ربا تیرے ساون میں پیاسے ہم – افسانہ


جون کا مہینا، گرمی کا ہر طرف راج تھا۔ مخلوق خدا کی ترستی ہوئی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتی تھیں۔ ہر شخص اس گرمی کی شدت سے جھلس گیا تھا۔ پانی کے کنوؤں کا پانی بھی نچلی تہہ تک ہی محدود تھا۔ پانی کے لیے بوکا لٹکاتی ہوئی صبا نے اپنی امی کو آواز دی۔

”امی اب تو لگتا ہے ختم ہو چلا ہے“
”بیٹی پریشان نہ ہو۔ جس رب نے پیدا کیا ہے
وہ کسی کو بھوکا پیاسا بھی نہیں رہنے دیتا۔
رسی کو اور ڈھیلا چھوڑ و۔ اللہ کی زمین سے
پانی ختم نہیں ہو سکتا۔ بس بارش ہونے کی
دیر ہے پھر پانی کی کمی نہیں ہو گی۔ ”
(ماں نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور ٹھنڈی آہ بھری) ۔

صبا:میں تو ہر روز دعا کرتی ہوں لیکن۔ بارش ہونے کا نام نہیں لیتی۔ اسکول کی چھٹیاں ہیں ورنہ کتنی گرمی لگتی اسکول جاتے ہوئے۔ ”

چودہ سالہ نوجوان صبا کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے۔ بہت ذہین اور چست ہے۔ کبھی نچلا نہیں بیٹھتی۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ والدہ کا ہاتھ بٹاتی ہے۔ گھر میں ایک بہت بڑا بوڑھ کا درخت ہے پورے آنگن میں اپنے پر پھیلائے گرمی کی شدت کم۔ کرنے کے لیے اپنے سائے کی ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔ صبا کا بچپن کا ساتھی ہے۔ جھٹ سے اس کے اوپر چڑھ جاتی ہے۔ پرندوں نے اس کی چوٹی پر گھونسلے بنا رکھے ہیں۔ صبح کی آمد کے ساتھ ہی پرندے اپنی زبان سے اللہ کی حمد و ثناء میں مصروف ہوتے ہیں تو صبا اور اس کی امی بھی فجر کی نماز ادا کر کے تلاوت قرآن میں مصروف ہو جاتی تھیں۔ والدہ دودھ بلوتی اور مکھن لگا کر پراٹھے بناتی تھی تو ایک اشتہا انگیز خوشبو گھر کے آنگن سے نکل کر پڑوس تک پھیل جاتی تھی۔ صبا اپنی والدہ کا کاموں میں ہاتھ بٹاتی اور اپنی کتابوں میں محو ہو جاتی تھی۔ صبا کا چھوٹا بھائی جب اس کی کتابوں کو پکڑتا تو صبا شور مچا دیتی۔

”امی بھائی کو پکڑیں میری کتابیں پھاڑ دے گا“
صبا کو اپنے بھائی سے بہت پیار بھی تھا۔ دونوں مل کر کھیلتے تھے۔

آج صبح سے ہی بادل منڈلا رہے تھے۔ سارے گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بارش کی امید نے ہر ذی روح کو جینے کی امنگ عطا کر دی تھی۔ کالے بادل بس برسنے ہی والے تھے۔ صبا کی نظریں آسمان کی طرف بار بار اٹھتی۔ خوشی سے سارے آنگن میں بھاگ رہی تھی۔ کبھی بوڑھ کے درخت پر چڑھتی اور پنچھیوں کے ساتھ بھی باتیں کرتی۔ اس کے چہرے سے مسرت کی کرنیں چھلک رہی تھیں۔

”امی دیکھو اللہ نے ہماری دعائیں سن لیں۔ اب گرمی کا زور ختم ہو جائے گا“
”ہاں بیٹی! اللہ اسے رحمت کی بارش بنائے“

اتنے میں بادل گرجا اور چھم چھم بارش برسنے لگی۔ پیاسی زمین کی پیاس بجھی۔ مویشی بھی خوشی سے اپنی آواز میں اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ درختوں نے جیسے غسل کر لیا ہو۔ ہر شاخ، ہر پتا تازگی لیے ہوئے تھا۔ سارا دن بارش ہوتی رہی تھی چاروں طرف پانی کا راج ہو گیا تھا۔ آنگن میں پانی کے بلبلوں کی ٹولیاں ادھر سے ادھر تیر رہی تھیں۔ صبا اور اس کا بھائی بلبلوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔

کنویں کا پانی بھی اب اوپر آ چکا تھا۔ بوڑھ کے باسی (پرندے ) اب بھیگ چکے تھے۔ یہ سب برس ہا برس سے اس درخت کے ساتھی تھے۔ اس بارش نے انھیں بے گھر کر دیا تھا۔ آنگن میں آہستہ آہستہ پانی کی سطح اونچی ہو رہی تھی۔ بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بادل جو خوشی کا باعث تھے۔ اب زحمت بن گئے تھے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ اب گاؤں سے دیواریں گرنے اور چھتیں گرنے کی آوازیں دل دہلا رہی تھیں۔ جو زبان بارش کے لیے دعا گو تھی، اب اس کے رکنے کے لیے دعا مانگ رہی تھی۔ صبا کے آنگن کی دیواریں بھی پانی کا حصہ بن گئی تھیں۔ پانی تیزی سے بڑھتا دیکھ کر بوڑھ پر چڑھ گئی۔ ”امی، بھائی کو مجھے پکڑا دو اور آپ بھی کوشش کر کے اوپر آ جاؤ پانی تو بہت ہو گیا ہے“

صبا کا والد بھاگا ہوا آیا اس کے گھنٹوں تک پانی تھا۔
”صبا کی ماں چلو جلدی چلو، پانی کا تیز ریلا آ رہا ہے“
” صبا کی ماں :ہائے اللہ! ہم۔ کہاں جائیں گے؟ بھرا گھر چھوڑ کر۔ صبا صبا کہاں ہو؟“
”صبا:امی، میں بوڑھ پر ہوں سارا گاؤں پانی میں ڈوب گیا“
ماں صبا کو آوازیں دے رہی ہے۔ ”جلدی نیچے اترو“

صبا کے والد نے بیٹے کو اٹھایا اور بیوی کا ہاتھ پکڑ کر صبا کو آوازیں دیتا ہوا چل پڑا۔ صبا درخت سے کچھ نیچے آنا چاہتی تھی لیکن پانی کے خوف سے پھر اوپر چڑھ گئی اور اپنے ماں باپ اور بھائی کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ ان کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ پانی کا شور دل دہلا رہا تھا۔ صبا کی نظریں اپناپنوں پر تھیں۔ آگے پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا۔ تینوں کا ایک دوسرے سے ہاتھ چھوٹا اور پانی کی لہروں کے دوش پر بہنے لگے۔ صبا کا دل ریت کا ڈھیر ہو گیا۔ صدمے سے چور صبا درخت سے کچھ ٹہنے نیچے اتری تھی کہ پانی کا شور اور گاؤں کو گرتے دیکھ رہی تھی۔ ماں باپ، بھائی کو بہتے ہوئے دیکھ کر آنسوؤں کی لڑیاں بارش کے پانی کے ساتھ مل چکی تھیں۔ ارد گرد ٹھاٹھیں مارتا سمندر صبا کی سب امنگیں ساتھ لے گیا تھا۔

صبا نہ جانے کتنے دن تک بوڑھ کے درخت پر ٹنگی رہی۔ خوف و ہراس اور مایوسی کے بادل دل پر برس رہے تھے۔ اس ساون میں بھی صبا کا حلق خشک کانٹا بن چکا تھا۔ بارش رک گئی تھی لیکن ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ صبا کے ہونٹوں پر پپڑی جم چکی تھی۔ درخت سے نیچے آنا چاہتی تھی لیکن پانی میں اترنا گویا موت کو گلے لگانا تھا۔ حد نگاہ پانی تھا۔ پیاس سے برا حال تھا۔ اتنے پانی کے ہوتے ہوئے بھی پینے کو پانی نہ تھا۔ آنکھوں سے آنسو بھی خشک ہو چکے تھے۔

ایک دن امدادی ٹیم آئی کشتیوں پر سوار گھر گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔ صبا کے گھر کے پاس سے گزرے تو آواز دینا چاہتی تھی لیکن خشک حلق اور نقاہت نے آواز باہر نہ آنے دی۔

اسی ٹیم کے ایک کارندے کی نگاہ بوڑھ کے درخت پر پڑی۔ اسے صبا کا دوپٹہ نظر آیا۔ غور کرنے پر اسے ایک نیم مردہ، لاچار لڑکی نظر آئی۔ اس ٹیم۔ نے صبا کو درخت سے نیچے اتارا لیکن کئی دن کی بھوکی پیاسی صبا کچھ بولنے کے قابل نہ تھی۔ لب ہلے، کچھ کہنے کی سکت نہ تھی۔ ایک بار آسمان کی طرف نگاہ اٹھی۔ بہت مدہم آواز میں گویا ہوئی۔

”ربا تیرے ساون میں پیاسے ہم“
امدادی ٹیم نے صبا کو پانی پلانے کی کوشش کی لیکن صبا تو موت کا جام پی کر سیر ہو چکی تھی۔

Facebook Comments HS