید سیاسی انتشار، اداروں کے باہمی تصادم اور ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

Facebook Comments HS