لوگ کیا کہیں گے؟

چار الفاظ پر مشتمل یہ جملہ ”لوگ کیا کہیں گے؟ بظاہر اپنی جسامت و قدامت میں بھی بڑا نہیں، کسی مشکل لفظ پہ مشتمل نہ ہی ادبی پیرائے سے مزین، بلکہ سیاق و سباق سے کٹ جائے تو مہمل لگے۔ لیکن یہ بے ربط سا جملہ اپنے اندر قوت و طاقت کا ایک دریا رکھتا ہے۔ یہ جملہ کسی کے بلند و بالا عزائم کے سامنے رکاوٹ بن سکتا ہے، کسی کی ابھرتی شخصیت کو ویران کر سکتا ہے، کسی کے ارادوں کو لمحوں میں نیست و نابود کر سکتا ہے، کسی معمار کے سانچوں میں ہلچل بپا کر سکتا ہے، اس جملے کی آندھی لاکھوں چراغوں کو گل کر سکتی ہے، یہ جملہ شرارے مارتے تیز پانی کے سامنے بند باندھ سکتا ہے، بلندی کی طرف بڑھتے قدموں میں زنجیر ثابت ہو سکتا ہے۔
جانتے ہیں یہ جملہ اتنا طاقت ور کیوں ہے۔ ؟ اس لیے کہ ہمارے معاشرے کے اکثر افراد کوئی بھی کام کرنے سے قبل اس بارے میں ضرور سوچتے ہیں کہ ”اگر ہم نے یوں کیا تو لوگ کیا کہیں گے“ ۔ اور پھر اس کشمکش میں ایک طرف شریعت کے اصولوں سے کوسوں دور نکل جاتے ہیں اور دوسری طرف وہ کام جو آسانی سے سرانجام دیے جا سکتے ہیں ان میں اپنے لیے ایک بڑی مشکل کھڑی کر دیتے ہیں۔ یہ جملہ جہاں انسان کو نفسیاتی مریض بناتا ہے وہیں یہ معاشرے کی اصلاح، تعمیر و ترقی کے لیے زہرقاتل ہے۔
افراد کی سوچوں پہ اثر انداز ہوکے یہ جملہ معاشرے کو کھوکھلا کرتا ہے۔ مثلاً شادی کی سنت کو سادگی سے ادا کر کے معاشرے کو زنا کاریوں سے بچایا جاسکتا ہے لیکن جونہی گھر کا سربراہ یہ سوچتا ہے کہ اگر میں نے رسوم و رواج کو پس پشت ڈال کے اپنے بچے یا بچی کی شادی کی تو لوگ کیا کہیں گے؟ جس کی وجہ سے معاشرہ بے حیائی کے ساتھ ساتھ لغو رسوم و رواج کا بھی منبع بنتا ہے۔ فوتگی پر اپنی میت کے ایصال ثواب کے لیے خاموشی سے صدقہ کیا جاسکتا ہے لیکن یکایک جب ذہن میں یہ خیال گردش کرتا ہے اگر ہم نے یوں کیا تو لوگ کیا کہیں گے؟ پھر قرض اکٹھے کیے جاتے ہیں اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے تیجے اور چالیسویں کیے جاتے ہیں جو ثواب کیا، رب کے ہاں الٹا عتاب کا سبب بنتے ہیں۔ لوگ کھا پی کے چلے جاتے ہیں اور یہ کاندھوں پہ قرضوں کا بوجھ لاد جاتے ہیں۔ ایک شخص کوئی حلال پیشہ اختیار کر کے اپنے لیے کچھ کمانا چاہتا ہے لیکن جوں ہی وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر میں اس پیشے سے منسلک ہوا تو لوگ کیا کہیں گے۔ ؟ تو وہ اپنا ارادہ ترک کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کی زندگی بجائے آسان ہونے کے مشکل ہوجاتی ہے۔
ایک شخص میں اچھا قلمکار بننے کی صلاحیت ہے لیکن جوں ہی وہ قلم اٹھا کے دو لفظ لکھتا ہے تو اس خوف سے قلم توڑ دیتا ہے کہ میری یہ تحریر پڑھ کے لوگ کیا کہیں گے؟ جس کی وجہ سے قوم ایک اچھے مصنف سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس جملے کے خوف سے کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہے، دیے روشن ہونے سے پہلے ہی بجھ ہو جاتے ہیں۔
یہ جملہ ہے کوئی طوفان، جو ہر خیال کے سامنے رکاوٹ ہے۔ یہ لفظوں کی بناوٹ ہے کہ گلے میں پڑا کوئی طوق یا پاؤں میں پڑی کوئی بیڑی، جو ہر وقت ہمارے سروں پہ سوار رہتا ہے۔
خدارا! اس جملے کے طلسم سے نکلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں لوگوں کی خوشی و خفگی کو خاطر میں لائے بغیر اللہ کی رضا و ناراضگی کو دیکھنا چاہیے۔ اگر اس کام میں اللہ کی رضامندی ہوتو اسے کر دینا چاہیے اور اگر ناراضگی ہو تو ترک کر دینا چاہیے۔ اس دنیا میں کون سا ایسا انسان گزرا ہے کہ جو لوگوں کے بول سے اپنے آپ کو بچا سکا ہو۔ دنیا کی برگزیدہ ترین ہستیاں انبیا علیہ السلام جو معصوم عن الخطا تھے لوگوں نے انہیں بھی نہیں چھوڑا۔ ان پر بھی جملے کسے۔ انہیں بھی ساحر، پاگل اور مجنون کہا۔ جب لوگوں نے کائنات کی اعلیٰ و ارفع ہستیوں کو نہیں چھوڑا۔ تو پھر میں اور آپ کس باغ کی مولی ہیں۔
لوگ کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتے۔ ان پر اگر جان بھی فدا کر دی جائے تو یہ طرز فدا میں بھی نقص نکالیں گے۔
اگر آپ ہر بات میں لوگوں کی پرواہ کرتے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ قوت فیصلہ سے محروم ہیں۔ آپ اپنے ہر فیصلے میں لوگوں کے محتاج ہیں۔ آپ کی اپنی کوئی رائے نہیں۔ آپ کی رائے وہی ہے جو لوگوں کی رائے ہے۔ لہذا اس خول سے باہر نکلیے۔ ہر کام میں رب کے حکم کو مقدم رکھیے۔ اور پھر جو اپنے لیے بہتر سمجھیں وہ کیجیے۔ لوگوں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھیے۔ جب آپ لوگوں کی باتوں کا لحاظ رکھے بغیر اپنے کام سرانجام دیں گے تو بہت جلد آپ کو اس بات کا احساس ہو جائے گا کہ کتنے ہی کام جو بہت آسان تھے لیکن لوگوں کو ہر صورت راضی رکھنے کی وجہ سے مشکل بن چکے تھے۔ لوگوں نے ہر صورت کچھ نہ کچھ کہنا ہی ہوتا ہے۔ کہتے کہتے ایک دن سب بھول جائیں گے۔ اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں ہم تب تک کچھ نہیں کریں گے جب تک لوگ کچھ کہنا نہیں چھوڑ دیتے تو ایں خیال است و محال است و جنوں۔

