گوہر تاج صاحبہ کی کتاب: خاک سے کیمیا ہوئے جو لوگ
فیس بک پر اس کتاب کا علم ہونے پر محترمہ گوہر تاج صاحبہ کی خدمت میں کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے مجھے یہ ای۔ میل کے ذریعہ ارسال کر دی۔ پہلے دن ہی نصف پڑھ لی اور بوجہ مصروفیت اس کا مطالعہ اگلے دن مکمل ہوا۔
کتاب ”خاک سے کیمیا ہوئے جو“ جس طرح سے نام سے ظاہر ہے ایسے لوگوں کے حالات پر مشتمل ہے جن میں اکثر سے گوہر تاج براہ راست یا قریبی ذرائع سے آشنا ہیں۔ اس قربت کی حدت کی چاشنی کو اس کتاب کی تخلیق میں بڑا دخل ہے۔ انہوں نے تیس سے زائد زیر مطالعہ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے وائے افراد کو چھ گروپس کی لڑی میں اس طرح پرویا ہے کہ پڑھتے وقت باوجود ان شخصیات کا مختلف شعبوں سے اور طبقات سے تعلق ہونے کے، کتاب کے اصل جوہر یعنی ”انسانیت کے پرچار“ کا تسلسل قائم رہتا ہے۔
ان میں سے چند افراد سے ان کی کارکردگی کی بدولت مجھے قدرے شناسائی تھی۔ کتاب کے مطالعہ سے ان شخصیات اور ان کے کام سے مزید تعارف سے قاری کے دل پر ایک پر تاثیر دستک ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ انٹر نیٹ کی مدد سے مضامین میں مذکورہ کتب کو ساتھ ہی ڈاؤنلوڈ کر کے ذرا گہرائی میں غوطہ لگانے سے کئی قیمتی گہر ہاتھ لگتے ہیں۔
پریم چند کو پڑھنے کا اتفاق ساٹھ سال پہلے ہوا تھا ان کی اہلیہ کی تصنیف تو دور کی بات ہے ان کا نام تک نہیں سنا تھا لیکن اس کتاب میں ان کا ذکر پڑھ کر ان کی نجابت کا اندازہ ہوا۔ ان کی کتاب ”پریم چند گھر میں“ کا سید حسن منظر نے اردو میں ترجمہ کیا ہے جس سے دھنپت رائے پریم چند کی زیست اور تخلیقات پر روشنی پڑتی ہے۔ انہوں نے ادب کے لئے جغرافیائی سرحدوں سے بلند ہو کر ادب کی خدمت کی ہے۔ فرخی صاحب (جن سے آگاہی ان کے مضامین سے ہوئی اور بغیر سلام کلام کے ان سے انسیت ہو گئی جس کی وجہ سے ان کا وفات کے صدمہ کی شدت برداشت کرنی پڑی) ۔
ان کا اس کتاب میں ذکر ہے۔ ایمپے تھیٹک ڈاکٹر شیر شاہ صاحب سے ان کی قلمکاری کی راہ سے تعارف بالواسطہ ہم سب ہوا۔ مذکورہ کتاب کے ذریعہ ان سے مزید آگاہی ہوئی ہے۔ رضیہ آپا سے لے کر عفت نوید صاحبہ کی تحریرات سے کئی مواقع پر استفادہ کیا ہوا تھا۔ حسن منظر سے البتہ اس کتاب کے ذریعہ پہلی بار واقفیت ہوئی۔ اور ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است ایک درست مقولہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک پختہ رنگ جو کتاب میں مذکور تمام شخصیات کے کردار میں مشترک ہے وہ جد و جہد، سچائی اور انسانیت ہے۔
دوسرے ابواب میں ملکی و غیر ملکی شاعرات کے کلام پر روشنی ڈالی گئی ہے ”مجاہدین انسانیت“ جو معذوری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قابل رشک کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ ان کا حوصلہ افزاء تذکرہ اور کانوں کے بجائے موسیقی کی دنیا کے نابغۂ روزگاروں کا ذکر کیا گیا ہے جس سے اس کتاب کا مطالعہ سے مشاہدہ ایک روحانی مسرت کا باعث ہے۔
پرم چند کے الفاظ میں ”عورت میں ستیتو ہی نہیں ماتریتو کو بھی ہونا چاہیے“ یعنی اس میں محض پاکیزگی ہی نہ ہو ممتا بھی ہو۔ پاکستانی سماج میں بڑھتا ہوا عورت کا شعور ایک طبقہ کی جھوٹی پریشانی کا باعث ہے جن کو یہ وہم بھی ہے کہ عورت کا اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد کرنا عورتوں کی ممتا سے دوری کا باعث بن سکتا ہے اس لئے (اپنی پسماندگی کے ہاتھوں مظلوم اور عملاً ظالم) طبقہ کے ساتھ سچی ہمدردی کا تقاضا یہی ہے کہ اس شعوری ترقی کی رفتار کو تیز تر کیا جاتا رہے تا آنکہ وہ اس بات کا ادراک کر سکیں کہ عورت کی قدر کرنے سے سماج میں سدھار، ترقی اور آسودگی بڑھتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اس لحاظ سے بھی فائدہ مند ہے کہ یہ کئی تعصبات کی گرد کے چھٹنے کا بھی باعث ہو گا۔



