رجیم جو چینج نہ ہوا


قارئین سمجھیں گے کہ عنوان میں ٹائپ کی غلطی ہے کیونکہ لفظ ”رجیم چینج“ تو پچھلے ایک برس سے انگریزی والی چینج کے طور پر ہی مستعمل رہا ( یا رہی) ہے۔ تو عرض ہے کہ یہ انگریزی والا رجیم نہیں بلکہ عربی والا رجیم ہے۔ جس سے پہلے شیطان کا لفظ بھی لازماً آتا ہے۔

پچھلے اپریل میں رجیم چینج کی ہاہاکار میچ گئی۔ اور تمام برس جاری رہی۔ کسی نے نہ پوچھا اور حتی کہ لفظ مشہور کرنے والوں کو بھی خیال نہ آیا کہ رجیم کی تبدیلی کا مطلب تو ہوا کہ ایک شیطان کی جگہ دوسرا شیطان آ گیا۔ کیا واقعی ایسا ہوا؟ کیا رجیم چینج کا ہیش ٹیگ پھیلانے والے بھی شیطان ہیں؟

ثابت کرنا چاہیں تو اسے ثابت بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب تبدیلی کے نام پر ایک رجیم قائم تھی تو معاشی، سماجی، سیاسی، اور امن وامان کے حوالہ سے کون سی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی تھیں۔ وہ جنہوں نے برستی بارش میں خدا کو حاضر جان کر پوری قوم کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے، کیسے یوٹرن کے نام پر کثرت سے جھوٹ بولتے نظر آئے۔ پورے چار برس کہتے رہے کہ میں برانڈ ہوں، مجھے مارکیٹ کرو۔ اور جونہی یہ نظر آیا کہ اب چل چلاؤ ہے تو کارناموں کی لسٹیں جاری ہو گئیں۔ ایک طویل قطار میں وزرا کو کھڑا کر کے انعامات سے نوازا گیا۔ کوئی کس قدر اور کتنی دیر تک دھوکہ کھا سکتا ہے؟

اپریل 2022 میں تبدیلی کو تبدیل کر دیا گیا لیکن ایک اور رجیم کے ساتھ۔ وہ رجیم جو کچھ ماہ پہلے ٹوٹا پھوٹا تھا، اسے سامری نے پھونک ماری اور پتلا یکا یک زندہ ہو گیا۔ اسے اعتماد ہو گیا کہ یہ عدم اعتماد کر سکتا ہے۔ لیکن کیا واقعی؟ عدم اعتماد ہوتے ہی بد اعتمادی کا ایک طوفان امڈ آیا۔ ڈالر کو روپے کا، شہریوں کو حکومت کا، اور حکومت کو آئی ایم ایف کا اعتماد نہ رہا۔ آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں نے قوم کو اس نئے رجیم کے ذریعہ وہ چکر دیے کہ پرانا رجیم، شیطان نہیں، عبد الرحمان لگنے لگا۔

تو کیا پاکستانیوں کی قسمت میں رجیم ہی لکھ دیے گئے ہیں؟

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک اور رجیم کا تذکرہ ضروری ہے۔ وہ رجیم جو تبدیل نہ ہوا۔ وہ رجیم جو خود کونے میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا، چمکتے بوٹ کو دیکھتا اور اس پر فخر کرتا، سیکیورٹی کے نام پر خوف کی ڈکشنری استعمال کرتا، اپنے ہاتھ کی ایک انگلی کو ہلا کر ایک سے دوسرے بلڈی رجیم کی باریاں لگاتا اور بار بار انہیں رجیم ہونے کا احساس دلاتا ہے۔

بچپن میں شیطان الرجیم کے بارے میں ایک کہانی سنی تھی۔ کہانی کچھ اس طرح تھی کہ ایک قصبے میں ایک حلوائی کی دکان تھی جو حسب معمول شام کے وقت اپنی کڑھائی میں مختلف مٹھائیاں تل رہا اور پھر انہیں پاس پڑی شیرے کی مختلف کڑھائیوں میں انڈیل رہا تھا۔ جلیبیاں، گلاب جامن، رس گلے اپنی اپنی رنگت کی بہار دکھا رہے اور ان کے دیکھنے سے ہی منہ میں چاشنی گھلنے لگتی تھی۔

شومئی قسمت وہاں سے شیطان کا گزر ہوا۔ اور یہ پرسکون ماحول اسے اچھا نہ لگا۔ چپکے سے اس نے ایک انگلی شیرے میں ڈبوئی اور دیوار پر شیرہ چپکا دیا۔ ایک آنکھ میچ کر (جو بیچارے حلوائی کو نظر بھی نہ آئی) کہنے لگا کہ اب دیکھ تماشا۔ دیوار پر لگے شیرے کو دیکھتے ہی مکھی اس پر آ کر بیٹھ گئی۔ مکھی کو دیکھ کر چھپکلی کہیں سے نمودار ہوئی اور اس پر لپکی۔ حلوائی کی نظر پڑی اور اس ڈر سے کہ چھپکلی کڑھائی میں نہ گر جائے، اس نے جلتی لکڑی اٹھا کر چھپکلی کو مارا۔ چھپکلی تو کیا مرتی، لکڑی کی آگ دکان کی قنات تک پہنچ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چاروں دیواریں جو دراصل تنبو قنات کی تھیں، آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ اچھی خاصی دکان خاک ہو گئی۔

تو کیا اصل رجیم یہ ہے اور یہ سارا کیا دھرا اس کی انگلی کا ہے؟ جو کبھی امپائر کی انگلی بن کر اٹھ جاتی ہے اور کبھی شیطان کی انگلی کی طرح شہد کو دیوار پر لگا کر اچھے خاصے کاروبار کو آگ لگا دیتی ہے؟

یہ سوال دوستوں کی ایک محفل میں شدت سے اٹھایا گیا۔ آج کل ایسی محفلیں بہت عام ہیں۔ اور حلوائی کی دکان کی طرح یہ محفلیں بھی دوستی کے اچھے خاصے سلسلے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہیں۔ عموماً کر رہی ہیں۔ تو ایسی ہی ایک محفل میں ایک دوست نے یہ سوال داغ ڈالا۔

جواباً عرض کیا کہ اصل رجیم تو اوپر بیان کیے گئے تینوں میں سے شاید کوئی بھی نہیں ہے۔ اصل رجیم تو میں ہوں، ہم ہیں۔ دوست تو ویسے ہی لپکا جیسے کہ چھپکلی، مکھی پر جھپٹی تھی۔ ”یہ کیا بات ہوئی؟ ہم کیسے رجیم ہوئے؟ لوٹ مار کرے کوئی اور، کھائے پیئے کوئی اور، اور رجیم بنیں ہم؟“ اب کے ہاتھ باندھ کر عرض کیا (دوستی برباد ہونے کا خوف تھا) کہ میرے بھائی۔ جب تک ہم جو کچھ ہمیں بتایا جاتا ہے اور ہم آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیتے ہیں، سوال نہیں کرتے، تب تک سب سے بڑے رجیم ہم خود ہی ہیں۔

جب تک ہم اس سراب کا شکار رہیں گے کہ رجیم کوئی اور ہے، ہمیں مختلف شیطان اپنے اپنے بیانئے کے ساتھ ہانکتے رہیں گے۔ سب سے پہلا اور سخت مرحلہ اپنے اندر کے رجیم کو تلاش کرنا ہے۔ جو ہمیں سستی کی راہ پر ڈالتا، سوال کرنے اور اس کا جواب تلاش کرنے کی بجائے کسی کے فراہم کیے جواب کو اپنا لینے پر مجبور کرتا اور ذلت و خواری کی نہ ختم ہونے والی ڈھلوان پر لے جاتا ہے۔

سوچ کو درست کرنا، حقیقت اور بیانیے میں فرق جاننا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ جب یہ مرحلہ طے کر لیں گے تو ہمیں خود بخود یہ نظر آنا شروع ہو جائے گا کہ چھوٹے بڑے، رجیم تو شاید سارے ہی ہیں لیکن ان میں سے کچھ ذرا کم رجیم ہیں۔ جنہیں انگریزی زبان میں لیسر ایول (چھوٹی برائی) کہا جاتا ہے۔ انتخاب کا موقع آئے تو ہمیں کھلی آنکھوں اور روشن دماغ کے ساتھ فرشتوں کی تلاش کو ترک کرنا اور لیسر ایول کو چننا ہے۔

فیض صاحب کیا خوب کہہ گئے ہیں :
تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا، تیرے سوا، تیرے سوا

Facebook Comments HS

ڈاکٹر زعیم الحق

ڈاکٹر زعیم الحق ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور اپنے شعبہ کے تکنیکی امور کے ساتھ ان انفرادی و اجتماعی عوامل پر بھی نظر رکھتے ہیں جو ہماری صحت یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔

dr-zaeem-ul-haq has 15 posts and counting.See all posts by dr-zaeem-ul-haq