فرسودہ نظام اور ڈاکٹر اجمل ساوند کا قتل


گزشتہ چند روز قبل ڈاکٹر اجمل ساوند کو کندھ کوٹ میں مسلح افراد نے بے دردی کے ساتھ گولیاں مار کر قتل کر دیا، قتل کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہوائی فائرنگ کی وڈیو بھی چھوڑ دی کہ انہوں نے اپنا بدلا لے لیا، یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں پر ایک انسان کو قتل کر کے جشن منایا جاتا ہے کیا ان درندوں کے ہاتھ نہیں کانپے ہوں گے جنہوں نے اجمل ساوند جیسے نفیس انسان کو گولیاں ماری ہوں گی ؟

ڈاکٹر اجمل ساوند کا قصور کیا تھا کہ اس کو اس طرح سے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا، کیا ان قاتلوں کو اس بات کا ذرہ بھی افسوس نہیں ہوا ہو گا کہ ایک بے گناہ کو قتل کر رہے ہیں جس کا اس قبائلی جھگڑے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے جس نے کبھی ایک چیونٹی کو بھی کوئی نقصان پہنچایا ہو گا اس جیسے انسان کو اس طرح سے قبائلی جھگڑے میں قتل کرنا افسوسناک ہی نہیں بلکہ سندھ کے لئے ایک لمحہ فکر ہے کہ وہ اپنے جینیئس لوگوں کو اس طرح سے جاہلوں کے ہاتھوں مرنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے۔

ڈاکٹر اجمل ساوند کا قتل انتہائی افسوسناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور یہ ایک ڈاکٹر اجمل کا قتل نہیں بلکہ سندھ کے شعور کا قتل ہے ڈاکٹر اجمل کا قتل نا صرف اس کی فیملی کے لئے انتہائی دکھ دائک ہے، بلکہ ہمارے جیسے معاشرے کے منہ پر طمانچہ بھی ہے کہ ہم اپنے جینئس انسانوں کو ایسے درندوں کے ہاتھوں مرنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں اور وہ درندے بآسانی سے قتل کر کے نکل بھی جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل ساوند مہران یونیورسٹی میں پڑھے اور پھر پی ایچ ڈی کرنے کے لئے فرانس گئے جہاں پر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پھر وہیں کی یونیورسٹیز میں لیکچرز بھی دینا شروع کر دیے مگر ڈاکٹر اجمل یہ تمام تر تعلیم جو انہوں نے فراس میں حاصل کی اور جو سیکھا وہ اپنے ملک کے نوجوانوں سکھانا اور پڑھانا چاہتے تھے۔

ڈاکٹر اجمل ساوند فرانس جیسا ملک چھوڑ کر پاکستان میں اپنے لوگوں میں صوبہ سندھ کے شہر سکھر پہنچے اور وہاں پر آئی بی اے سکھر میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے میں کام کرنے لگا اور یوں وہ اپنے وطن کے لوگوں کی خدمت کرنے لگا۔ پاکستان خصوصا سندھ پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے ایک خطرناک ملک بن چکا ہے ایسے میں اگر کوئی ساوند جیسا انسان اپنے ملک کے نوجوانوں کی خدمت کرنے پہنچ بھی جاتا ہے تو وہ نا تو اس مشینری کو اچھا لگتا ہے اور نا ہی یہاں کے سو کالڈ وڈیروں کو ان کی یہ تعلیمی سرگرمیاں اچھی لگتی ہیں اور وہ ہر وقت ایسے انسان کو کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی نقصان پہنچانے کی جستجو میں لگ جاتے ہیں یا یوں کہیں کہ ان کو کام کرنے ہی نہیں دیا جاتا۔

ڈاکٹر اجمل ساوند کی غلطی یہ تھی کہ اس نے سمجھا کہ سندرانی اور ساوند جو جھگڑا ہے اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی اس کو اس جھگڑے سے کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے یہ ہی غلطی تھی جس کی وجہ سے ڈاکٹر اجمل ساوند کو درندوں نے بے دردی کی کے ساتھ گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ سندھ میں قبائلی جھگڑے ضیاء کے دور میں بڑھے اور آج تک ختم نہیں ہو سکے ہیں قبائلی جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے جئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ بشیر خان قریشی نے ایک کوشش ضرور کی تھی، سندھ میں جتنے بھی قبائلی جھگڑے چل رہے تھے وہاں پر وہ پیدل مارچ کر کے کلام پاک ہاتھ میں لے کر ان کے پاس جاتے تھے اور یوں وہ قبائلی جھگڑے ختم بھی ہوئے مگر افسوس کے بشیر خان قریشی کو زندگی نے اتنی مہلت نہیں دی اور وہ بھی خالق حقیقی سے جا ملے جس کے بعد پھر سے سندھ میں قبائلی جھگڑوں نے زور پکڑنا شروع کر دیا ہے۔

سندھ میں قبائلی جھگڑوں کے پیچھے وہاں کے لوکل وڈیرے اور لوکل پولیس شامل ہوتی ہے تاکہ ان کا دکان چلتا رہے پولیس بے گناہ لوگوں کو گرفتار کر کے ان کو اتنا تنگ کرتی ہے کہ لا محال وہ انسان اس سسٹم سے اتنا تنگ آ جاتا ہے کہ وہ نا چاہتے ہوئے بھی جنگل کا رخ کرتا ہے اور پھر اسی طرح سے نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ آخر میں یہ ہی نکتا ہے کہ بے گناہ پڑھے لکھے نوجوان اس فرسودہ نظام کی پھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر اجمل ساوند کو جس طرح سے بے گناہ قتل کر دیا گیا اس کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ہیں پولیس مخالفین کے گھروں پر چھاپے بھی مار رہی ہے مگر وہ گھر خالی کر کے چلے گئے ہیں، پولیس کی کارروائیاں جاری ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس قاتلوں کو کب گرفتار کرتی ہے یا یہ کیس بھی دیگر کیسز کی طرح فائلوں کی نظر ہو جائے گا۔ ڈاکٹر اجمل ساوند کے قاتلوں کی گرفتاری اور کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے سندھ کے ادیب، دانشور اور سول سوسائٹی سمیت مختلف سیاسی سماجی تنظیمیں بھی سراپا احتجاج ہیں اور تقریباً سندھ کے ہر شہر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں کہ ڈاکٹر اجمل ساوند کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ دوسرے اجمل ساوندوں کو اس طرح سے راہ چلتے ہوئے نہ مارا جائے۔

Facebook Comments HS