مفتالوجی۔
پرانی کہاوت ہے کہ مال مفت دل بے رحم۔ اب کون اتنے مفت کے آسائش و آرام چھوڑ کر ووٹ مانگتے دربدر ٹھوکریں کھاتا پھرے، مفت کی شاہی خرچیاں، مفت کے بیرونی دورے، مفت کے حج و عمرے، مفت کے شاہی پروٹوکول، مفت کے ڈیزل و پٹرول، مفت کے ٹکٹ۔ یہ سب کچھ چھوڑے کا من کس کا ہو۔ کون سادہ لوح یہ چاہے گا کہ اتنے آرام و سکون کو خیرباد کہہ کر تپتی دھوپ میں التجائیں کرتا پھرے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ووٹر کی توجہ پانے کی خاطر ان سے گھل مل جائے اور پھر اپنی جیب پر بوجھ ڈال کر انتخابات کی دوڑ میں شامل ہو۔ نہیں جناب یہ نہیں ہو سکتا ۔ مہنگائی کے اس دور میں کون ایسا سادہ لوح ہو گا جو اتنے سارے عیاشیاں چھوڑ کر کسی کو مقابلے کے لئے للکارے۔ اس لئے مفاہمت کے بادشاہ کہلوانے والے بھٹو کے زبردستی جانشین جناب زرداری صاحب کا فرمان خاص ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے کسی خاص آشیرباد کی بنیاد پر بننے والے اس ناجائز حکومت کو، اوچھے ہتھکنڈوں سے اور ٹال مٹول سے کسی بھی طور ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے۔
اور خبردار کسی بھی طور حکومت چھوڑنے کا گناہ کسی سے سرزد نہ ہو۔ لہذا اسی خاص فرمان کے تابع پی۔ ڈی۔ ایم کی حکومت آج بھی انتہائی ڈھیٹ بے شرمی سے نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ اب اس گناہ میں وہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج اور اگلے متوقع چیف جسٹس کو بھی شامل کر لیا ہے جس کا ثبوت کل ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں جسٹس فائز عیسی کی شرکت خاص ہے جس میں شرکت کر کے موصوف نے اپنے ہی عدلیہ کو کیا خاص اشارہ دیا ہے معلوم ندارد۔
مفتالوجی کی اس خاص کرم و نوازشات کے چند خاندان اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ اس کے بغیر انہیں زندگی اجیرن لگنے لگتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ مفتالوجی کے اس خاص تعریف میں اس خاص بالائی طبقے کے ساتھ کہ جس کے لئے عوامی وسائل من و سلوی کی طرح ہمیشہ کے لئے حاضر خدمت ہیں ان چند خاندانوں کی بات ہو رہی ہے کہ جن کے سلام و آداب بجا لانے اور حکم کی تعمیل کے عوض سر پر تاج رکھ کر عوام کی اجیرن زندگی کو مزید جہنم میں دھکیلنے کے روز نت نئے تجربات کیے جاتے ہیں۔
یہ ان کا کیا دھرا ہے کہ ان دنوں ان کے مطابق جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے تیرہ جماعتوں کے نامدار اور قابل ترین وزیراعظم کے خاص کرم سے آٹے کے لائن میں لگے لوگوں پر کیا بیت رہی ہے۔ اس سے قطع نظر سرکاری و نجی ٹیلی ویژن چینلز پر نہ صرف مفت آٹے کا چرچا ہے بلکہ سرکار کی سخاوت پر دل کھول پر تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کرنے والے اور اسلام آباد گھیرنے کے دھمکی دینے والے مولوی صاحب بھی سرکار کی مفتالوجی اور عنایتوں پر نہ صرف شیر و شکر ہے بلکہ بیٹے سمیت سرکار کو خاص دعائیں دینے لگے ہیں۔
مفتالوجی کے آشیرباد سے پی۔ ڈی۔ ایم کی جماعتوں کے اکثر لیڈران وزیر مشیر بن کر دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹنے میں مصروف ہیں مگر انتخابات کے لئے پیسے نہیں، آئین کو بالائے طاق رکھ کر جمہوریت کے نعرے لگانے والے اس حکومتی اتحاد نے انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اپنی اقتدار کو مزید طول دینے میں مصروف ہے کیونکہ مفت میں سرکار جھولی میں آنے کے بعد کون چاہے کہ انتخابات کی بات کرے۔ آئیں کا احترام کرے اور جمہوریت کی مضبوطی کی بات کرے۔
یہ ہو ہی نہیں سکتا مفت کا مال ہاتھ آئے وہ بھی بغیر محنت کے اور کوئی جان جوکھوں میں ڈالے۔ انتخابات کا اعلان کرے۔ پھر ملک سے بھاگنے کی نوبت آئے، عدالتوں کے چکر لگانا پڑے اور عوام سے مفت میں گالیاں ملیں۔ نہیں نہیں ایسا بالکل نہیں ہو سکتا ، جمہوریت جائے بھاڑ میں۔ آئیں و قانون پر عمل ہو اور عوام کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے جمہوری طریقے سے آزادانہ کسی کا انتخاب کریں اور جمہوریت پھلے پھولے نہیں ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ ان کے بلاول ہاؤس آباد ہیں، ان کے رائے ونڈ کے محلات کی چمک دمک ہے تو سب کچھ ہے کہاں کی مہنگائی اور کاہے کا دیوالیہ پن سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ اس دوران انتخابات کی بات کوئی دیوانہ ہی کر سکتا ہے۔ مفتالوجی کا شائق کبھی نہیں۔

