خود غرض کون؟


اگر میں آپ سے پوچھوں کیا آپ خود غرض ہیں تو یقینی طور پر آپ کا جواب ہو گا ہر گز نہیں، اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں بھی یہی کہوں گا۔ اگر ہم سب بے لوث ہیں تو خود غرض کون ہے، آئیے اس کا جواب ڈھونڈتے ہیں، لیکن سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ خود غرضی ہوتی کیا ہے جس کو اپنا کر میں یا آپ خود غرض کہلاتے ہیں۔

اپنی ذات کے آگے کوئی اور نظر نہ آئے تو یہ خود غرضی کہلاتی ہے۔ ذاتی آرام، فائدہ، مقصد، پسند ناپسند، یا خوشی کے لئے دوسروں کے وجود اور حقوق کو نظرانداز کر دینا یا باقی سب کی خوشیوں کو روند ڈالنا خود غرضی ہے۔

پتوں کو چھوڑ دیتا ہے اکثر خزاں کے وقت
خود غرضی ہی کچھ ایسی یہاں ہر شجر میں ہے

خود غرضی کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ ہم کسی رشتے کے ساتھ محبت اور خیال کرنے میں اتنے مگن ہو جائیں کہ کوئی اور قریبی رشتہ متاثر ہو جائے یا نظر انداز ہونے لگے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہ ہو۔ یہاں پر انسان صرف ترجیحات کو سمجھ کر توازن کر لے تو کامیاب ہو جائے۔

اب اس موضوع پر تفصیل سے بات کرتے ہیں۔ جب ہماری اجتماعی سوچ پر انفرادی سوچ غلبہ حاصل کر لے تو اکثر ہمارے رویے منفی ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں بعض اوقات ہمیں دوسروں کی خوشی چبھتی ہے اور کسی کی کامیابی اداس کر دیتی ہے۔ دفاتر میں دوسروں کی کامیابی اور ترقی پر ہونے والی تکلیف اسی منفی رجحان کی پیداوار ہے۔ کسی زمانے میں دفتر میں میرا ایک ماتحت تھا جو اپنی ذات سے محبت اور وقت سے پہلے سب پا لینے کی خواہش میں اتنا آگے تھا کہ سالانہ اپریزل فائنل ہونے کے بعد ایک ایک کولیگ کی سیٹ پر جا کر دیکھنے کی کوشش کرتا تھا کہ کسی کی ریٹنگ اس کی ریٹنگ سے زیادہ تو نہیں۔ یہی منفی رجحان دفتروں میں سیاست کو مزید بڑھاوا دیتا ہے۔ کچھ افسران بھی منفی سیاست میں شامل ہو جاتے ہیں اور من پسند ملازمین کا ساتھ دے کر ناپسندیدہ ملازمین کے ساتھ اپنی کسی غرض کی وجہ سے زیادتی کر بیٹھتے ہیں۔

مادہ پرستی اور لالچ، منفی رجحانات کی بڑی وجہ ہیں جن سے حسد جنم لیتا ہے۔ خود غرض انسان کو اپنی انا سے پیار ہوتا ہے، خونی رشتوں کو بھی اذیت میں رکھتا ہے اور مقابلے میں لگا رہتا ہے، وہ دوست بنا بھی لے تو دوستی نبھانا نہیں جانتا، دوسروں کے ساتھ تعلقات کی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ اسے صرف اپنا مفاد اور اپنی سوچ عزیز ہوتے ہیں۔ کچھ میرے اشعار پیش خدمت ہیں۔

محبت ہو سچی تو حسد نہیں ہوتا
مقابلے کی سوچ کا مقصد نہیں ہوتا
دل ہے صاف تو نا قدری ممکن نہیں
ہم کا رشتہ کبھی میں تم نہیں ہوتا
دولت، شہرت، طاقت اور واہ واہ کروانے کی خواہش نے انسان کو ایسا اندھا کر دیا ہے کہ اسے

اردگرد کی دنیا نظر نہیں آتی ہے اور ان سب کے حصول کے لئے وہ اندھی دوڑ میں لگ کر اپنے رشتے ناتے سب روندتا جاتا ہے۔ ہر کسی کو آس پاس، قریبی رشتے داروں میں خود غرض افراد ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وافر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بہت امید ہے، شاید میں، آپ یا ہمارا کوئی اپنا ان میں شامل ہو۔ اس مضمون کا مقصد بھی یہی ہے کہ خود کو پہچانیں اور اصلاح کی کوشش ضرور کریں۔

خود غرضی کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ ایک ظاہری طور پر نمازی پرہیز گار انسان کسی کو ناپسند کرتا ہو، کینہ اور بغض بھی پالتا ہو اور پھر اپنی نفرت، ناپسندیدگی اور غلط سوچ کو کسی قریبی رشتے دار پر مسلط کرنا چاہے یہ سوچے بغیر کہ ہر کوئی اپنے عمل کا اللہ کو جواب دہ ہے اور کسی بھی زیادتی یا حقوق العباد میں کوتاہی کو نمازیں یا روزے معاف نہیں کروا سکتے۔ میرا ایک اور شعر آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

بغض کیسا جو لاتعلقی ممکن نہیں
وفا ہے جہاں سے تو کینہ نہیں ہوتا

جب ”میں“ آ جائے تو حسد کا منفی رویہ جنم لے لیتا ہے، حقیقت میں یہ احساس کمتری ہے جو انساں کو احساس برتری میں مبتلا کر دیتا ہے۔ ایسا انسان اپنی ذات کو محور بنا لیتا ہے، خود کو خطا سے پاک تصور کرتا ہے، جھوٹ کا بھی سہارا لیتا ہے اور مطلوبہ انفرادی مقاصد کے حصول کے لیے دوسروں کے جذبات اور حقوق پر بلڈوزر چلا دیتا ہے۔ یہ خود غرضی کی افسوسناک صورتحال بن جاتی ہے اور اس عادت میں مبتلا انسان کو احساس ہی نہیں رہتا ہے کہ وہ خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے نیکی اور پارسائی کے خول میں رہتے ہوئے بدی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔

اپنی ذات کو مثبت اور نارمل حد میں رہتے ہوئے چاہنا یا دوسروں پر ترجیح دینا تو ہر انسان میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے، اسی وجہ سے انسان میں آگے بڑھنے کا جذبہ یا کچھ پا لینے کا شوق ہوتا ہے، انسان محنت اور کوشش بھی کرتا ہے کیونکہ جیت اور برتری ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے۔ خیال یہ رہے کہ اس جذبے میں منفی رجحان کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ دوسروں کی حق تلفی یا کچل کر آگے بڑھنے کا جنون شامل نہ ہو۔

اپنے رشتوں سے محبت اور بچھڑنے کا غم بھی ایک تکلیف دہ حقیقت ہوتی ہے۔ کسی اپنے کی موت ہو جائے تو رونے یا آہ و بکا میں سے اکثر یہ آواز آتی ہے کہ اب میرا کیا ہو گا، آپ نے بہت کم سنا ہو گا جب کوئی یہ کہے کہ جانے والے کا کیا ہو گا۔ یہ بھی اپنی ذات سے محبت اور فکر کا قدرتی جذبہ ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے۔

ان سب حقیقتوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی دنیا میں بستے ہیں جو اپنی ذات کو پیچھے رکھتے ہوئے دوسروں کے آرام اور خوشیوں کے لئے ہر طرح کی قربانی دیتے ہیں۔ 2019 کی بات ہے، مشہور اخبار نے ایک ٹویٹ کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایک شوہر جہاز میں اپنی اہلیہ کے لیٹ کر سونے کے لیے اپنی سیٹ چھوڑ کر کھڑا رہا اور اس کے اٹھنے کا انتظار کرتا رہا اور جب تک جہاز اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچ گیا اس نے اپنی بیوی کو نیند سے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ کورٹنی لی جانسن نامی ایک ٹویٹر صارف نے اس شادی شدہ جوڑے کی تصویر ٹویٹر پر اپلوڈ کی تھی اور ساتھ کیپشن میں لکھا تھا کہ ”آدمی جہاز کے سفر میں 6 گھنٹے تک اپنی سیٹ چھوڑ کر کھڑا رہا، کیو نکہ اس کی بیوی سو رہی تھی، یہی محبت ہے“ ۔ کچھ افراد نے اس ٹویٹ پر یہ بھی تبصرہ کیا کہ یہ شوہر کی محبت اور بیوی کی خود غرضی تھی۔ ایسے بے لوث افراد بھی اس دنیا میں موجود ہیں جو کہیں قدر کی نگاہ پا لیتے ہیں اور کہیں پارٹنر کے احساسات تک نہیں پہنچ پاتے۔

آپ بھی ایسے لوگوں کو تلاش کریں اور خود کو ان جیسا بنائیں۔
بے لوث محبت ہو، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اجالا کر، دل صورت مینا دے

Facebook Comments HS