منگلا قلعہ: میرپور کا ایک قدیم تاریخی ورثہ
اس وقت منگلا اپنے قدیم تاریخی قلعے، 100 مربع میل پر محیط خوبصورت جھیل، ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن اور منگلا جھیل سے دریا جہلم کے تازہ پانیوں سے حاصل ہونے والی تازہ مچھلی خاص طور پر مہا شیر کے لئے مشہور ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دریا ء جہلم کی قدرتی حد پنجاب اور کشمیر کو تقسیم کرتی ہے۔ اس مقام سے 326 قبل مسیح میں یونانی بادشاہ الیگزینڈر نے دریائے جہلم عبور کیا اور منگلا سے دس میل دور کھڑی کے مقام پر قیام کرنے کے بعد مہاراجہ پورس کی افواج سے اپنی تاریخی لڑائی لڑی تھی۔
منگلا قلعہ مسیح سے قبل دریائے جہلم کی پہاڑی پر تعمیر کیا گیا تھا۔ دریائے جہلم کو پانی ہمالیہ کے چشمہ ویری ناگ اور وولر جھیل سے ملتا ہے، جو کشمیر کے پہاڑوں سے بہتا ہوا منگلا پہنچتا ہے۔ سندھ تاس کے معاہدہ کے تحت دریا جہلم پر منگلا کے مقام پر بند باندھ کر ڈیم بنایا گیا تھا جس کی تعمیر 1967 ء میں مکمل ہوئی۔ منگلا قلعہ دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر واقع ہے اور ضلع میرپور کی حدود میں آتا ہے۔
جب میں نے منگلا کے تاریخی قلعہ پر مضمون لکھنے کے لئے ریسرچ شروع کی تو مجھے اپنے ساتویں جماعت کے ہم جماعتوں کے ساتھ پہلی دفعہ منگلا قلعہ کی سیر کی مدھم مدھم یادیں ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ غالباً اپریل 1972 کی بات ہے امتحانات کے بعد ہم چار ہم جماعتوں نگیال کے ارشد محمود اور ذوالفقار علی، امجد محمود اور میں نے منگلا قلعہ کی سیر کا پروگرام بنایا۔ صبح سویرے ہم سائیکلوں پر گھر سے نکلے اور نہر کی سڑک کے راستے منگلا قلعہ پہنچے تھے۔ وہ ابتدائی زندگی کی ایک خوبصورت اور منفرد یاد ہے۔
منگلا ڈیم بننے سے قبل منگلا کے تاریخی قلعہ سے ایک میل کے فاصلے پر 1915 ء میں نہر اپر جہلم نکالی گئی تھی۔ منگلا کے اس تاریخی اور قدیم قلعہ کے بارے میں بہت سی روایات اور مختلف کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ انجینیئر جنید بشیر اپنے ایک تحقیقی مضمون ”منگلا قلعہ اور اس کے تاریخی روابط۔ Existing Mangla Fort and Its Historical Connection“ میں لکھتے ہیں کہ پہلے منگلا کو منگلا قلعہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مائی منگلا نام کا گاؤں دریائے جہلم کے دائیں کنارے پر واقع تھا۔
اس گاؤں کی آبادی کی اکثریت آرائیں خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ علاقہ کھڑی کی ایک زمیندارنی شانتا دیوی اسی گاؤں میں آباد تھی جو 1947 ء کی تقسیم کے بعد ہندوستان چلی گئی تھیں۔ اس وقت نہر اپر جہلم کے پرانے پل کے ساتھ ایک ریسٹ ہاؤس کی خوبصورت عمارت مختلف اقسام کے پھولوں اور جڑی بوٹیوں کے دلنشین باغات سے گھری ہے۔ اس عمارت کے پاس ہی واپڈا کے دفاتر اور واپڈا ملازمین کی رہائشی کالونی ہے۔ کبھی سرائے عالمگیر سے منگلا ہیڈ ورکس تک ریلوے ٹریک بچھا ہوا تھا۔
1956 ء کے بعد اس ٹریک پر آمدورفت بند کر دی گئی تھی۔ 1981 ء میں نہر کے دائیں کنارے پر بچھی اس ریلوے لائن کو اکھیڑ کر فروخت کر دیا گیا۔ پٹڑی اکھیڑنے سے نہر کا دایاں پشتہ بہت کمزور ہو گیا تھا جس کو تین سال قبل آنے والے زلزلہ میں شدید نقصان پہنچا۔ افسوس ہم نے انگریزوں کی بنائی ہوئی چیزوں کی حفاظت نہیں کی اور نہ ہی ان میں اضافہ کیا ہے۔
منگلا قلعہ کی ایک تاریخی روایت یہ ہے کہ 326 ء قبل مسیح میں یونانی بادشاہ الیگزینڈر نے منگلا کے مقام سے دریا عبور کر کے کھڑی کے میدان میں قیام کر کے راجہ پورس کی فوجوں سے جنگ کی۔ اس جنگ کے بعد جب راجہ پورس مارا گیا تو راجہ پورس کی بیٹی منگلا نے کھڑی میں شوالک پہاڑی سلسلے کی آخری پہاڑی پر اپنی رہائش گاہ بنائی اور منگلا دیوی کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد میں اس جگہ پر مٹی کا ایک بڑا قلعہ تعمیر کیا گیا۔ جنید بشیر کے مطابق تزکیری جہلم کے مصنف نے بھی منگلا دیوی کو راجہ پورس کی بیٹی قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق منگلا ایک خوبصورت، عمدہ اور اچھے اخلاق کی مالک خاتون تھی۔ جب الیگزینڈر سے جنگ کے بعد راجہ پورس مارا گیا تو اس کی بیٹی منگلا دیوی نے اس اونچی پہاڑی پر اپنی رہائش گاہ کو خانقاہ بنا لیا اور خود وہ سنت اور جوگن بن گئی۔ وہ ایک با اخلاق خاتون تھی جو خوبصورت گیت گا کر اپنے آبا و اجداد کا احوال بیان کرتی تھی۔ لوگ دور دراز سے انھیں دیکھنے اور ان کے خوبصورت گیت سننے کے لیے آتے تھے۔ اس دوران ان کے ہزاروں چاہنے والے بھی سنت بن گئے۔ دوردراز سے بادشاہ ان کو دیکھنے اور برکت حاصل کرنے آتے تھے۔ رفتہ رفتہ منگلا دیوی ایک عظیم سنت بن گئی۔ ایک متھ یہ بھی ہے کہ منگل کا دن ان کے درشن کے لیے منتخب کیا گیا، لوگ منگل کو ان کے درشن کرنے ان کے پاس آتے تھے، اس طرح آہستہ آہستہ منگل کے دن کی مناسبت سے ان کا نام منگلا دیوی پڑ گیا۔
ایک اور تاریخی روایت کے مطابق دیوی منگلا کا نام ہندو مذہب کی مشہور کتاب مہا بھارت میں مذکور ہے۔ یہ ان قدیم کتابوں میں سے ایک ہے جو قبل مسیح کے دور میں لکھی گئی تھی۔ ایک اور روایت کے مطابق منگلا دیوی کا تذکرہ کتاب الہند میں موجود ہے جو البیرونی نے گیارہویں صدی میں ہندوستان کے دورہ کے بعد لکھی تھی۔ البیرونی ایک مشہور مورخ اور ریاضی دان تھے جو 1020 ء میں ہندوستان پر سلطان محمود غزنوی کے حملے کے وقت اس کے ساتھ تھا۔ اپنے اس سفر میں اس نے منگلا دیوی کا مجسمہ دیکھا تھا۔ راقم نے کتاب الہند کے اردو ترجمہ کا بغور مطالعہ کیا ہے لیکن منگلا دیوی کا ذکر اس میں کہیں بھی نہیں ملا۔
ایک تیسری تاریخی روایت یہ کہتی ہے کہ منگلا قلعہ قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا۔ منگلا قلعہ میں ایک مندر تھا۔ اس مندر میں ہندو مذہب کے بڑے دیوتا شو کی مورتی تھی۔ یہ مجسمہ چار فٹ لمبے اور دو فٹ موٹے پتھر پر بنایا گیا تھا جو مندر کے درمیان میں نصب تھا۔ یہ اتنا وزنی تھا کہ بیس آدمی مل کر بھی اس پتھر کو اٹھا نہیں سکتے تھے۔ شو بھگوان ہندوؤں کا ایک بہت بڑا دیوتا تھا جسے مہا دیو بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا عضو تناسل بھی اس کی مورتی کے ساتھ پتھر پر نصب تھا۔
شو لنگ کی پوجا کی جاتی تھی۔ مندر کے چاروں کونوں پر بھگوان شو کی چاروں بیویوں کی مورتیاں رکھی تھیں، جن کے درمیان شوبھگوان کا مجسمہ رکھا تھا۔ اس مجسمہ پر شولنگ بھی نصب تھا۔ شو کی چاروں بیویوں کی مورتیاں اپنے سروں پر گنگا کے پانی سے بھرے ہوئے برتن (مٹکے ) اٹھائے ہوئے تھیں۔ ان مٹکوں سے پانی آہستہ آہستہ فرش پر گر کر غائب ہوتا جاتا تھا۔ گنپت نام کا ہندو سنت اس شو لنگ کا خیال رکھنے اور اس کی حفاظت پر مامور تھا۔
یہاں سال میں تین دن تہوار منایا جاتا تھا۔ ہندو مذہب کے ماننے والے لوگ شولنگ کے درشن اور پوجا کے لئے حاضری دیتے تھے۔ جن عورتوں کے اولاد نہیں ہوتی تھی وہ اکثر اتوار کو یہاں آ کر اپنے مقصد حاصل کرنے کی خاطر شولنگ کی پوجا کرتی تھیں۔ غیر شادی شدہ عورتیں بھی شو لنگ کی پوجا کرنے کے لیے ایک رات اس مندر میں گزارتی تھیں۔
منگلا ڈیم بننے اور تقسیم سے پہلے قلعہ تک رسائی موجودہ پاور ہاؤس کی طرف سے تھی۔ یہ منگلا قلعہ تک پیدل جانے کے لیے ایک قدیم راستہ تھا۔ اس راستے پر گاڑی کے لیے سڑک نہیں تھی، لوگ پیدل، گھوڑوں، اونٹوں اور خچروں پر سفر کرتے تھے۔ صاحب چک، تھپلہ، عزیز پور، لہڑی، چیچیاں اور گھٹیالی پتن سے ہو کر ہندو یاتری واپس ہندوستان جاتے تھے۔ 1915 ء میں نہر اپر جہلم کی تعمیر کے بعد کچی سڑک منگلا، جاتلاں، سرائے عالمگیر اور گجرات کو ملاتی تھی۔
دوسرا راستہ قلعہ کے جنوب کی طرف تھا جس میں دریا گزرتا تھا۔ یہ راستہ شیخوپورہ اور دینہ کی طرف جاتا تھا۔ تیسرا راستہ منگلا قلعہ کے بالکل نیچے تھا جو دریا عبور کرنے کے بعد سلطان پور گاؤں کی طرف جاتا تھا۔ چوتھا راستہ قلعہ سے ببیام اور پھر میرپور پہنچتا تھا۔ یہ تمام قدیم راستے تھے اور لوگ ان پر پیدل سفر کرتے تھے۔ منگلا دیوی کے تہوار کے موسم میں ہندو یاتری دور دراز کے مقامات سے قلعہ میں واقع درگاہ پر آتے تھے۔ یہ چاروں راستے منگلا قلعہ کے پہاڑ کے نیچے دھرم سال کے قریب ملتے تھے اور دھرم سال سے صرف ایک پہاڑی راستہ منگلا قلعہ کے اوپر جاتا تھا۔
پنجاب کی ریاست کانگڑہ کے ایک راجہ کے بیٹے کھڑک چند نے جب 1400 ء میں ریاست کھڑی کھڑیالی کی داغ بیل ڈالی تو منگلا قلعہ کو اس کا صدر مقام بنا کر اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس طرح چار سو سال تک یہ قلعہ کھڑی کھڑیالی ریاست کا صدر مقام رہا۔ انگریز مورخ ایچیسن اپنی کتاب ”پنجاب کی پہاڑی ریاستوں کی تاریخ۔ History of hilly states of Punjab“ میں لکھتے ہیں کہ کھڑی کھڑیالی ریاست کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 1800 ء کے بعد گجرات کے سکھ سردار صاحب سنگھ اور مہنت سنگھ شکر چکیا نے اس علاقہ پر حملہ کر کے اس قلعہ کو زیر کرنا چاہا لیکن ان کی قلعہ تک رسائی نہ ہو سکی اور وہ واپس چلے گئے۔
رنجیت سنگھ نے گجرات پر قبضہ کر نے کے بعد پہاڑوں کی طرف رخ کیا اور عمر خان سے چونین کا قلہ فتح کر کے منگلا کی طرف رخ کیا۔ راجہ عمر خان نے اتنی بڑی طاقت کے ساتھ جنگ کرنے کی بجائے اپنے بیٹے اکبر علی خان کے ذریعے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ اسی دوران راجہ عمر خان کا انتقال ہو گیا تو رنجیت سنگھ نے آدھی ریاست اکبر علی خان کو دے دی۔ 1846 ء میں جب کشمیر مہاراجہ گلاب سنگھ نے خرید لیا تو یہ قلعہ ڈوگرہ حکومت کی عملداری میں آ گیا اور 1947 تک یہ ڈوگرہ حکومت کے پاس رہا۔
منگلا قلعہ کی تعمیر بہت پرانی ہے۔ ابتداء میں یہ قلعہ بیس ایکڑ رقبہ پر محیط تھا۔ اب یہ قلعہ منگلا ڈیم کے جنوب مغربی کونے پر واقع ہے۔ سڑک سے قلعہ تک رسائی کے لئے اب در راستے ہیں۔ ایک راستہ بنگ فوجی کالونی سے ہو کر گزرتا تھا جو پہلے شارع عام تھی۔ یہاں سے قلعہ تک سڑک جاتی ہے لیکن اب یہ شارع عام نہیں ہے۔ دوسرا راستہ لال بادشاہ کے مزار کے قریب سے ہو کر گزرتا ہے۔ منگلا ڈیم کی تعمیر کے دوران قلعہ کا ایک بڑا حصہ ڈیم کی نذر ہو گیا تھا۔
اب اس کا جنوب مغربی حصہ ہی باقی رہ گیا ہے جس کا رقبہ اندازہ ً پانچ چھ ایکڑ ہو گا۔ جیسے ہی آپ بڑے گیٹ سے قلعہ کے اندر داخل ہوں تو دائیں طرف جانے والی سڑک آپ کو قلعے کے مغرب میں واقع فصیل کی طرف لے جاتی ہے۔ اس فصیل کے سامنے چار پانچ گھاس کے قطعات ہیں جہاں پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی ہیں۔ فصیل کی دوسری سمت ساتھ نیچے گہری کھائی ہے۔ گیٹ سے اگر بائیں طرف والی سڑک سے اندر جائیں تو سامنے ایک محراب دار برآمدہ ہے جس پر ایک کمرہ واپڈا والوں نے تعمیر کیا ہے۔
اس محراب سے نیچے پاور ہاؤس، واپڈا کے ریسٹ ہاؤس، دفاتر اور نہر اپر جہلم کا خوبصورت نظارہ بہت دور تک کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک پرانا درخت ہے جس کے سامنے دو تین کمرے ہیں۔ ان کمروں میں سے ایک کمرے میں شاید دفتر ہے اور دوسرے میں میوزیم بنا ہوا ہے جس میں منگلا ڈیم بننے کے دوران برامد ہونے والی اشیا اور پاور ہاؤس کا ڈیزائین رکھا ہوا ہے۔
منگلا ڈیم پر اپنے تحقیقی مضمون میں جنید بشیر نے لکھا ہے کہ منگلا قلعہ قدیم فنی تعمیر کا نمونہ ہے۔ مختلف ادوار کی سیاسی تبدیلیوں اور موسمی اثرات نے اس پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ تعمیراتی انداز کی ساخت آٹھ رخی کثیرالاضلاع پر مبنی تھی جو پورے قلعے میں نظر آتی ہے۔ منگلا ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے قلعے کا مشرق اور شمال کا نصف سے زیادہ رقبہ اور دیواریں ڈیم میں شامل ہو گیا تھا۔ قلعہ کے اندر مندر کا کوئی نام و نشان بھی نظر نہیں آتا۔
ابتداء میں یہ قلعہ مٹی اور پتھروں سے بنایا گیا تھا۔ بعد میں کی گئی تعمیر میں آرائشی محرابوں اور دوسرے آرائشی عناصر کا استعمال ڈوگرہ دور میں ملتا ہے۔ قلعہ کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مواد میں ریتلا پتھر اور پتھر کے خاکہ کے علاوہ لکڑی کے بڑے بڑے شہتیر شامل تھے۔ بیرونی دیواروں میں پتھر اور خاکہ استعمال کیا گیا ہے۔ قلعہ کی کچھ دیواریں مختلف مقامات پر مختلف اونچائی پر مبنی تھیں جب کہ قلعہ کی دیواروں میں مختلف سائز کے گھڑے ہوئے پتھر استعمال ہوئے جن کی لمبائی ڈیڑھ سے تین فٹ کے درمیان ہے اور بعض جگہ چونے کے پتھر کا استعمال بھی نظر آتا ہے۔
قلعے میں پرانی کوئی بھی چھت سلامت نہیں ہے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکے کہ قلعے کی چھتیں کیسی تھیں۔ قلعہ کے اندر اب موجود کوئی بھی کمرہ اپنی اصل حالت میں نہیں ہے واپڈا نے ڈیم کی تعمیر کے دوران ان کو تبدیل کر دیا ہے۔ مشرق اور جنوب میں قلعہ کی دیواریں اونچی تھیں جبکہ شمال اور مغرب کی سمت میں زیادہ بلند نہیں تھیں جو نکہ یہاں ساتھ گہری کھائیاں تھیں۔ دیواروں میں بڑے اور لمبوترے سوراخ رکھے گئے ہیں۔ یہ سوراخ (جھانکنے والی کھڑکیاں ) قلعے سے نیچے گہرائی میں دشمنوں کی کارروائیوں پر نظر رکھنے اور بوقت ضرورت ان پر آگ برسانے یا گرم پانی ڈالنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔
باوجود کوشش کے اس قلعے کے بارے میں کوئی تحریری مواد کسی لائبریری سے نہیں ملا۔ تاریخی منگلا قلعہ جسے بعد میں منگلا ڈیم قلعہ کا نام دیا گیا، دریا جہلم کے کنارے شوالک پہاڑی سلسلے کی آخری پہاڑی پر آج بھی موجود ہے جو دنیا کے ایک بڑے مٹی اور پتھروں سے بنے ڈیم کی پانی کے وسیع ذخیرہ والی جھیل کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ قلعہ کے جھروکوں سے چاندی کی لکیر جیسی دکھائی دینے والی نہر اپر جہلم اور بھی خوبصورت نظر آتی ہے۔
کبھی یہ قلعہ اپنی شان و شوکت سے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو متاثر کرتا تھا۔ وہ انھیں اپنے ہاں پکنک اور سیرو تفریح کا ایک خوشگوار ماحول فراہم کرتا تھا۔ کیونکہ آس پاس کے علاقہ میں یہ واحد جگہ تھی جہاں انسان زندگی کی یکسانیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنا کچھ وقت گزارتے تھے، ان سے اب یہ سہولت واپس لے لی گئی ہے۔ پچھلے بیس سال سے یہ قلعہ بند پڑا ہے۔ یہ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ جس علاقہ کے عوام نے اپنے اباؤ اجداد کی قبریں تک ڈیم کے پانی میں ڈبو دی ہیں انھیں اس تفریح مقام تک جانے کے لیے منع کر دیا گیا ہے۔ میری آزاد کشمیر گورنمنٹ اور محکمہ سیاحت سے گزارش ہے کہ قلعہ کو عوام کے لیے جلد از جلد کھولا جائے۔ محکمہ آرکیالوجی اس قلعہ کی تاریخ اور اس کے مختلف ادوار پر تحقیق کرا کے ایک اچھا سا پمفلٹ شائع کروا کر اسے سیاحوں کے لیے رکھے۔






