تعلیم میں اختصاص: نقصانات کے چند زاویے

قدرت نے انسان کو جو ذہن عطا کیا ہے وہ کائنات کی طرح وسیع ہے۔ اس میں سمندر کی سی گہرائی ہے۔ اس کا جتنا استعمال ہوتا ہے وہ اتنا ہی پھیلتا اور صیقل ہو تا ہے۔ اس کے برعکس اگر اس کو استعمال میں نہ لایا جائے تو رفتہ رفتہ وہ اتنا ہی کند ہوتا جاتا ہے۔ سائنسی ترقی کے باوجود اگر یہ بات کہی جائے کہ ہمارا ذہن محدود ہو گیا ہے تو شاید یہ بات حلق سے نیچے نہ اترے لیکن حقیقت یہی ہے کہ زندگی کی تمام جہات میں ترقی کے روشن دروازے کھلنے کے باوجود انفرادی سطح پر انسان کے ذہن کے دریچے مقفل ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ سپیشلائزڈ یعنی اختصاصی تعلیم کی غلط تفہیم ہے۔ تعلیم کے میدان میں اختصاص کے آ جانے سے ہمارا ذہن محدود ہوا ہے۔ ہم نے اپنے ذہن کو ایک سمت میں سوچنے کا عادی بنا دیا ہے۔ ہم نے اپنے ذہن و دماغ کو ایک جانب غور فکر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہم نے ذہن کے فطری پن کو مار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر کوئی سیاسی علوم سے بہرہ ور ہے تو معاشی علوم سے بے بہرہ ہے۔ کوئی ریاضی کی باریکیوں سے واقف ہے تو شعر ادب کی نزاکت سے نا آشنا ہے۔
اس اختصاص نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اب ایک خاص شعبۂ تعلیم کو بھی مختلف خانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ انجینیئرنگ کے شعبے کو سول، کمپیوٹر، الیکٹریکل، مکینکل، میں بانٹ دیا۔ اسلامیات کے شعبے کو حدیث، فقہ اور تفسیر میں منقسم کر دیا۔ مینیجمنٹ (نظم و نسق) کے شعبے کو بھی مختلف خانوں میں تقسیم کر دیا۔ ادب میں نظم، نثر اور تنقید کے شق بنا دیے۔
کوئی فکشن لکھتا ہے تو اچھی شاعری نہیں کر پاتا۔ کسی کے پاس تنقیدی بصیرت ہے تو تخلیقیت مفقود ہے۔ یہ وبا اختصاص کی غلط تفہیم کے ذریعہ ہی پھیلی ہے۔ تعلیم میں اختصاص کے نظریے کو فروغ دینے کی وجہ در اصل پیسہ بنانا ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ آج تعلیم کا میدان ایک بڑا بزنس بن چکا ہے۔ آج تعلیم میں اختصاص کو اہمیت اس لیے نہیں دی جا رہی ہے کہ اس سے تعلیم کے کسی خاص شعبے میں نئے افق کی تلاش کی جائے، بلکہ اس کے ذریعے ملازمت کے حصول کو آسان بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔
آج اختصاص کی سند دی جاتی ہے اور سند کو دیکھ کر ملازمت۔ تعلیم میں اختصاص کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ہمارا ذہن انسانی ساختہ مشین کی طرح کام کرتا ہے خدائی ساختہ مشین کی طرح نہیں۔ علوم میں اختصاص کا تصور پہلے بھی تھا۔ لیکن جو تصور آج بنا ہے اس سے مختلف تھا۔ آج ہم اختصاص کی وجہ سے غیر اختصاصی چیزوں کو پڑھنا تضیع اوقات سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ کہ آج ہم اپنے آپ کو خوب پڑھا لکھا کے زمرے میں نہیں رکھ سکتے۔ کسی ایک چیز میں اختصاص اچھی بات ہے لیکن کسی ایک شعبے میں اختصاص کے ساتھ دوسری چیزوں سے بہرہ ور ہونا اس سے زیادہ اچھی بات ہے۔
اس اختصاص سے مدارس کے طلبہ کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ ان کا ذہن اس مرض سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے بھی اپنے ذہن کے عقاب کے پر کترنا شروع کر دیے ہیں۔ اب یہ بھی اب عام لوگوں کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں۔ انہوں نے خود کو نصابی کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ درسی کتابوں کے علاوہ دیگر موضوعات کی کتابیں ان کے مطالعہ کا حصہ نہیں بنتی ہیں۔ ایک دور تھا جب اسی مدارس کے خوشہ چیں کبھی ابو ریحان البیرونی تو کبھی ابن خلدون بن کر نمودار ہوئے۔
ابن سینا اور ابن رشد کی تعلیمی سفر کا آغاز مکتب اور مدرسے سے ہی ہوا۔ کون تھے یہ لوگ؟ کیا ہے ان کی تاریخ اور کیا ہیں ان کے کارنامے؟ البیرونی جن کی لیاقت اور صلاحیت کی ایک دنیا معترف ہے، یہ بہ یک وقت نہ صرف نصف درجن سے زیادہ زبانوں پر غیر معمولی مہارت رکھتے تھے، بلکہ علم ریاضی، علم نجوم، علم طبعیات، نیچرل اور سوشل سائنس پر ان کو زبردست گرفت تھی۔ ابن خلدون نے مسجد سے اپنی تعلیم آغاز کیا۔ حفظ قرآن کے بعد اسلامیات، فلسفہ، منطق اور ریاضی میں قابل رشک استعداد پیدا کی۔
ابن سینا نے مختلف موضوعات پر جن میں اسلامیات، علم نجوم، علم طبعیات، ریاضی، موسیقی، فلسفہ اور شاعری شامل ہیں، تقریباً 200 کتابیں لکھی ہیں۔ ابن رشد اسلامیات، علم ریاضی، فقہ اور نجوم کے میدان کے شہسوار تھے۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ ان لوگوں کی مختلف علوم کی جانکاری کام چلاؤ نہیں تھی۔ ان کی ہر بات سند کا درجہ کل بھی رکھتی تھی اور آج بھی۔ کیا وجہ تھی کہ یہ لوگ اتنے سارے علوم پر حاوی تھے۔ ان کی معلومات کا دائرہ کیوں اتنا وسیع تھا۔
البیرونی کی تصنیف ”کتاب الہند“ ہندوستان کی سماجی زندگی کی ایک ایسی تاریخ ہے کہ اس کے بعد اس موضوع پر جتنی بھی کتابیں لکھی گئیں ان میں ”کتاب الہند“ کا حوالہ ضرور پیش کیا گیا۔ یہ بات واضح رہے کہ ابو ریحان البیرونی ہندوستان کا نہیں تھا۔ کبھی ہم نے سوچا کہ آخر ان لوگوں نے اتنے سارے علوم پہ کیسے دسترس حاصل کی؟ اس کی وجہ بس یہی ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں تعلیم کا مقصد علم کا حصول تھا، ملازمت کا حصول نہیں۔
وہ لوگ اس تعلیم کے خواہاں نہیں تھے جو امور معاش سے تعلق رکھتی ہو بلکہ اس تعلیم کے آرزومند تھے جو ذہن و دماغ کے دریچے وا کرتی ہے۔ اب چونکہ تعلیم کا مفہوم ہی بدل گیا ہے۔ اس کا رشتہ روزگار سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ہمیں اب اس تعلیم کی آرزو ہوتی ہے جو جلد معاش کے دروازے پر لگے قفل کو کھول دے۔ ٹھیک ہماری اسی سوچ کو سامنے رکھ کر تعلیم میں اختصاص کے نظریے کو فروغ دیا گیا۔ اب بھلا کوئی اس علم کو کیوں سیکھے جس کی بنیاد پر اسے ملازمت نہیں کرنی۔
پیسہ ام الحاجات ضرور ہے لیکن وہ تعلیم کا مقصد نہیں ہو سکتا۔ ہم پیسہ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور علم ہم سے دور بھاگ رہا ہے۔ آج ہمارے پاس بڑے بڑے مدارس اور جامعات ہیں۔ کتابوں کا ذخیرہ اچھا ہے۔ ساری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی مانند ہو گئی ہے۔ پھر بھی اب ان مدارس میں کوئی ایسی شخصیت پیدا نہیں ہوتی جس کا نام مذکورہ بالا لوگوں کے ساتھ لیا جا سکے۔ مدارس کا المیہ تو یہ ہے کہ اب وہ عالمی سطح کے محدث یا فقیہ پیدا کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
موجودہ دور کے مدارس کی مثال ایک بانجھ عورت سے کم نہیں ہے۔ میری بات سے آپ شاید اب بھی متفق نہ ہوں لیکن اس کی وجہ در اصل یہی اختصاص ہے۔ (کہیں نصابی اور کہیں انتظامی کمزوری بھی ہے ) اس اختصاص نے لوگوں کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ وہ غیر اختصاصی تعلیم کو شجر ممنوعہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اختصاص کے دائرے سے باہر نکل کر سوچتے ہیں وہ آج بھی کچھ اہم کر جاتے ہیں۔

