لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، مگر انھیں اردو میں اچھا مواد میسر نہیں : عامر ہاشم خاکوانی

سرخیاں :
٭ تصوف اشفاق احمد کے تخلیقی عمل کا حصہ تھا، مفکر اب ہمارے ہاں کہاں رہے
٭ لکھنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سے پڑھنے والے میں کوئی تبدیلی آئے
٭ اردو ادیبوں میں اگر تصوف کے اثرات ہیں، تو مجھے اعتراض نہیں، مگر تصوف ان کے تخلیقی عمل کا حصہ ہو، وہ مصنوعی نہ لگے
سینئر صحافی، معروف کالم نگار اور سماجی مبصر، عامر ہاشم خاکوانی سے خصوصی بات چیت
۔ ۔ ۔
موضوعات کا تنوع ان کی تحریروں کو تخلیقیت عطا کرتا ہے، فکری کشادگی اس تخلیقیت کو مہمیز کرتی ہے، اور یوں ان کے الفاظ قارئین کے دل تک رسائی پا لیتے ہیں۔
عامر ہاشم خاکوانی بہ طور کالم نگار سیاسی موضوعات تک محدود نہیں۔ وہ تو ایک مسافر ہیں۔ کبھی ادب کی وادی کا رخ کر لیا، کبھی کرکٹ کے میدانوں میں دکھائی دیے۔ پھر فلم اور آرٹ کی سمت نکل گئے۔ البتہ بنیادی محور اپنے قلم سے سماج کی رفو گری ہے۔ ”زنگار“ کے زیر عنوان شایع ہونے والا ان کے کالمز کا ایک زمانہ گرویدہ۔ اخباری صفحات ہوں یا ڈیجیٹل پلیٹ فورمز، ہر جگہ اس کے قارئین موجود۔ ان کالمز کو کتابی شکل دی، تو خوب پذیرائی ہوئی۔ میگزین جرنلزم کا بڑا نام ہیں۔ اہم میڈیا ہاؤسز میں میگزین ایڈیٹر کی ذمے داری نبھائی۔ بے شک ان کا ایک موقف ہے، مگر وہ دوسروں کا موقف اطمینان سے سننے کا فن جانتے ہیں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے، جو نوجوان صحافیوں کو ان سے سیکھنی چاہیے۔
میرے سینئر ہیں، کئی مراحل پر راہ نمائی فرمائی۔ ان سے ”بات چیت“ نامی اس سلسلے کے لیے ایک دل چسپ مکالمہ ہوا۔ امید ہے، اس سے آپ احباب کو مطالعے کے لیے کئی کتب مل جائیں گی اور چند اچھے فلم ڈائریکٹرز کی بھی خبر ہوگی۔ تو چلیں، سفر شروع کرتے ہیں۔
اقبال: فکشن آپ کی پسندیدہ صنف ہے، کیا مستقبل میں ہم آپ کو ایک کہانی کار کے روپ میں دیکھ سکتے ہیں؟
ہاشم خاکوانی: فکشن مجھے بہت پسند ہے، پڑھنے کی حد تک، لکھنے کا سردست تو ارادہ نہیں۔ ہاں، کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ ایک ناول لکھا جائے، جس میں اپنی زندگی کے کچھ واقعات شامل کیے جائیں، اور جن لوگوں کو جانا، سمجھا ان کے کردار شامل ہوں، ممکن ہے کبھی لکھ بھی دوں۔ دراصل اچھا فکشن پڑھنے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ اس ڈر سے نہیں لکھتے کہ ایسا عمدہ نہیں لکھ پائیں گے، اور اوسط درجے کا لکھنے کا جی نہیں چاہتا۔
اقبال: کہتے ہیں، ادیب ہمارے معاشرے میں بے معنی ہو گیا ہے، کیا یہ درست ہے؟
ہاشم خاکوانی: میرا نہیں خیال کہ ادیب بے معنی ہو گیا ہے۔ ادیب کی کتابیں بک رہی ہیں، تو کہیں نہ کہیں وہ اپنا اثر چھوڑ رہا ہے۔ البتہ اس حد تک درست ہے کہ ہمارے ہاں آج کل بہت سی چیزیں، کردار اور طبقات پہلے جیسے موثر نہیں رہے، ادیب بھی ان میں شامل ہیں، مگر بے معنی ہونا ایک الگ تعریف ہے۔
اقبال: اگر کبھی اچانک وزیر اعظم بن گئے، تو فروغ ادب کے لیے پہلا قدم کیا اٹھائیں گے؟
ہاشم خاکوانی: ویسے تو کہیں بھی ایسا کوئی امکان نہیں کہ ہمیں ایسا منصب ملے۔ البتہ اسے یوں لیتا ہوں کہ اگر کسی وزیراعظم پر اثرانداز ہونے کا موقع ملے، تو کوشش ہوگی کہ ایک اعلیٰ درجے کا ترجمہ گھر سرکاری سطح پر بنوا لیا جائے، جس میں عالمی ادب کی منتخب کتب کے اردو تراجم ہوں، پولیٹیکل سائنس اور دیگر موضوعات کی اہم کتابیں بھی اردو میں منتقل کی جائیں۔ مجھے اس کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، مگر انہیں اردو میں اچھا مواد نہیں مل پاتا۔
اقبال: پسندیدہ فلم ڈائریکٹر کون ہے، کوئی تین فلمز، جو لوگوں کو تجویز کرتے ہوں؟
ہاشم خاکوانی: میرے پسندیدہ ڈائریکٹر کئی ہیں، ان میں کرسٹوفر نولان، مارٹن اسکورسیسی اور ٹورنٹینو سرفہرست ہیں۔ میری پسندیدہ فلمیں بہت سی ہیں، ان میں گاڈ فادر لازمی شامل ہوگی، پرسوٹ آف ہیپی نیس، ہیٹ فل ایٹ، پلپ فکشن، آئرش مین، گرین مائل وغیرہ۔
اقبال: ایک کتاب، جو متعدد بار پڑھی ہو، اور آج بھی پڑھنے کی آرزو ہو؟
ہاشم خاکوانی: ایسی کتابیں بھی کئی ہیں، مگر سرفہرست مجھے بازی گر ناول لگتا ہے، جسے متعدد بار پڑھ چکا ہوں، شکیل عادل زادہ اس کے مصنف ہیں۔ دوسری ایسی کتاب سو عظیم کتابیں از ستار طاہر، جب کہ تیسری ایسی کتاب میرا داغستان از رسول حمزہ توف ہے۔
اقبال: ایک عہد تھا، غالب کا، ایک اقبال کا، موجودہ عہد کس شاعر سے منسوب کیا جاسکتا ہے؟
ہاشم خاکوانی: میرا خیال ہے کہ غالب اور اقبال کے بعد فیض کا عہد بنتا ہے۔ فیض صاحب آج سے چالیس، تیس، بیس سال پہلے بھی بہت اہم تھے، اور آج بھی وہ اہم ہیں۔ ان کے اثرات بہت جگہوں پر نظر آتے ہیں۔
اقبال: کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرنے والے ادیب، تخلیقی عمل سے دور ہو جاتے ہیں، آپ کا کیا موقف ہے؟
ہاشم خاکوانی: میرا خیال ہے کہ ادیب نہ صرف سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارنے سے اپنے تخلیقی عمل سے دور ہو جاتے ہیں، بلکہ ملازمت خاص کر صحافت کی مصروفیت بھی انہیں ادب سے دور کر دیتی ہے۔ ایک اور چیز بھی ہے کہ چھوٹی بڑی سوشل میڈیائی پوسٹیں لکھنے سے بھی ان کی انرجی کم ہوتی رہتی ہے۔ بڑے تخلیقی تجربے کے لئے بہت محنت، یکسوئی اور توجہ ضروری ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں کتابوں سے ملنے والی کم آمدنی ادیبوں کو بڑی تخلیق کے لئے مناسب وقت اور یکسوئی فراہم نہیں ہونے دیتی۔
اقبال: کچھ سوشل میڈیا مفکر، جنھیں نوجوانوں کو فالو کرنے کا مشورہ دیں گے؟
ہاشم خاکوانی: مفکر تو بڑی اصطلاح ہے، آج کل ہمارے ہاں مفکر کہاں رہ گئے ہیں۔ سوشل میڈیائی لکھاریوں کی بات کر لیں۔ میرے خیال میں ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کو ضرور پڑھنا چاہیے، ان کے پاس ندرت خیال اور اچھا ٹھوس تجزیہ ہے۔ ڈاکٹر مشتاق خان کے پاس قانونی مہارت اور دقیق قانونی مسائل کو پانی کر دینے کی صلاحیت، وسی بابا کی سیاسی، غیر سیاسی پوسٹوں سے ہٹ کر ان کے فارن میڈیا کے مطالعے کی پوسٹیں، عارف انیس ملک کی تخلیقی ندرت اور نئی انفارمیشن دینا، فرنود عالم آج کل نہیں لکھ رہے، سیکولر تھاٹس کے حوالے سے اہم نقطہ نظر ہوتا ہے ان کا۔ رؤف کلاسرا اور آصف محمود سے آپ لاتعلق نہیں ہوسکتے۔ اقبال خورشید کی سوانحی تحریریں اور فلم اور ڈراما سے متعلق پوسٹیں۔ ایک صاحب سائنس پر پوسٹیں لکھتے رہتے ہیں وہارا امباکر، یہ حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک اور صاحب جو نہایت متنازع تحریریں لکھتے ہیں خاص کر قائدین تحریک پاکستان کے بارے میں۔ ان کے ہاں عجیب شدت آمیز تعصب ہے، مگر وہ بعض امور پر اچھا لکھتے ہیں نام ان کا رشید یوسف زئی ہے۔ ندا اسحاق نامی خاتون اہم انگریزی کتابوں کا اچھا تعارف کراتی ہیں۔ بشارت حمید کی تعمیرات اور عام زندگی کے مسائل پر اچھی تحریریں ہوتی ہیں۔ اور بھی کئی نام ہیں، جو فوری طور پر ذہن میں نہیں آتے، اس لئے اس بات کی معذرت۔
اقبال: دوبارہ زندگی ملی، تو کیا صحافی اور کالم نگار بننے ہی کا انتخاب کریں گے؟
ہاشم خاکوانی: مجھے دوبارہ زندگی ملے، تو یقینی طور پر صحافی اور کالم نگار ہی بننا چاہوں گا۔ البتہ میری خواہش ہوگی کہ اس بار میری زندگی دس سال پہلے شروع ہو، یعنی میرا جرنلزم انیس سو پچانوے، چھیانوے کے بجائے چھیاسی ستاسی میں شروع ہو جائے، کیوں کہ آج ہم پرنٹ میڈیا کے جس زوال پذیر دور میں ہیں، پہلے پیدا ہونے سے وہ دور تاخیر سے آتا اور مجھے زیادہ وقت مل جاتا بہ طور کالم نگار پرائم ٹائم انجوائے کرنے کا۔ اسے یوں سمجھ لیجیے کہ بعض بلے باز جیسے بابر اعظم کو ون ڈے میں عظیم ترین بننے کے لئے ضروری تھا کہ وہ دس سال پہلے کرکٹ شروع کرتا۔ اس کی بدقسمتی کہ اسے ٹی ٹوئنٹی کے پرائم ٹائم میں کھیلنا پڑ رہا ہے، جب کہ اس کا اصل مزاج ون ڈے والا ہے۔ وہ اگر کوہلی کے ساتھ ہی کیریر شروع کرتا تو شاید کمال کر دیتا۔
ہاں اپنی اسی یاداشت کے ساتھ دوسری زندگی ہو تو میں اگلی بار انگریزی جرنلزم پر ہاتھ صاف ضرور کرنا چاہوں گا، دونوں زبانوں میں لکھنے کی مشق اور کوشش کروں گا۔
اقبال: پاکستانی ادیبوں کے ہاں جو تصوف کا رنگ دکھائی دیتا ہے، کیا آپ اسے مثبت روایت تصور کرتے ہیں؟
ہاشم خاکوانی: تصوف، صوفی ازم میں میری دل چسپی ہے۔ اردو ادیبوں میں اگر تصوف کے اثرات ہیں، تو مجھے اس پر اعتراض نہیں، مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ تصوف ان کے تخلیقی عمل کا حصہ ہو، وہ مصنوعی نہ ہو۔ جیسے میرا ماننا یہ ہے کہ تصوف اشفاق احمد کے تخلیقی عمل، ان کی شخصیت اور ذات کا حصہ تھا۔ یہی معاملہ ممتاز مفتی کا ہے۔ ان کے ناول میں تو اس کے اثرات نظر آتے ہیں، مگر افسانے میں اس طرح نہیں آئے۔ اچھا میں نے محسوس کیا کہ اسد محمد خاں کے بعض افسانوں میں تصوف کا ٹچ آتا ہے۔ جیسے ”باسودے کی مریم“ یا پھر ”مرشد کا سیلون“ ، جسے ہم نے دنیا میگزین میں چھاپا بھی تھا۔ اسے پڑھ کر آنکھ نم ہوجاتی ہیں۔ ”مئی دادا“ کا آخری حصہ بھی مجھے ایسا ہی لگا۔ اور ضروری نہیں کہ آپ نے تصوف کی منازل طے کی ہوں، بلکہ اگر آپ میں نرمی اور حلاوت ہو، جو صوفیوں کی پہچان ہے، تو وہ آپ کے ادب میں در آتی ہے۔ کچھ لوگ منصوبہ بنا کر ایسا کرتے ہیں۔ جیسے عمیرہ احمد کا ناول ہے پیر کامل۔ اس میں ایک نظریہ ملتا ہے۔ اس نے بھی بہ ہرحال ایک طبقے کو سرو کیا ہے۔ اگر کسی نے نیکی کی نیت سے یہ قدم اٹھایا ہے، تو اسے اجر ملے گا۔ راجہ گدھ پر لوگ تنقید کرتے ہیں، مگر میرے نزدیک وہ ایک اچھا ناول ہے۔ الغرض تخلیق کار کو اس طرح کے موضوعات کو برتنے کا اختیار اور اجازت ہوتی ہے۔ جو مصنوعی تڑکا لگاتے ہیں، ان کا اندازہ ہوجاتا ہے، لیکن یہ بھی امکان ہے کہ شاید اس سے لوگوں میں کوئی مثبت تبدیلی آ جائے۔ میرے نزدیک لکھنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سے پڑھنے والے میں کوئی تبدیلی آئے۔ البتہ بہ طور قاری میرا یہ مطالبہ ہے کہ جو لوگ تصوف کو موضوع بنایا چاہتے ہیں، وہ اس کا مطالعہ بھی کریں، اور اسے تب حصہ بنائیں، جب خود بھی اس پر یقین رکھتے ہوں، مصنوعی نہ ہو۔
نوٹ: یہ انٹرویو کتابی سلسلے ”بات چیت اقبال خورشید کے ساتھ“ کے لیے کیا گیا ہے۔ جلد یہ کتاب ڈیجیٹل شکل میں دست یاب ہوگی۔




