گواہی دیتا ہوں
حقیقت دیکھ لینے یا دل کو یقین آ جانے پر کسی بات کا ثبوت مل جاتا ہے اور تسلی ہوجاتی ہے۔ زندگی گمان، خیالات، تصورات اور مختلف سوچوں سے مزین ہے، اس میں خواہشات، خواب اور ضرورتوں پر مبنی مقاصد انسان کا تعاقب کرتے ہیں اور کبھی اسے ان کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ دنیاوی اعتبار سے کئی ذرائع اور منازل طے کرنے کے بعد کچھ ملنے اور کھو جانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ حصول کی صورت میں کامیابی کے دعوے کیے جاتے ہیں، کچھ ہاتھ نہ آنے پر ناکامی کا داغ دامن میں لگ جاتا ہے۔
زندگی کی بھاگ دوڑ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے اور شکست دینے کا کھیل بھی مسلسل جاری رہتا ہے۔ بڑے بوڑھوں کی نصیحتیں ایسے ہی پکڑتی ہیں جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پینے پر ضد کر کے بھاگ جانے پر شور مچاتی دبوچتی ہے۔ دین کا حوالہ بھی اس میں شامل ہوجاتا ہے، اس ذات کی ہدایت پر کاربند رہنے کی تلقین بھی انہیں نصیحتوں کی طرح ماں کی گود سے لحد تک تعاقب کرتی ہیں، انسان کے لئے کسی سیدھی لائن پر چلنا ہمیشہ مشکل عمل رہا ہے، قواعد کو توڑنا شاید جبلت کا حصہ ہے، اس میں نہ جانے کون سی انجان کشش پائی جاتی ہے، یہیں سے مرضی کی راہ چن لینے کی روایت پڑ جاتی ہے۔
وہ عجلت میں مبتلا ہو کر کام کرتا ہے، انسان کو جگہ جگہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے مگر وہ اکثر درست راستے کا انتخاب نہیں کرتا لیکن اپنے تئیں یہ خیال اور گمان رکھتا ہے کہ وہ غلط نہیں ہے۔ ایسا ہی وہ جھوٹ کا دامن تھام لینے کی صورت کرتا ہے۔ سچ سے دوری اسے نقصان پہنچاتی ہے مگر اسے یہی اپنے لئے بہتر دکھائی دیتا ہے۔
دولت اور پیسے کی لالچ یا خواہش ایک بڑی آزمائش بن جاتی ہے، جائز تقاضے اور مطالبے کوئی برا عمل نہیں لیکن سب کچھ مل جائے اقتدار، اختیار، مال دولت یہاں تک کے توازن قائم کرنے کا فیصلہ بھی ممکن نہ ہو۔ ہدایت کی نافرمانی کرنے والوں خیال میں یہ کوئی غلط بات نہیں، زندگی گزارنے اور اپنے معاملات اپنی مرضی سے چلانے کے لئے کچھ بھی جا سکتا ہے، سماج کی اخلاقیات بھی اس کی نفی کر رہی ہوتی ہے، اس کے باوجود ذہن درست راستہ اپنانے اور سچ کا ساتھ دینے کے لئے مائل نہیں کرتا۔ ضروری نہیں سب ایسا ہی کرتے ہوں لیکن اکثریت ایسا ہی کچھ کر رہی ہوتی ہے۔ گاہے بگاہے روک ٹوک کرنے والی سوچ کسی نہ کسی صورت آگے آ کر راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ وہ قوت یا ان دیکھا ہاتھ ہے جس نے انسان کو سیدھا راستہ دکھانے کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ وہ ذات کبھی کبھار ایسا بھرپور تعاون کر جاتی ہے جب بندہ بالکل اندھیرے میں ہاتھ پیر مارکر اپنی مایوسی پر قابو پانے کا تاثر دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس بے بسی کے عالم میں وہ کچھ نہیں کر پائے گا۔ صرف ایک امید کی کرن کہیں روشنی دکھاتی ہے کہ رب کوئی سبب پیدا کردے گا وہ ایسا صرف اس لئے محسوس ہوتا ہے کیونکہ زندگی میں کبھی نہ کبھی کچھ ایسا ناممکن ممکن میں بدل چکا ہوتا ہے جسے یاد کر کے ایک آس پیدا ہوجاتی ہے کہ کچھ نہ کچھ اچھا ہو جائے گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوجاتا ہے۔ بندہ بڑا ناشکرا ہے وہ بھول جاتا ہے اس پریشانی سے نکلنے کو اپنے کسی عمل یا دنیاوی ذریعے کا نتیجہ قرار دے دیتا ہے۔ اصل میں بندہ ایک عجیب خوف میں مبتلا ہوتا ہے کہ کوئی کیسے یقین کرے گا۔ اس بات کی گواہی کیسے دوں گا۔
اصل مسئلہ یہ شہادت دینا ہی ہے کیونکہ ہماری زندگی ایسے بے شمار واقعات اور معجزوں سے بھری پڑی ہوتی ہے جنہیں ہم دانستہ طور پر فراموش کیے ہوتے ہیں۔
ہم اپنی خواہشات پر مبنی دعاؤں کو بھی حقیقت کا روپ دھارتے دیکھتے ہیں لیکن گواہی نہیں دیتے کہ اسی دعا یا خواہش کا نتیجہ ہے۔ عملدرآمد کرنے والی ہستی ہمیشہ احساس کرتی ہے کہ ہم مشکل سے نکل جائیں اور اب انہوں نے ہماری بے اعتنائی کا بھی افسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔ وہ انسان کی فطرت بہت خوب جانتا ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ اس بات کی گواہی دو کہ وہی ذات اعلیٰ ہے تمام لوگ اس کا شکر ادا کریں۔ کاش یہ بات ہم جان جائیں اپنی مشکل کے لئے آسانیاں تلاش کرنے کی تگ و دو اضطرابی کیفیت میں نہ کرنا پڑے۔


