کیا مستقبل میں زلزلوں کی درست اور بر وقت پیش گوئی کی جا سکے گی؟

موسم کی بر وقت پیشن گوئیوں کے بعد سے سیلاب کی آمد سے پہلے اس کے بارے میں خبر دینا تو آسان ہو گیا ہے لیکن زلزلہ اب بھی ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کی آمد کے درست وقت کا علم ابھی تک انسان نہیں جان پایا۔ اس سال 6 فروری کو ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے سے انسانیت کا کافی بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا اور ان زلزلوں کے آنے کے بعد ان زلزلوں کے حوالے سے نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر فرینک ہوگر بیٹس نے کافی شہرت حاصل کی۔
اس ماہر نے ان زلزلوں کی آمد کے حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں زلزلوں کے مرکز اور اس کے اسکیل کے حوالے سے فروری کی 3 تاریخ کو پیش گوئی کر دی تھی۔ بعد میں افغانستان اور اور پاکستان کے حوالے سے فرینک ہوگر بیٹس کی، کی گئی پیش گوئی بھی کافی وائرل ہوئی اور پھر زلزلے کے چند جھٹکے پاکستان اور افغانستان میں محسوس بھی کیے گئے لیکن الحمدللہ ان کی شدت کم رہی اور زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ فرینک ہوگر بیٹس کی پیشن گوئیاں اس لیے مشہور ہوئیں کہ زلزلے کے حوالے سے عالمی سطح پر اس کی درست اور بروقت اطلاع ابھی ممکن نہیں ہے لیکن اب سائنسدان اس حوالے سے پیش رفت کر رہے ہیں کہ اربوں انسانوں پر مشتمل دنیا کی آبادی کو اس آفت اور اس کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔ عالمی سطح پر زلزلے کی پیش گوئی ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہے۔ سائنس دانوں کے لیے اعداد و شمار جمع کرنے اور پیشگوئی کے طریقوں اور نظریات کی توثیق کے لیے تباہ کن زلزلوں کے کافی کیسز جمع کرنا مشکل رہا ہے۔
چینی موجد ژانگ ہینگ کی جانب سے پہلی بار سیسموسکوپ تیار کرنے کے 1800 سال بعد اب سائنسدان ان کے نام سے منسوب سیٹلائٹ کا استعمال کرتے ہوئے زلزلے کی پیش گوئی پر تحقیق کر رہے ہیں۔
ایک معروف چینی سائنسدان کے مطابق چین مستقبل قریب میں ژانگ ہینگ 1.02 سیٹلائٹ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، یہ نیا سیٹلائٹ چوبیس گھنٹے نگرانی کو ممکن بنائے گا اور زمین کے شمالی اور جنوبی قطبوں تک مشاہدے کی رینج کو وسعت دے گا، جس سے زمین کے نظام میں تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے کی اس کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔
فروری 2018 میں لانچ ہونے والا پہلا چائنا سیسمو۔ الیکٹرو میگنیٹک سیٹلائٹ (سی ایس ای ایس) ژانگ ہینگ 1، خلا میں برقی مقناطیسی سگنلز کو پکڑنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا تھا، جو زلزلے کی پیش گوئی کے ساتھ ساتھ خلائی موسم کی نگرانی اور انتباہ کے لئے مدد فراہم کرتا ہے۔ سیٹلائٹ پروگرام کے چیف سائنسدان شین شوہوئی نے حال ہی میں منعقدہ 35 ویں قومی سمپوزیم آن اسپیس ایکسپلوریشن میں سیٹلائٹ کی تازہ ترین پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ژانگ ہینگ 1 نے دنیا بھر میں 7.0 اور اس سے زیادہ شدت کے تقریباً 600 زلزلوں کے ساتھ 6.0 اور اس سے زیادہ شدت کے تقریباً 600 زلزلوں کا مشاہدہ کیا ہے۔
”ژانگ ہینگ 1 سیٹا لائٹ کا استعمال کرتے ہوئے، عالمی جیومیگنیٹک فیلڈ ڈیٹا اور عالمی کم فریکوئنسی برقی مقناطیسی سپیکٹرم ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے اور بعد میں ڈیٹا ریسرچ کے لئے دو ماڈل قائم کیے گئے ہیں۔“ ان سائنسدانوں کے مطابق 6.0 یا اس سے زیادہ شدت کے 80 فیصد زلزلوں میں واقعہ سے آدھے ماہ قبل پیشگی سگنل ظاہر ہوتے دیکھے گئے ہیں۔
چینی سائنسدان شین کہتے ہیں کہ سیٹلائٹ مانیٹرنگ روایتی زلزلے کی تحقیق کی حدود کو توڑتی ہے۔ ان کے مطابق اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خلا میں برقی مقناطیسی خلل زلزلوں کے وقوع سے منسلک ہے۔
ژانگ ہینگ 1 سیٹلائٹ کی پیش رفت کا اعتراف کرتے ہوئے شین نے تسلیم کیا ہے کہ زلزلے کی درست پیش گوئی کرنے سے پہلے ابھی ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
کیوں کہ زلزلے کے بعد اعداد و شمار کے ذریعے بیک ٹریک کر کے بڑی تعداد میں پیش رو سگنلز کی نشاندہی کی گئی ہے، اور پیشگی سگنلز کی صرف ایک چھوٹی سی تعداد کا پہلے سے پتہ چلا۔
اس کی وجہ ڈیٹا پروسیسنگ کی پیچیدگی اور محدود انسانی اور کمپیوٹنگ طاقت کے ساتھ حقیقی وقت میں عالمی اعداد و شمار کو ٹریک کرنے میں ناکامی ہے۔ اس کے علاوہ، وقت، مقام اور شدت کی درست پیش گوئی ابھی تک ممکن نہیں ہے۔ مصنوعی سیاروں کے ذریعے دریافت کیے جانے والے پیشگی سگنل اکثر مرکز سے کئی سو کلومیٹر دور دکھائی دیتے ہیں۔ سائنسدانوں کا یہ ماننا ہے کہ ”سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا کافی نہیں ہے۔ زلزلے کی پیشگوئی کے لیے سیسمولوجی، برقی مقناطیسیات، جیوڈیسی اور جیو کیمسٹری کی کثیر الجہتی تحقیق کی ضرورت ہے لیکن زلزلے کی پیش گوئی میں موجودہ حدود کے باوجود سائنسدان اس شعبے میں مستقبل کے امکانات کے بارے میں پراعتماد ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق مشین لرننگ، بگ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت جیسی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی سے لوگ زلزلے سے پہلے ریئل ٹائم ڈیٹا پروسیسنگ کرسکیں گے اور ماہرین کے خیال میں اگلے اگلے 10 سے 20 سال میں زلزلے کی پیش گوئی میں پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔

