الیکشن کب ہوں گے؟
یہاں پر ہم فردا فردا جائزہ لیں گے آخر معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک کیوں پہنچ گئے ہیں۔ مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ریاست بچانے کے لیے قربانی دے کر اپنی سیاست داؤ پر لگا دی ہے۔ اس لیے ریاستی ادارے ان کا ساتھ دیں۔ اگر پچھلے سال الیکشن میں جاتے تو نون لیگ جیت جاتی مگر ڈیفالٹ کی تلوار بھی سر پر لٹک جاتی۔ اس میں کچھ حقیقت ہے یا نہیں اس کو ووٹر دیکھ لیں گے۔ مگر نون لیگ کا آخر بیانیہ ہے کیا اس کا تھوڑا سا جائزہ لیں گے۔
لیگی ایم این اے جاوید لطیف سنیچر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دو ہزار دو، دو ہزار آٹھ اور دو ہزار اٹھارہ میں ہماری قیادت کو الیکشن سے باہر کیا گیا۔ اس سب میں اسٹیبلشمنٹ انوالو رہی ہے۔ اب بھی اگر قیادت الیکشن سے باہر رہتی ہے تو اس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس کا بھرپور مقابلہ ہو گا۔ ہر سطح پر مزاحمت کرنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ نون لیگی سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پچھلے سال اپریل میں ریاستی اداروں کی ایماء پر الیکشن نہیں کروائے تھے اور اسمبلی پوری کرنے کی جانب گئے تھے۔
ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی خاطر مہنگائی کی سبسڈیز ختم کیں جن سے پارٹی غیر مقبول ہوئی۔ ووٹر متنفر ہو گیا۔ اور اب اگر وقت سے قبل الیکشن ہوتے ہیں تو ان کا صفایا ہو جائے گا۔ الیکشن کا ماحول گرمانا ممکن نہیں رہے گا پنجاب میں ہمیشہ ووٹ حاصل کرنے والی مسلم لیگ نون کو امیدوار بھی نہیں ملیں گے۔ چیف آرگنائزر مریم نواز جلسوں میں مسلسل کہتی رہی ہیں کہ مسلم لیگیوں کو معمولی کیسز میں نااہل کیا گیا مگر عمران خان کو لاڈلا بنایا گیا ہے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔
پولیس گرفتار نہیں کر پا رہی۔ بہت سارے کیسز میں فرد جرم عائد نہیں ہو پا رہی۔ ان حالات میں الیکشن کا انعقاد ہی بے معنی ہو جائے گا۔ مسلم لیگ نون چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف بھی وہی کچھ ہو جو ان کے خلاف دو ہزار سترہ میں کیا گیا تھا۔ ورنہ پھر وہ بھی ہٹ دھرمی پر اترے رہیں گے۔ دوسری جانب عمران خان سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے لیے یہ ماحول بہت سازگار ہے۔ وہ مقبولیت کی انتہا پر ہیں ووٹرز چارج ہیں اور وہ بآسانی الیکشن جیت جائیں گے۔
معروف صحافی عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ عمران خان نے قبل از وقت دو صوبائی اسمبلیاں توڑ کر جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کی کتنی مخالفت کرتی ہے تاکہ وہ عام انتخابات تک اپنی حکمت عملی کا جائزہ لے سکیں۔ اگر عمران خان کی حکمت عملی کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو انہوں نے محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دیا ہے اور جارحانہ اقدامات سے ان کی مقبولیت بھی بڑھی ہے لہذا وہ ہر قیمت پر اسے کیش کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں اعلی عدلیہ ان کے ساتھ ہے۔
دیکھتے ہیں کہ اس وقت آپشنز کیا ہیں اگر حکمران اتحاد اور پی ٹی آئی میں مذاکرات ہوتے ہیں کہ عام انتخابات اکتوبر میں اکٹھے کروا لیے جائیں تو یہ ایک صائب تجویز ہے مگر اندروں خانہ بتایا جا رہا ہے کہ انتخابات اکتوبر میں بھی نہیں ہوں گے۔ الیکشن کی دو صورتیں ہیں ایک تو عمران خان کو بھی نا اہل کیا جائے۔ اور لیگیوں کے بقول ترازو کے دونوں پلڑے برابر ہو سکیں اور یا پھر مسلم لیگ نون کو اتنا موقع مل سکے کہ وہ معیشت کچھ بہتر کر سکیں عام لوگوں کو سبسڈی دے سکیں تاکہ مہنگائی کچھ کم ہو سکے۔
اس کے لئے تھوڑا انتظار بھی کرنا پڑ سکے گا۔ حالات کچھ ایسے بن چکے ہیں کہ محاذ آرائی میں مزید اضافہ متوقع ہے چیف جسٹس بھی الیکشن کو انا کا مسئلہ بنا چکے ہیں جبکہ دوسری جانب یہ پی ڈی ایم کے سروائیول کا بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ محاذ آرائی اور عدم استحکام میں اضافے کے خدشات پائے جا رہے ہیں۔ ان دنوں میں اسٹیبلشمنٹ کی کیا سوچ ہے اس کے متعلق ابھی کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بظاہر کچھ بھی سامنے نہیں آ رہا۔ اندر کھاتے کھچڑی پک رہی ہے حالات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ عید کے بعد سخت گرمی میں سیاسی پارہ ہائی ہو گا۔ اسی کے بعد ہی اندازہ ہو گا کہ بے رحم سیاسی کھیل میں کس کی فتح ہوتی ہے اور کون انتظار کی سولی پر وقت گزارے گا۔


