حسین حقانی کی ”سہولت کاری“
روایتی اور سوشل میڈیا پر چھائے صحافی اور ذہن ساز خبردار کر رہے ہیں کہ 10 اپریل 2023ء کے دن سے جو ہفتہ شروع ہوا ہے وہ وطن عزیز میں جاری خلفشار کو مزید بھڑکائے گا۔ پہلا سوال یہ اٹھے گا کہ وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو وہ رقم فراہم کی ہے یا نہیں جو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نئی پنجاب اسمبلی کی تشکیل کے لئے رواں برس کی 14 مئی کے دن ہونا ہیں۔”معاشی بحران“ کی لپیٹ میں آئی حکومت مطلوبہ رقم کی ”تلاش“ میں ہے۔ اس ضمن میں کوئی ”جگاڑ“ لگانے میں ناکام ر ہی تو ”توہین عدالت“ کی مرتکب ٹھہرائی جا سکتی ہے۔ ممکنہ الزام کو جھانسہ دینے کے لئے تجویز یہ بھی آئی ہے کہ جس رقم کا تقاضہ ہے اس کے اجرا کے لئے ”سب پہ بالادست“ پارلیمان سے رجوع کیا جائے۔
عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی قومی اسمبلی حکومتی اخراجات کی منظوری دیتی ہے۔ گزشتہ برس کے جون میں جو سالانہ بجٹ اس نے منظور کیا تھا اس میں الیکشن کمیشن کے لئے مختص ہوئی رقم غالباََ 14 مئی کے روز انتخاب کروانے کے لئے کافی نہیں۔ حکومت کو کسی اور محکمے یا منصوبے کے لئے مختص ہوئی رقوم میں سے الیکشن کمیشن کو مطلوبہ رقم فراہم کرنے کا بندوبست کرنا ہو گا۔ ماضی کی حکومتیں ایسے ”بندوبست“ قومی اسمبلی کو زحمت دیے بغیر بآسانی فراہم کردیا کرتی تھیں۔”حامد کی ٹوپی محمود کے سر“ پہنانے والی جگاڑ کی منظوری کے لئے نئے سال کے لئے تیار ہوئے بجٹ کی منظوری کے بعد ”سپلیمنٹری بجٹ“ بھی پیش ہوتا ہے۔ یہ ان اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے جو گزشتہ بجٹ کے دوران لگائے تخمینوں میں شامل نہیں ہوتے۔”اضافی اخراجات“ شمار ہوتے ہیں۔ حکومتی جماعت کے اراکین عموماً”تجاوز“ دکھتے مذکورہ عمل پر اعتراض نہیں اٹھاتے۔ سر جھکائے انہیں بھی ”منظور ہے“ کی صدا لگاتے ہوئے منظور کر دیتے ہیں۔
بالآخر ”پارلیمان کی عقیدت“ میں مبتلا ہوئی موجودہ حکومت کو مذکورہ روایت مگر اب جمہوری اصولوں سے انحراف محسوس ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ”منتخب پارلیمان“ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے تجویز لہٰذا یہ آئی ہے کہ سپریم کورٹ نے جو ”اضافی رقم“ الیکشن کمیشن کو 14 مئی کے روز پنجاب اسمبلی کا انتخاب یقینی بنانے کے لئے فراہم کرنے کا حکم صادر کیا ہے اس کے اجرا کے لئے قومی اسمبلی سے رجوع کیا جائے۔”سب پہ بالادست“ قومی اسمبلی کے اراکین نے اگر یکسو ہو کر اضافی رقم کے اجرا کو ”نامنظور“ کی صداﺅں سے رد کر دیا تو محض وفاقی حکومت ہی ”توہین عدالت“ کا ارتکاب کرتی نظر نہیں آئے گی۔ ”نامنظور“ کی آواز لگانے والا ہر رکن اسمبلی ”توہین عدالت“ کا ملزم تصور کیا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں رواں ہفتے کے دوران مختلف مقدمات کی سماعت کے لئے چیف جسٹس صاحب نے جو ”بنچ“ تشکیل دیے ہیں وہ اس تاثر کی نفی کرتے محسوس ہو رہے ہیں کہ ہماری اعلیٰ ترین عدالت متحارب دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہے۔ مذکورہ تناظر میں ایک ایسا بنچ بھی بنایا گیا ہے جس میں ایک سینئر ترین جج اس عزت مآب جج کے ہمراہ بیٹھ کر فیصلہ کریں گے جن کے خلاف وہ تحریری طور پر جوڈیشل کمیشن سے ”کرپشن“ کے تحت لگائے الزامات کی چھان بین کا تقاضہ کر چکے ہیں۔ محاورے والے شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے نظر آئے تو سپریم کورٹ میں تقسیم کا تاثر اسی ہفتے کے دوران ”بے بنیاد“ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسا ہوگا یا نہیں؟ اس سوال کا جواب عملی رپورٹنگ سے کئی برسوں سے ریٹائر ہوا یہ قلم گھسیٹ فراہم نہیں کر سکتا۔
ویسے بھی میں ان دنوں عملی رپورٹنگ کے دوران مشاہدے میں آئی یادداشتوں کا اسیر بن چکا ہوں۔ اپنی حکومت کی فراغت کا ایک سال گزرنے کے بعد عمران خان نے اتوار کے روز قوم سے خطاب فرمایا ہے۔ ٹی وی چونکہ دیکھتا نہیں لہٰذا اسے براہ راست سننے سے محروم رہا۔ میرے ٹیلی فون میں لیکن ٹویٹر والی ایپ بھی نصب ہے۔اپنی اوقات بھلا کر میں نے مذکورہ ایپ کے استعمال کے لئے مطلوبہ رقم ادا کرتے ہوئے اپنے اکاﺅنٹ کے لئے ”بلیو ٹک“ بھی حاصل کر لی ہے۔ ”شوشا“ یوں برقرار رکھی ہے۔ سالانہ فیس ادا کرنے کا مگر نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ میرا فون سائلنٹ موڈ پر بھی ہو تو ”گھوں“ کی بازگشت فون دیکھنے کو اکساتی ہے۔”تازہ ترین“ ٹویٹس سے غافل رہنے کی سہولت سے محروم ہو گیا ہوں۔ عمران خان کے خطاب کے ”چوندے چوندے“ نکات موبائل کی سکرین پر رونما ہوتے رہے۔
ان کی بدولت علم ہوا کہ سابق وزیر اعظم اب بھی مصر ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف ”سازش“ ہوئی تھی۔ گزشتہ برس ان کی مخالف جماعتوں نے باہمی اختلافات بھلا کر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کی تو عمران خان نے امریکہ کو اس کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی آزادانہ اور خودمختار روش سے اکتاکر دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کے دعوے دار امریکہ نے ”رجیم چینج“ کی سازش تیار کی۔ ان دنوں امریکہ میں پاکستان کے سفیر کو وہاں کی وزارت خارجہ کی درمیانی سطح کا ایک افسر ملا۔ اس نے عمران حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھجوانے کی ”تڑی“ لگائی۔ سفیر پاکستان نے مبینہ تڑی کو ”سائفر“ کے ذریعے حکومت پاکستان کو آگاہ کر دیا۔ عمران خان مگر گھبرائے نہیں۔ ”ہم کوئی غلام ہیں“ کا ورد کرتے سپرطاقت کے روبرو ڈٹ کرکھڑے ہو گئے۔ ریاستی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز ”میر جعفر“ اس ضمن میں بقول ان کے تاہم ”بکری“ ہو گئے۔ یوں عمران حکومت کے خلاف ”سازش“ کامیاب ہو گئی۔ خان صاحب مگر اب بھی سرنگوں نہیں ہوئے۔ ”حقیقی آزادی“ کی جنگ میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ ہر صاحب ایمان اور محب وطن ہونے کے دعوے دار پاکستانی کو مذکورہ جنگ میں ان کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے۔
اتوار کے روز ”قوم سے خطاب“ کی جو وڈیوز مجھے ٹویٹر کے توسط دیکھنے کو ملیں ان کی بدولت عمران خان امریکہ کو اپنے خلاف ہوئی ”سازش“ کا براہ راست ذمہ دار ٹھہراتے محسوس نہیں ہوئے۔ ایک برس گزرنے کے بعد تحریک انصاف کے قائد نے دریافت کیا ہے کہ ”سازش“ کا آغاز درحقیقت ہمارے طاقت ور ترین ادارے میں کلیدی عہدوں پر براجمان افراد نے کیا تھا۔ دکھاوے کے لئے تین سے زیا دہ برس تک عمران خان وطن عزیز کے ”منتخب“ چیف ایگزیکٹو رہے ہیں۔ اپنے ”تحریری آئین“ پر تکیہ کریں تو ”چیف ا یگزیکٹو“ کے علم اور منشا کے بغیر سرکار سے تنخواہ لینے والا طاقت ور ترین افسر- خواہ وہ سول سروس میں ہو یا عسکری اداروں سے وابستہ- از خود کوئی پیش قدمی نہیں لے سکتا۔
خان صاحب کا مگر یہ دعویٰ ہے کہ ان کی منظوری اور علم کے بغیر قمر جاوید باجوہ جیسے کلیدی عہدے داروں نے حسین حقانی کو جانے کتنی رقم پر اپنا ”سہولت کار“ بنالیا۔ حقانی کو یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ امریکی حکام کو سمجھائے کہ عمران خان ضرورت سے زیادہ ”وطن پرست“ ہیں۔ امریکہ سے پنگا لینے کو ہمہ وقت بے چین رہتے ہیں۔ قومی سلامتی کے بارے میں فکر مند قمر جاوید باجوہ البتہ انہیں مسلسل ٹھنڈا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔
عمران خان کا اتوار والا خطاب میرے جھکی ذہن کو یہ سوال اٹھانے کو اکساتا رہا کہ اگر دنیا کی واحد سپر طاقت ہونے کے دعوے دار امریکہ کو پاکستان کے بارے میں درست معلومات کے حصول کے لئے فقط حسین حقانی کی فراست ہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے تو اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں اس کا اتنا بڑا سفارت خانہ کیا کرتا ہے۔امریکی ٹیکس گزاروں کو اس کا نوٹس لینا چا ہیے۔ ”قومی بچت“ کے نام پر یہ سفارت خانہ بند کردیا جائے اور حسین حقانی سے رجوع کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں آگہی حاصل کریں۔ایسا ہوگیا تو حسین حقانی سے روابط بحال کرنے کو میں بھی مجبور ہو جاوں گا۔ موصوف بطور صحافی میرے بے تکلف دوست رہے ہیں۔ میری یاوہ گوئی ہمیشہ کھلے دل سے برداشت کرتے۔ اپنے ہاں ان دنوں ”کڑکی“ کا عالم چل رہا ہے۔ حسین حقانی سے درخواست کردوں گا کہ کوئی ”جگاڑ“ لگا کر مجھے امریکہ بلوائے۔ میں وہاں امریکی حکومت کے خرچے پر چند دن گزاروں۔ صحافت میں ساری عمر گزارنے کے بعد تھوڑی فراست مجھے بھی غالباََ نصیب ہو چکی ہے۔ میں حسین حقانی کی معاونت کو بے چین رہوں گا۔ خاص طور پر ان دنوں جب ہماری ریاست کے طاقت ور ترین ادارے بھی اس کے مبینہ سرپرست بن چکے ہیں۔
(بشکریہ نوائے وقت)

