مسخ شدہ تاریخ، گمراہ قوم
گزشتہ دنوں پروفیسر خورشید کمال عزیز صاحب کی کتاب ”پاکستانی تاریخ کا قتل“ کا مطالعہ کیا تو ہوشربا انکشافات نے آنکھیں کھول دیں۔ ہر پاکستانی کو یہ کتاب لازمی پڑھنی چاہیے تاکہ اصل تاریخ سے آگاہی ہو سکے، کتاب میں کے کے عزیز صاحب نے مندرجہ ذیل چشم کشا حقائق سامنے رکھے۔
1857 ء کی شورش کے متعلق تاریخ کی روایتی کتابوں میں پڑھایا جاتا ہے کہ یہ برصغیر کے مسلمانوں کی عظیم جنگ آزادی تھی جس میں ہندوؤں نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ درحقیقت 1857 ء کے واقعات کے مراکز صرف دہلی و یوپی کے کچھ مقامات تھے جبکہ باقی پورا ہندوستان پرسکون اور انگریز کا وفادار رہا، یہ بغاوت قومی سطح پر پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا اور نہ ہی اسے مسلمانوں کی جانب سے لڑی جانے والی جنگ آزادی قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ہمارے نصاب میں ہندوستان میں مسلمانوں کی اٹھنے والی ہر سیاسی، فکری، سماجی علمی و مذہبی تحریک کا سرا علی گڑھ تحریک سے ضرور ملایا جاتا ہے۔ سر سید احمد خان کو پاکستان کا عظیم ترین مفکر قرار دیا جاتا ہے، اور تو اور یہاں تک پڑھایا جاتا ہے کہ سر سید احمد خان نے پاکستان بنانے کے لئے ناقابل یقین حد تک جدوجہد کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سال 2022 ء میں اسٹیٹ بنک کی جانب سے آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ نوٹ میں سر سید احمد خان کی تصویر سب سے نمایاں تھی۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ سر سید احمد خان نے نہ صرف 1857 ء کی شورش میں انگریزوں کا ساتھ دیا تھا بلکہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج اور علی گڑھ کالج انگریز حکومت کی سرپرستی اور تعاون سے تعمیر کیا گیا۔ علی گڑھ تحریک کی انتظامیہ ایسی اشرافیہ کے ہاتھ میں تھی جس نے برطانوی سروس سے فائدہ اٹھایا۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو اس وقت سیاست سے الگ رہنے کا کہا جب انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھی گئی اور ہندوستان میں سیاسی دور اور آئینی جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اسی سر سید نے ہندوستان میں انگریز حکومت کو خدا کی طرف سے ایک رحمت قرار دیا۔
اسی طرح آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے ہمیں جھوٹ پڑھایا جاتا ہے کہ یہ مزاحمت و آزادی حاصل کرنے کے لئے بنی تھی لیکن اس کے اصل مقاصد میں ہندوستان کے مسلمانوں کے دل میں برطانوی راج سے وفاداری کے جذبات پیدا کرنا اور انگریز حکومت کے کسی بھی نیت سے اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کو دور کرنا شامل تھے۔
حضرت علامہ محمد اقبال کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستان بننے کا خواب دیکھا۔ اس حوالے سے اقبال کے خطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہے لیکن اصل میں اقبال نے اس خطبے میں کوئی الگ ملک کا تصور پیش نہیں کیا تھا بلکہ اقبال نے پنجاب، این ڈبلیو ایف پی، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ہندوستان کے وفاق کا ایک صوبہ بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔
قرارداد لاہور کو لے کر بھی ہمارے نصاب میں جس قدر جھوٹ پڑھایا جاتا ہے اس پر اظہار ندامت ہی کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ قرارداد 23 مارچ کو نہیں بلکہ 24 مارچ 1940 کو منظور ہوئی تھی۔ تاریخ تو چلیے چھوڑیے اس کے متن کو لے کر جو جھوٹ پڑھایا جاتا ہے، اس پر حیرت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ قرارداد نے جنوبی ایشیا میں ایک علیحدہ، آزاد ریاست کا مطالبہ کیا جس کا نام پاکستان ہو گا۔ لیکن اس کا اصل متن پڑھیے اور خود فیصلہ کیجئے کہ قرارداد لاہور کا مقصد کیا تھا: آل انڈیا مسلم لیگ کے اس اجلاس میں متفقہ طور پر طے کیا گیا ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو کوئی آئینی منصوبہ اس وقت تک قابل قبول نہ ہو گا جب تک وہ مندرجہ ذیل بنیادی اصولوں کے مطابق نہ ہو۔ جغرافیائی طور پر ملحق اکائیوں کو ملا کر علاقے بنائے جائیں، جن کی حد بندی کرتے ہوئے خیال رکھا جائے کہ جہاں مسلمان عددی طور پر اکثریت میں ہیں، جیسا کہ انڈیا کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں میں، انہیں ملا کر آزاد ریاستیں بنا دیا جائے، جن کی اساسی اکائیاں آزاد اور خودمختار ہوں گی۔
متن پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ قرارداد میں لفظ ریاستوں استعمال کیا گیا اگرچہ ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ چھ سال بعد یعنی 1946 میں دہلی کنونشن میں قرارداد لاہور میں ترمیم کی گئی اور ریاستوں کی جگہ لفظ ریاست شامل کیا گیا۔
مطالعہ پاکستان میں پڑھائی جانے والی قیام پاکستان کی تاریخ ہی غلط ہے، اس سے حساب لگایا جاسکتا ہے کہ مطالعہ پاکستان کی کتابیں کتنی مستند ہیں۔ دراصل پاکستان 14 اگست نہیں بلکہ 15 اگست 1947 ء کو آزاد ہوا تھا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں 4 جولائی کو پیش کیا گیا انڈیا کا آزادی بل جو 15 جولائی کو قانون بنا، کے مطابق ریاستیں، پاکستان اور انڈیا، 14 اور 15 اگست کی درمیانی رات کو آزاد ہونی تھیں۔
بحث 14 یا 15 تاریخ کی نہیں، لیکن نظریہ پاکستان کے متعلق جو افسانے بیان کیے گئے انہوں نے ستم ڈھایا۔ ہمیں پڑھایا گیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، لیکن حقیقت میں قائداعظم اسلامی ملک نہیں بلکہ ایک سیکولر ملک بنانا چاہتے تھے۔ ثبوت کے طور پر ان کی 11 اگست 1947 ء کی تقریر جو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر کی گئی تھی، موجود ہے۔
ان تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ تاریخ جیسے سنجیدہ مضمون کے ساتھ ہم نے کیا مذاق کیا۔ تاریخ کو مسخ کرنے کے پیچھے اشرافیہ کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے تاکہ اپنی مرضی کی مخصوص سوچ و نظریے کو معاشرے میں پروان چڑھایا جا سکے۔ ہماری اشرافیہ شاید لاعلم ہے کہ اس مسخ شدہ تاریخ کی وجہ سے ہم تاریک راہوں میں کہیں کھو گئے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بھی ناممکن نظر آتا ہے۔


