قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ اور چند سوالات


وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ریاستی اداروں اور قیادت کے خلاف بیرونی سپانسرڈ کے زہریلے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے ملک و قوم کو پائیدار امن کی فراہمی کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا کہ قومی سلامتی میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا سب سے اہم ہے۔

ملک دشمنوں کے عزائم سے نمٹنے اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی کامیابیوں پر تحسین پیش کرتے ہوئے قربانیوں کا بھی اعتراف کیا گیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق دہشت گردی کی حالیہ لہر کالعدم ٹی ٹی پی کے لئے نرم گوشہ پر مبنی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق خطرناک کے دہشت گردوں کو اعتماد سازی کے نام پر جیلوں سے رہا کیا گیا جس سے ملک میں امن و استحکام منتشر ہوا۔

اجلاس میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ہمہ جہت آپریشن کی منظوری بھی دی گئی اور مربوط کوششوں کو بارآور بنانے کے لئے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی جو دو ماہ کے اندر اپنی سفارشات قومی سلامتی کمیٹی کو پیش کرے گی۔

سیاسی و عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کا خطرناک سزا یافتہ دہشت گردوں کو اعتماد سازی کے نام پر رہا کرنے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل پر سامنے آنے والا موقف حقیقت پسندانہ ہے۔

اعلامیہ میں اگر یہ بھی بتا دیا جاتا کہ پارلیمان کو اعتماد میں لئے بغیر دہشت گردوں سے کابل مذاکرات شروع کرنے اور سزا یافتہ دہشت گردوں کی صدارتی فرمان پر رہائی کا حقیقی پس منظر کیا تھا تو یہ نہ صرف بہتر ہوتا بلکہ یہ توقع بھی کی جا سکتی تھی کہ غیر ذمہ دارانہ طرزعمل اپنانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

ملکی امن و امان اور سماجی وحدت کو خطرے میں ڈالنے اور دہشت گردی کی نئی لہر میں معاون بننے والے فیصلوں کے ذمہ داران سے قوم اچھی طرح واقف ہے لیکن محض واقف ہونے سے کچھ نہیں ہوتا بنیادی سوال یہ ہے کہ دو تین یا چار اشخاص نے کیسے فیصلہ کر لیا اور پھر وہ سب کچھ ہوا جس کی طرف متوجہ کیے جانے کے باوجود توجہ نہیں دی گئی بلکہ ماضی میں اس حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کابل مذاکرات اور دہشت گردوں کی رہائی کے عمل پر تنقید کرنے والوں کو ہی ملک دشمن اور بیرونی قوتوں کا آلہ کار قرار دیا جاتا رہا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے ریاستی اداروں اور قیادت کے خلاف جاری پروپیگنڈے کو سپانسرڈ قرار دیا عین ممکن ہے کہ یہ موقف درست ہو مگر ان پروپیگنڈا بازوں میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو سال ڈیڑھ سال قبل اس ففتھ جنریشن وار کے مجاہد تھے جو اسٹیبلشمنٹ کے دفاع میں لگ بھگ عشرہ سوا عشرہ سے جاری تھی۔

اب وہ سارے سوشل میڈیا مجاہدین اگر بیرونی سپانسرڈ پروپیگنڈا کر رہے ہیں تو اس حوالے سے ٹھوس ثبوت عوام کے سامنے رکھنا ہوں گے۔

عوام کا بڑا طبقہ اور بالخصوص دہشت گردی سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کا یہ سوال بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ سابق حکومت نے اعتماد سازی کے نام پر جن سینکڑوں دہشت گردوں کو رہا کیا وہ اعتماد سازی کے بڑھاوے کا حصہ بنے یا دہشت گردی کی نئی لہر کا؟

نیز یہ کہ اس عاجلانہ فیصلہ کے ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی کیونکہ اگر جعلی فریب و دجل سے عبارت اعتماد سازی کی پالیسی جس کا بنیادی مقصد مسلح جتھوں کے تربیت یافتہ لوگوں کو مخصوص علاقوں میں اپنی سیاسی بالادستی کے لئے استعمال کرنا تھا تو اس کے ذمہ داروں کے خلاف عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو زبانی جمع خرچ اور اعلانات و تشفیاں بے معنی ثابت ہوں گے۔

یہ امر بھی بجا طور پر حیران کن ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کو سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی سیاسی جدوجہد کے خلاف عسکری حکام کو استعمال کرنے کے تناظر میں پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت چونکہ میرا مقابلہ نہیں کر پا رہی اس لئے وہ عسکری قیادت کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔

کیا عمران خان کا موقف درست ہے یا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے کابل مذاکرات کے نام پر دہشت گردوں کے لئے جو راستے کھولے اور جس طرح اعتماد سازی کے نام پر ان کی حکومت نے سینکڑوں سزا یافتہ دہشت گردوں کو رہا کیا اب اس کی جوابدہی ہوگی اس لئے انہوں نے نیا بیانیہ گھڑ لیا ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور بالخصوص سابق وزیراعظم عمران خان، خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ محمود خان، پشاور کے سابق کور کمانڈر جنرل فیض حمید اور عمران خان کے چند رفقا کو کہیں نہ کہیں اس امر کی جوابدہی کے لئے بلانا ہی ہو گا کہ محض دو تین افراد نے ایک ایسی پالیسی پر عمل شروع کیوں کیا جس پر اولاً تو قومی ہم آہنگی موجود نہیں تھی ثانیاً جن کے ساتھ اعتماد سازی میں اتاولا پن دکھایا جا رہا تھا اس مسلح جتھے کا ماضی انتہائی شرمناک اور وعدہ خلافیوں سے عبارت تھا۔

یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کی بنیاد پر یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف یقیناً ٹھوس کارروائیاں ہونی چاہئیں مگر اس سے قبل اعتماد سازی کی آڑ میں ہوئی سہولت کاری کے ذمہ داران کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

ہماری دانست میں معاملہ ریاستی اداروں اور قیادت کے خلاف سپانسرڈ پروپیگنڈے تک محدود نہیں، ایک منظم حکمت عملی کے تحت سیاسی و معاشی معاملات کی بھی مسخ شدہ تصاویر دنیا اور عوام کے سامنے پیش کی جا رہی ہیں۔

پچھلے برس تحریک عدم اعتماد کے وقت آئین توڑنے کے ذمہ داران اور پھر اس آئین شکن گروہ کو محفوظ راستہ دینے کی سہولت کاری کرنے والے کردار کسی سے مخفی نہیں۔ سہولت کار کسی نہ کسی شکل میں مختلف اداروں اور محکموں میں اب بھی موجود ہیں اور یہ اس سازشی بیانہ کو آگے بڑھانے میں معاونت بھی کر رہے ہیں جس کا مقصد ایک خاص طرز کے شاؤنزم کو ہوا دینا ہے تاکہ ان سنگین جرائم کی پردہ پوشی ہو سکے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس کا اعلامیہ بجا لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ جن لوگوں نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو پائی۔ ہماری دانست میں جمہوریت، نظام اور بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کیے بغیر ایسی پالیسی وضع کی جانی چاہیے جس سے نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ہو بلکہ ان لوگوں کی حقیقت بھی عیاں ہو جو دہشت گردوں سے اعتماد سازی کے نام پر اصل میں ان مسلح جتھوں کے ذریعے اپنے سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لاکر ملکی نظام اور اقتدار پر طویل المدتی بالادستی کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔

بہرطور ہم امید ہی کر سکتے ہیں کہ قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کیے جانے والے فیصلوں پر نہ صرف عمل ہو گا بلکہ سپانسرڈ پروپیگنڈے میں مصروف عناصر اور ان کے سپانسرڈ کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا کیونکہ خدشہ یہ ہے کہ اگر ثبوت و شواہد کے ساتھ کوئی کارروائی نہ ہوئی تو اس موقف کو تقویت ملے گی کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ سیاسی مقاصد کے حصول کی ہی ایک کوشش تھا۔

یہ بھی امید ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کے لئے جو اہداف مقرر کیے ہیں ان کے حصول کے لئے بھی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی جائے گی اور یہ کہ ملکی امن اور سماجی وحدت پر حملہ آور عناصر سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

Facebook Comments HS