آئی وارڈ کی نابینا لڑکی

بات تو میرے البم میں لگے اس فوٹو سے شروع ہوئی جس میں شفیق، میرے بڑے بھائی، ڈاکٹر ارشد مرزا اور ڈاکٹر دل محمد کے ساتھ ایک جیسے سوٹ پہنے کھڑے ہیں۔ پھر گھومتے گھومتے اس دور تک پہنچی جب کنگ ایڈ ورڈ میڈیکل کالج سے فارغ ہو کر یہ تینوں ہمزاد جیسے دوست میو ہسپتال کے آنکھوں کے وارڈ میں ہاؤس جاب مکمل کر رہے تھے۔ میں کاروباری سلسلے میں لاہور جاتا تو وہیں اس وارڈ کے مشہور و معروف گورے چٹے مکمل سفید داڑھی والے خان بابا کے پاس جا بیٹھتا جو شاید وارڈ آفس انچارج تھے یا کیا تھے۔
بڑے مزے کی چیز تھے۔ پورے وارڈ کا تمام سٹاف اوپر سے نیچے والے تک ان کا بہت احترام بھی کرتا اور ڈرتا بھی تھا۔ وہ مکمل فرض شناس بھی تھے اور انتہائی بذلہ سنج بھی۔ مگر ڈاکٹروں نرسوں آیاؤں سمیت عملہ کے ہر فرد کے چھپن چھپائی قسم کے کھیلوں کے رازوں کے امین بھی تھے۔ اور موڈ میں ہوتے تو نام لئے بغیر دلچسپ کہانیاں سناتے۔ بھائی ڈیوٹی سے فارغ ہوتے تو ہم دونوں نیلا گنبد آٹو پارٹس مارکیٹ آ جاتے۔ ایسے ہی ایک چکر میں بھائی نے ایک خوانچہ فروش جوان کو روکا۔ ایک آنکھ سے بھینگا تھا۔ اسے بتایا کہ اس کا مرض قابل علاج تھا، اسے آئی وارڈ آنے کا کہا اور ساتھ چٹ پہ اپنا اور ڈاکٹر علوی کا نام لکھ دیا۔ ڈاکٹر علوی آئی سپیشلسٹ، انتہائی ہمدرد اور جذبۂ خدمت خلق سے معمور خادم انسانیت ڈاکٹر تھے اور تمام ماتحتوں اور ڈاکٹروں کو تاکید تھی کہ کم از کم بھینگے پن کا کوئی مریض بھی نظر پڑے تو اسے مفت علاج کی اس راہ سے آگاہ کریں۔ یہ انیس سو اکسٹھ کی کہانی ہے اور اس زمانہ میں ابھی جسمانی معذوری کو بلکہ عوامی مفاد کے کارکنوں کو ان کی معذوری یا پیشہ کو بطور نام مخاطب کرنے کو معیوب سمجھنا ختم نہ ہوا تھا۔
( اوئے لوہارا۔ جولاہا، اوئے لنگڑے یا کانے وغیرہ)۔ ان ہی دنوں کی باتیں کرتے اچانک بھائی جان کے چہرے کا رنگ بدلا اور کہا پتہ ہے اسی وارڈ میں مجھے زندگی بھر یاد رہنے والے مریضوں میں سے پہلے مریض سے واسطہ پڑا تھا۔ اب وہ ایسے بتا رہے تھے جیسے وہ پٹھان نابینا لڑکی اب بھی ان کے سامنے ہنستی کھلکھلاتی گھوم رہی ہو۔
بیس اکیس برس کی وہ پٹھان لڑکی میو ہسپتال لاہور کے آئی وارڈ میں کیا آئی، پورے وارڈ میں جل ترنگ بج اٹھے۔ اگر منہ پہ چیچک کے نشانات نہ رہ گئے ہوتے تو وہ بہت ہی حسین تھی۔ ڈیڑھ دو سال کی تھی کہ چیچک نے آ لیا اور آنکھ کی جھلیاں بھی ساتھ متاثر ہوئیں تو نظر بھی جاتی رہی۔ یوں اس کی دنیا میں اندھیرے پھیل گئے۔ اسے یاد بھی نہ تھا کہ کبھی وہ ماں کی گود میں یا چلنا سیکھتی سب کو دیکھتی تھی۔ البتہ اب بھی صرف اتنا تھا کہ اسے روشنی اور اندھیرے کا اندازہ ہو جاتا۔
یہی اس کی آنکھوں میں اجالے کا سبب بنا۔ پشاور کے کسی ڈاکٹر کے پاس جانا ہوا تو اس نے بتایا کہ اس کے خیال میں اس کی آنکھوں کا نور لوٹ سکتا ہے۔ اور میو ہسپتال کے آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر علوی کے نام رقعہ بھی لکھ دیا۔ اور آج وہ آئی وارڈ داخل نابینا ہونے کے باوجود تتلی کی طرح دوڑتی پھرتی، اپنی مسکراہٹ میٹھے لہجہ اور چنچل پن سے چند روز میں ہی نرسوں اور سٹاف کو بھی گرویدہ بنا چکی تھی بلکہ ہر مریض کے پاس جا ٹوٹی پھوٹی ہندکو یا اردو میں گپ لگاتی گھومتی پھرتی۔ نابینا ہونے کے باوجود اس کی شگفتہ مزاجی حیران کن تھی۔ بستر پہ لیٹنے ویٹنے کی پابندی تھی نہیں کہ بس ابھی اس کے ٹیسٹ ہو رہے تھے۔ نام پلوشہ سمجھ لیں۔
پلوشہ کی سرجری کے لئے اب صرف یہ انتظار تھا کوئی دم توڑتا مریض یا اس کے لواحقین اس کی آنکھوں کی مطلوبہ جھلؔی، کورنیہ، عطیہ کریں اور وہ وفات کے بعد ایک گھنٹہ کے اندر اتار لی جائے۔ ہسپتال کے تمام وارڈوں میں اس کے لئے اطلاع بھجوا دی گئی۔ کوئی ایک ماہ بعد جا کر یہ انتظام ہوا بھائی فوراً اسسٹنٹ ساتھ لے پہنچے احتیاط سے ایک آنکھ کا کورنیہ اتار مخصوص مائع پیرافین میں محفوظ کیا گیا اور چوبیس گھنٹے کے اندر ڈاکٹر علوی چیچک زدہ کورنیہ چھیل، نکال کے یہ نیا لگا چکے تھے۔
پانچ روز بعد پٹی کھولی گئی۔ شروع میں اسے سمجھ نہ آئی مگر آہستہ آہستہ اسے بینائی کا احساس ہونا شروع ہوا اور ایک دو روز میں وہ ایک آنکھ سے مکمل دیکھنے کے قابل تھی۔ کبھی اپنے آپ کو دیکھنے کی کوشش کرتی۔ گھر کے افراد کو پہچانتی۔ پورے وارڈ کے مریض، عملہ اور ڈاکٹرز اس کے پاس آتے تو وہ آواز سن انہیں بتاتی کہ وہ کون اور کیا نام ہے۔ پانچ روز بستر سے نکلنے کی اجازت نہ تھی۔
اسے بستر سے اٹھنے چلنے کی اجازت کیا ملی، تھوڑی دیر بعد وہ بستر سے غائب تھی۔ پریشان نرس نے ڈھونڈتے دیکھتے واش روم میں جھانکا تو وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے جسم کے ہر عضو کا معائنہ کر ہی تھی۔ ہاتھوں کا، منہ کا سامنے سے، گھوم کے۔ سامنے ارد گرد، پیچھے پڑی چیزوں کا۔ ہاتھ میں اٹھا اٹھا کر محسوس کر کے پہچان کر ہی تھی کہ یہ صابن ہے۔ یہ کنگھی ہے۔ یہ تولیہ۔ نرس اس کے چیزوں سے تعارف حاصل کرنے کے انداز کو غور سے دیکھتی رہی۔
وہ وارڈ کے ہر بستر پر جاتی۔ مریضہ یا اس کی تیماردار کے ہاتھ پکڑتی یا چہرہ پہ ہاتھ پھیر کے یا آواز سن کی بتا دیتی کہ وہ کب ملی تھی اور کیا باتیں ہوئی تھیں۔ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ہاتھ جیسے ایک پیاری سی گڑیا آ گئی ہو۔ جب وہ کہیں نہ دکھائی پڑتی تو واش روم میں آئینہ کے آگے کھڑی ہوتی اپنا آپ دیکھتی ملتی۔ پھر وارڈ میں گھومتی اپنی ہم عمروں سے یا نرسوں سے موازنہ کرتے اور معلومات حاصل کرتی۔ معائنہ کرنے آتے ڈاکٹرز سے ملنے کا انداز محجوب مسکراہٹ اور احسان مندی لئے گپ شپ کا ہوتا۔
وارڈ کے زنانہ عملہ اور اس کی ہم عمر لڑکیوں کو ایک مصروفیت مل گئی۔ ایک نرس اس کے لئے بڑا ہاتھ میں پکڑنے والا آئینہ لے آئی۔ اب اس کے لئے کوئی میک اپ کا سامان لے آیا، کسی نے اسے میک اپ کرنا سکھایا۔ کوئی خوبصورت لباس یا دوپٹے چوڑیاں ہار وغیرہ، اور ان کو پہن کے پورے وارڈ میں گھومتی، ہر ایک کو دکھاتی۔ شکریہ ادا کرتی اور داد سمیٹتی۔
اس کی دوسری آنکھ کے لئے عطیہ کا انتظار تھا۔ وہ دن بھی آ گیا۔ سرجری کے ذریعہ دوسری آنکھ میں بھی کورنیہ پیوند کر دیا گیا اور مزید چند روز بعد پٹی کھولی گئی۔ الحمدللٰہ، اب وہ خوبصورت، دیکھنے والی، اور خوبصورت نظر آنے والی آنکھوں سے سجے خوبصورت شکل و صورت کی خوبصورت اور دل موہ لینے والی شگفتہ مزاج لڑکی تھی۔
وہ وارڈ سے رخصت ہو رہی تھی، اپنے والدین کے ساتھ اب وہ اپنے گھر کو اپنے ماحول کو، اپنے عزیزوں سہیلیوں کو سامنے بیٹھے دیکھ اور مل سکے گی۔ وہ تصور کرتی اور یہاں بنی سہیلیوں کو بتاتی رہی تھی۔ اکثر ڈاکٹر نرسیں اور موجود عملہ گلدستے اور تحفے لئے وارڈ کے باہر کھڑے اسے الوداع کہہ رہے تھے۔ مگر اس لمحہ سب کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، اس کی بینائی لوٹنے کی خوشی اور جذبات تشکر سے۔ خدا کے احسانوں کے بوجھ سے۔ ایک مقبول ترین ساتھی کی جدائی سے یا وارڈ کی چہل پہل ختم ہونے کے احساس سے۔
برامپٹن کینیڈا میں آئی پیڈ پکڑے فیس ٹائم پہ نظریں جمائے میں شکاگو میں براجمان پچاسی سالہ بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق کی نظریں سامنے گھورتے اور سر جھکا دیکھ رہا تھا۔ جیسے وہ اپنے ایک ہر دل عزیز مریض کو رخصت کر رہے ہوں اور پلوشہ کی ماں ان کے سر پر شفقت اور تشکر کے انداز میں ہاتھ پھیر رہی ہو۔

