بھٹو کی پھانسی : یا الٰہی، مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

دھکا اچانک اور ایسا زوردار تھا کہ دھان پان سا میں بنا کوشش ہی اس ٹرک کے عین سامنے جا کھڑا ہوا تھا جس کی پیشانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کا سہ رنگ جھنڈا سجا ہوا تھا اور جس کی چھت پر پارٹی کے قائد ذوالفقار على بھٹو ہاتھ ہلا ہلا کر جلوس کے شرکا کے پرجوش نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ گہرے نیلی شرٹ اور سر پر اسی رنگ کی کیپ۔ مجھے رسالہ ”چین باتصویر“ کے سرورق پر چھپی ماوزے تنگ کی تصویر یاد آ گئی۔
یہ 1977 کے موسم گرما کا کوئی دن تھا اور بھٹو صاحب غالباً انتخابی مہم کے سلسلے میں لاہور میں اس جلوس کی قیادت کرتے ہوئے ائرپورٹ سے ریگل چوک پہنچے تھے۔ ان کے ٹرک کے پیچھے بھی ٹر کوں اور کاروں کا ایک طویل قافلہ تھا جن پر سوار پارٹی کارکنوں نے پارٹی کے جھنڈے اور بھٹو صاحب کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ زبردست نعرہ بازی کر رہے تھے۔ میں ان دنوں میٹرک کا طالب علم تھا۔ بھٹو صاحب کی حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک نے ملک بھر میں کاروبار حیات معطل کر رکھا تھا۔
ہمارے میٹرک کے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے تھے۔ مزنگ کے جس دو کمروں پر مشتمل کرائے کے مکان میں ہم رہتے تھے اس کی دیواروں پر پیپلز پارٹی کے بنیادی نعرے پوسٹرز کی صورت میں چسپاں تھے اور بھٹو صاحب کی ایک سے زیادہ رنگین تصاویر تو ہم بچپن سے دیکھتے چلے آرہے تھے۔ بڑے بھائی خالد یزدانی اور ساجد یزدانی تو پیپلز پارٹی کے اس قدر حامی تھے کہ انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر چلڈرنز پیپلز پارٹی کا ایک دفتر قائم کر رکھا تھا جس کا افتتاح بابائے سوشلزم شیخ رشید صاحب نے باقاعدہ فیتا کاٹ کر کیا تھا۔ اس موقع پر حفیظ کاردار اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے اور مزنگ کے بچوں کے جوش و خروش کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔
یہ خبر کہ بھٹو صاحب لاہور آرہے ہیں مجھے ساجد بھائی نے ہی سنائی تھی جس پر میں نے ان سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں بھٹو صاحب کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے ساتھ لیا اور ہم دونوں ریگل چوک جا کھڑے ہوئے جہاں پہلے ہی ایک بڑا ہجوم اپنے رہنما کے خیرمقدم کو جمع تھا۔ جیسے ہی بھٹو صاحب کا ٹرک چوک ریگل پہنچا ہجوم کے جوش میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ عجیب دھکم پیل شروع ہو گئی۔ تبھی لوگوں کے ایک ریلے نے اپنے قائد کے قریب پہنچنے کے لیے اس زور کا دھکا مارا کہ میں بنا کوشش ہی اس ٹرک کے عین سامنے جا کھڑا ہوا تھا جس کی چھت پر پارٹی کے قائد ذوالفقار على بھٹو باتھ ہلاہلا کر جلوس کے شرکا کے پرجوش نعروں کا جواب دے رہے تھے۔
چوک ریگل پر بھٹو صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر بھی کی۔ لوگ بے قابو ہو رہے تھے۔ دوسرا ریلا آیا تو میں ہال روڈ کے کونے پر کھڑا اپنے حواس بحال کر رہا تھا اور ادھر ادھر نظر دوڑا کر ساجد بھائی کو بھی تلاش کر رہا تھا۔ کسی بڑے اجتماع میں شرکت کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا جس نے مجھ پر یہ بھی عیاں کیا کہ طبعاً میں ایک ہجوم گریزاں شخص ہوں کیونکہ اس وقت جہاں میں بھٹو صاحب کو دیکھ لینے کی اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل پر خوشی محسوس کر رہا تھا وہیں زیادہ لوگوں کی موجودگی پر گھبراہٹ کا سامنا بھی کر رہا تھا۔
خیر، تقریر کے بعد جلوس آگے بڑھا ناصر باغ یا داتا دربار کی طرف اور میں ساجد بھائی کے ساتھ ہائی کورٹ والی سڑک سے گھر واپس لوٹ آیا۔ یہ میری زندگی کا ایک تاریخی لمحہ تھا۔ مگر اس واقعہ کو زیادہ دن نہ گزرے ہوں گے کہ سیاسی مذاکرات، جوڑ توڑ اور کھینچا تانی کی اعلیٰ سطحی سرگرمیوں کے دوران ہی بھٹو صاحب کی گرفتاری کی خبر آ گئی۔ اور وقت جیسے بھاگتا بھاگتا ایک دم سے رک گیا ہو۔ زندگی نے دم سادھ لیا تھا۔
بھٹو صاحب پر مقدمہ چلا۔ کیا کیا مراحل گزر گئے۔ ہمارے گھر کے افراد کی حالت یہ تھی کہ والد صاحب سیاسی تجزیات کی روشنی میں اور امی جان مصلے پر مہکتی دعاؤں کے اجالے میں بھٹو صاحب کی رہائی کی نوید پایا کرتی تھیں۔
اسی دوران میں میں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو گیا جہاں میرا اولین دوست آغا نوید بنا۔ اس نے مجھے سمن آباد اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میں نے دیکھا کہ آغا کے کمرے کی دیواروں پر خوب صورت فن کارانہ خط میں لکھا تھا: بھٹو، تو اللہ، رسول اور آل رسول کے حوالے۔ اس طرح اس شام مجھ پر آغا نوید کی شخصیت کا ایک اور روپ آشکار ہوا۔ آغا کو ہمارے اکثر ہم۔ جماعت بائیں بازو کی طلبہ سیاست سے منسلک ہونے کے باعث دہریہ سمجھتے تھے۔ خیر، کالج کینٹین میں آغا نوید اور خواجہ سعد رفیق کی دل چسپ سیاسی نوک جھونک سے لطف اندوز ہوئے ہم سیکنڈ ائر میں پہنچ گئے۔
مجھے یاد ہے 4 اپریل 1979 کو بدھ کا دن تھا اور کالج میں ہماری ساری کلاسیں معمول کے مطابق ہوئی تھیں۔ آخری کلاس سے نکلا اور پرنسپل آفس کے سامنے سے گزرتے ہوئے اوول کے ساتھ ساتھ ڈھلوانی راستہ عبور کرتا ہوا مین گیٹ پر پہنچا۔ نظر آسمان پر گئی تو عجیب وحشت سی محسوس ہوئی۔ یہاں سے وہاں تک سرخی پھیلی ہوئی تھی۔ دل جانے کیوں بیٹھنے لگا۔ میں نے آہستہ آہستہ گیٹ پار کیا اور انارکلی کی طرف یعنی بائیں جانب مڑ گیا۔ ایک لڑکا سائیکل دوڑاتا ہوا اسی طرف آ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کسی اخبار کا ضمیمہ تھا اور اس کی زبان پر جو سرخی تھی اس کا رنگ بھی آسمان کی طرح لال ہی تھا۔
بھٹو کو پھانسی، بھٹو کو پھانسی۔
میرا دل دھک سے رہا گیا۔ خبریں تو مسلسل گردش کر رہی تھیں۔ کوئی کہہ رہا تھا پھانسی ہوگی اور کوئی کہہ رہا تھا کہ نہیں ہوگی۔ اور ایسی خبریں بہت دنوں سے گردش میں تھیں۔ مگر اس ضمیمہ فروش لڑکے کے منہ سے یہ خبر سن کر یقین نہیں ہو رہا تھا۔ دل اندر ہی اندر جو محسوس کر رہا تھا اس کا اظہار بعد ازاں عہد ساز نظم گو اختر حسین جعفری صاحب نے انتہائی موثر انداز میں کیا تھا:
یا الٰہی، مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
میں عموماً کالج سے گھر پیدل ہی جایا کرتا تھا۔ چرچ روڈ سے پرانی انارکلی اور وہاں ٹولنٹن مارکیٹ کے کونے پر بک سٹال پر رکتے ہوئے نابھہ روڈ کی طرف اور وہاں سے جین مندر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چوک جنازہ گاہ، مزنگ۔ اس روز راستے میں اور بھی ضمیمہ فروش دکھائی دیے۔ وہی سرخی دہراتے ہوئے۔ مجھے خبر کی سچائی پر اس لیے بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ ان دنوں دوپہر اور شام کو ایسے ہی بے پر کی اڑانے والے ضمیمے اکثر نکلا کرتے تھے۔ سرخی ہی چیخ رہی ہوتی تھی، اندر خبر بالکل خاموش۔
بھٹو جیسے عالمی سطح کے سیاست دان کو پھانسی دینا کوئی مذاق ہے؟ اخبارات والے بھی نا بس اپنا ضمیمہ بیچنے کے لیے کیا کی کیا سرخی جما دیتے ہیں۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے میں گھر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اندر کہیں ایک آس زندہ تھی مگر پھر امید کے چراغ جل جل بجھ گئے۔ ضمیمہ کی سرخی بھی سچی تھی اور آسمان کی بھی۔ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی تھی۔
فیض احمد فیض کہہ رہے تھے :
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
وقت جیسے بھگتا بھاگتا ایک دم سے رک گیا ہو۔ سب نے دم سادھ لیا تھا۔ اندر باہر عجب غم انگیز موسم طاری ہو گیا۔ مایوسی ایسی کہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔
ان دنوں میں نے ایک غزل کہی تھی جس کے دو شعریوں تھے :
یہ کیسا عجیب سانحہ ہے
اب دن بھی اندھیرے بانٹتا ہے
کرنوں کے بنے کا خواب اب کون
سورج تو غروب ہو گیا ہے
یوں جبر کی ایک طویل مارشل لائی رات کا آغاز ہوا۔ ایک سکوت وقت کے صحرا میں دور دور تک پھیلتا چلا گیا۔
فضا سے غبار چھٹتا بھی تو آسمان پر دھوئیں کی ایک دبیز چادر تنی دکھائی دیتی۔ آوازیں ابھرتی اور دم توڑتی رہیں۔ رتیں بدلتی رہیں۔ اور کہیں گیارہ برس بعد وہ رت آئی جس کی ہوا میں جمہوری تازگی کی نوید تھی۔ انتخابات کا انعقاد ہوا۔ فضا کچھ صاف ہوئی۔ غیر جماعتی ہی سہی ہمیں اتنے برس بعد پہلی بار حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع تو ملا۔ ہماری شعور کی عمر کا کتنا حصہ غیر جمہوری دور کی نذر ہو گیا۔ خدا خدا کر کے جمہوریت کے آثار نمودار ہونے لگے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کی خبر تو جیسے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔
میں ایک بار پھر مزنگ سے ٹمپل روڈ اور وہاں سے ہوتا ہوا چوک ریگل کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں اپنی قائد کا استقبال کرنے کو پہلے ہی سے ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ دھکا اچانک اور ایسا زوردار تھا کہ میں بنا کوشش ہی اس ٹرک کے عین سامنے جا کھڑا ہوا تھا جس کی پیشانی پر پاکستان پیپلز پارٹی کا سہ رنگ جھنڈا سجا ہوا تھا اور جس کی چھت پر سفید دوپٹے اور سبز لباس میں ملبوس بھٹو کی صاحب زادی بے نظیر بھٹو عوام کے نعروں کے جواب ہاتھ ہلا ہلا کر دے رہی تھیں۔ ان کی تقریر بھی سنی جو خاصی جذباتی تھی۔ لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے لائق تھا۔ ہماری نسل جس نے اپنی شعوری عمر کا بڑا حصہ جبر کے ماحول میں گزارا تھا یہی سوچ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ اب ہم آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے اپنی من پسند حکومتیں چن سکیں گے اور اب ہرطرف سچائی، امن اور انصاف کا بول بالا ہو گا۔ قومی فیصلے کوئی ایک فرد یا مقتدر ادارہ نہیں کرے گا بلکہ ہم سب مل کر کریں گے۔ مگر آج چار اپریل 2023 کو میں عمر رسیدگی کی دہلیز پر کھڑا بیتے دنوں کے اندھیروں، آزادی اور خوش حالی کے روشن خوابوں اور جمہوریت کی دعاؤں کو یاد کر رہا ہوں۔
کدھر دیکھوں؟ کہ سامنے تو وہی غبار بے یقینی پھیلا ہوا ہے۔ آسمان پر دھوئیں کی تہہ آہستہ آہستہ دبیز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
کیا آپ بھی یہی دیکھ رہے ہیں؟

