ایک کہانی، دو سبق


جناب یاسر عبدالرحمن نے اپنی کتاب ”موسوعة الاخلاق والزھد والرقائق“ میں معروف دو بزرگوں شیخ شقیق بلخی اور ابراہیم بن ادھم کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ ابراہیم بن ادھم نے اپنے دوست شقیق بلخی کو تجارت کے سفر پر روانہ کرتے ہوئے الوداع کیا۔ جب شیخ بلخی سفر تجارت پر روانہ ہوئے تو راستے میں پر کٹے ہوئے ایک اندھے اور معذور پرندہ کو دیکھا۔ آپ وہی رک کر سوچنے لگے کہ آخر اس معذور پرندے کو اس بیابان میں کون کھلاتا پلاتا ہو گا!

وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ اتنے میں ایک اور پرندہ اس کے پاس آیا اور پنجہ میں پکڑے خوراک میں سے اپنی چونچ کے ذریعہ معذور پرندے کو کھلایا۔ شیخ بلخی یہ منظر دیکھ حیران ہوئے اور دل ہی دل میں کہنے لگے کہ جو اللہ اس کھنڈر میں اس اندھے اور اپاہج پرندے کو کھلا سکتا ہے وہ مجھے اپنے وطن میں کیوں نہیں کھلا سکتا اور پھر وہی سے واپسی کی راہ لی۔ جب ابراہیم بن ادھم نے ان کو دیکھا تو ان کی اس قدر جلد واپسی سے بڑے حیران ہوئے۔

پھر آپ نے شقیق بلخی سے پوچھا کہ آپ تو سفر تجارت پر روانہ ہوئے تھے، کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو پھر سے یہاں دیکھ رہا ہوں؟ اس پر شقیق بلخی نے آپ کو اپنی آنکھوں دیکھا حال سنا کر کہا: جب میں نے یہ عجیب و غریب منظر دیکھا تو میرا اپنے رب پر یقین اور بڑھ گیا کہ جو اس لق و دق صحرا میں معذور پرندے کو رزق دے سکتا ہے وہ مجھے اپنے گھر میں بھی دے سکتا ہے، اس لیے میں نے اپنا ارادہ ترک کر کے واپس آ گیا۔ اس پر ابراہیم بن ادھم نے ان کو جو جواب دیا اس میں ہماری آج کی نوجوان نسل کے لیے بڑا سبق ہے۔

آپ نے فرمایا: اللہ کے بندے، تم ایک صحتمند اور تندرست انسان ہو، تو پھر تم نے کیوں اس اندھے اور بے بس پرندہ کی طرح ہو جانے کو پسند کیا؟ وہ تو معذور تھا، آپ تو معذور نہیں، آخر آپ نے اس صحتمند پرندے کی طرح بننا کیوں پسند نہیں کیا جو خود بھاگ دوڑ کرتے ہوئے اپنی محنت سے روزی تلاش کرتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اپنا پیٹ بھر لیتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے اندھوں اور معذور پرندوں کو بھی کھلا دیتا ہے۔ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد نہیں سنا کہ: ”اوپر (دینے ) والا ہاتھ نیچے (لینے ) والے ہاتھ سے بہتر ہے“ ؟ (متفق علیہ)

اسلام ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے، نکما پن اور بھیک مانگنے کی شدید حوصلہ شکنی کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کسب حلال کی صرف ترغیب ہی نہیں دی ہے بلکہ حکم دیا ہے، مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں اچھے خاصے صحتمند اور ہٹے کٹے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد معذور اور لنگڑے پرندے کی طرح بنی ہوئی ہے۔ کسی کا اپنے والد کی کمائی پر انحصار ہے، کوئی بھائی کی راہ تک رہا ہے اور کہیں کہیں پردیس میں رہنے والے گھر کے ایک دو افراد کی پوری کمائی کو پورا گھر دیمک کی طرح چاٹ لیتا ہے۔ پیدائش سے لڑکپن تک اپنے ماں باپ پر انحصار تو فطری ہے، لڑکپن سے تعلیم کے حصول اور شادی تک اپنوں پر انحصار بھی سمجھ میں آتا ہے۔

لیکن ایسے لاڈلوں کے ویہلے پن کو کیا نام دیا جائے جو تعلیم کے حصول سے بھی انکاری ہوتے ہیں، شادی بھی ان کی کردی جاتی ہے لیکن پھر بھی کسی قسم کی ذمہ داری کا احساس تک ان میں نہیں ہوتا۔

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں بعض اوقات کسی نوجوان کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں، پھر جب اس کے بارے میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس کے پاس کوئی مشغلہ ہے؟ اگر کہا جاتا: نہیں، تو وہ میری آنکھوں سے یک دم گر جاتا ہے۔ آپ ہی فرماتے تھے : تم میں سے کوئی بھی طلب رزق کو چھوڑ کر گھر بیٹھے بیٹھے یہ نہ کہے کہ اے اللہ مجھے رزق عطا فرما، حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ آسمان سونا برساتا ہے اور نہ ہی چاندی ( عمر بن الخطاب)

یاد رکھیں، خود انحصاری انسان کی ترقی اور پیشرفت کی بنیاد ہے، جو شخص دوسروں کی کمائی سے امید لگائے بیٹھتا ہے وہ خود انحصاری کھو بیٹھتا ہے، اور جو خود انحصاری کھو بیٹھتا ہے وہ معاشی ترقی ہر گز حاصل نہیں کر سکتا بلکہ ہمیشہ دوسروں کا محتاج رہتا ہے۔

نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خود انحصاری، عزت، شرافت اور وقار کے ساتھ جینے کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے مانگنا جائز نہیں اور نہ کسی طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے مانگنا جائز ہے“ ترمذی۔ یعنی ایک مضبوط، صحت مند اور کمانے پر قادر شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ خیرات کے اموال سے اپنے مال میں اضافہ کرے۔ ایک فعال اور خود کفیل معاشرے کی تشکیل کی خاطر ہی آپ نے اپنے ارشادات کے ذریعہ اپنے ہاتھ سے کمانے والوں کی زبردست حوصلہ افزائی فرمائی ہے، چاہے وہ تاجر ہو، صنعت کار ہو، کاشت کار ہو اور یا پھر ایک عام مزدور۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں میں خود انحصاری کے شعور کو اجاگر کیا جائے، انہیں خود کمانے اور اپنی ہی کمائی سے حقیقی مستحق افراد کی مدد کرنے کی ترغیب دی جائے۔ الحمد للہ، آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کم آمدنی ہونے کے باوجود بھی باوقار زندگی گزارتے ہیں، رفاہی اداروں میں خدمات انجام دینے والے دوست بتاتے ہیں کہ بعض اوقات ایک موچی اور ریڑھی والا بھی امداد لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتا ہے کہ ہمارا گزارا اچھا ہو رہا ہے، یہ کسی مستحق کو دے دیں، جبکہ بعض اوقات ایک بہتر آمدنی والا بھی امداد لینے کے لیے اپنا نام لکھوا دیتا ہے۔ سوچ سوچ کی بات ہے، کوئی معذور پرندہ جیسا بن کر دوسروں کا محتاج رہتا ہے اور کوئی تندرست پرندہ جیسا بن کر دوسروں کی خاطر اڑان بھرتا ہے۔

Facebook Comments HS