ناقابل یقین واقعات کا سلسلہ۔ 4


”عالمی“ ہی در حقیقت پہلا مقبول ماہنامہ تھا جس نے ڈائجسٹ کے تصور کی بنیاد رکھی اور یہ عوامی ادب کا ترجمان قرار پایا یعنی وہ ادب جو نقادوں کے سند یافتہ ادب عالیہ سے الگ عام لوگوں کی دلچسپی کا باعث بنا۔ یہ وہی نقاد ہیں جنہوں نے قیسی رامپوری کے ناولوں کو ادب عالیہ نہیں مانا جس کے ناولوں کے ایک ایک لاکھ کی تعداد میں تین تین ایڈیشن شایع ہوئے۔ ایم اسلم کے سو سے زائد مقبول ناولوں کو ادب تسلیم نہیں کیا۔ خیر۔ یہ بحث تو جاری ہے اور جاری رہے گی۔

عالمی کا دفتر 129 ای گارڈن ایسٹ میں تھا جس کا اب کوئی وجود نہیں۔ اس کی جگی ایک کثیر المنزلہ عمارت نے لے لی ہے لیکن اس وقت یہ کراچی کی ادبی اور صحافتی فضا میں بہت اہمیت کا حامل تھا۔ یہ گارڈن روڈ کو سولجر بازار سے ملانے والی سڑک پر ایک وسیع احاطہ تھا اور امروہہ سے آنے والے چار بھائیوں کی ملکیت تھا۔

سب سے بڑے رئیس امروہوی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور عقبی حصے میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھے۔

احاطے کے دوسرے حصے میں سید محمد تقی کی فیملی تھی وہ شاید پندرہ سال ”جنگ“ کے مدیر رہے۔ ایکٹر منور سعید ان کے داماد ہیں۔ کبھی شام کو اس احاطے کے وسط میں محفل جمتی تھی تو ان کی اپنے بڑے بھائی رئیس امروہوی سے بحث کا موضوع یہ بھی ہوتا تھا کہ ادیب بڑا ہوتا ہے یا صحافی۔ رئیس امروہوی کہتے تھے کہ پریم چند تو زندہ ہے۔ اخبار ’کامریڈ‘ یا ’زمیندار‘ کے کسی کالم نگار کا نام بتاؤ۔ اس محفل میں نامور ماہر قانون خالد اسحاق بھی کبھی کبھی شریک ہو جاتے تھے جن کی پڑوس میں کوٹھی تھی اور ان کا بہت بڑا کتب خانہ تھا۔ انہوں نے مجھے از راہ بندہ پروری اجازت دی تھی کہ میں چاہوں تو وہاں سے کتاب لے سکتا ہوں۔

گیٹ کے ساتھ ہی دائیں طرف ایک کمرے میں محمد عباس صاحب رہتے تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی۔ وہ دھان پان بالکل سفید کرتے اور علی گڑھ کٹ پاجامے میں رہنے والے مرنجاں مرنج قسم کے آدمی تھے جن کا واحد مشغلہ کتب بینی تھا اور وہی ”عالمی ڈائجسٹ“ کے ناشر تھے لیکن وہ کسی معاملے میں مداخلت بالکل نہیں کرتے تھے۔ لیکن ان کی شخصیت کے کچھ پہلو بہت عجیب تھے۔

وہ کٹر دہریے تھے۔ ایلفنسٹن کی ”برٹش فروزن فوڈ کمپنی“ ( یہ اب نہیں ہے ) سے پورک لاتے تھے۔ اس کی یخنی بنا کے وہسکی اور انڈا ملاتے تھے اور ٹانک سمجھ کے کھاتے تھے۔ ایک بار انہوں نے پورک کے ٹکڑے تلے اور گھی توے پر چھوڑ دیا۔ رمضان کا مہینہ تھا۔ تقی صاحب کی بیگم نے اسی پر پراٹھے تل لیے۔ یہ بات انہوں نے خود مجھے بتائی۔ ایک بار واش روم کے لوٹے سے پینے کے پانی کا مٹکا بھر دیا اور تقی صاحب کی بیگم کو بتا دیا۔ ”بھاوج بڑی چیخی چلائی مگر میں نے کہا کہ نیک بخت پائپ تو سارے گھر میں وہی ہے اور پانی وہی ہے“ ۔ انہوں نے ایک بہت طویل عمر پائی۔ آخر میں کسی کو پہچانتے بھی نہیں تھے۔ ان کے واحد دوست اسی حلیے کے رحمان صاحب تھے جن کا ادارہ برنس روڈ پر ’ایسٹرن گرافکس‘ تھا اور عالمی ڈائجسٹ کی کتابت اور پرنٹنگ کرتا تھا۔

گیٹ کے بالکل سامنے ایک کمرہ ”عالمی ڈائجسٹ“ کا دفتر تھا جس میں قدم رکھتے ہی میں نے 1972 میں جون ایلیا اور زاہدہ حنا کو دیکھا، میز کے پیچھے زاہدہ بیٹھی تھیں، ان کے بائیں ہاتھ والی کرسی پر جون پاؤں سمیٹے مراقبے کی کیفیت میں تھے۔ جون اپنے تین بھائیوں کے ساتھ وہاں نہیں رہتے تھے۔ ان کا فلیٹ کہیں ریوالی سینما کے قریب بندر روڈ کے پیچھے تھا۔ اس وقت ان کے پاس گاڑی بھی نہیں تھی۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے سفید رنگ کی استعمال شدہ ”ہل مین منکس“ لے لی تھی۔

میں نے اپنا تعارف کرایا کہ میں کہانیاں لکھنا چاہتا ہوں اور دو کہانیاں میرے پاس ہیں۔ زاہدہ نے کہانیاں لے لیں اور مجھے لگا کہ انہوں نے دلچسپی سے پڑھی ہیں۔

کہنیوں کا مسودہ رکھ کے زاہدہ نے مجھے غور سے دیکھا ”آپ کب سے لکھ رہے ہیں؟“

میں نے بتایا کہ ”بی اے میں زمانہ طالب علمی کے دوران میرے ڈرامے اور افسانے ریڈیو پاکستان پشاور سے نشر ہوتے رہے۔ پھر تیرہ سال میں نے کچھ نہیں لکھا کیونکہ میں قلم کی بیگار کا قائل نہیں۔ بلا معاوضہ نہیں لکھتا“

اس پر جون مسکرائیے ”میاں ہم بیگار لینے والے نہیں ہیں“

زاہدہ نے کہا ”یہ اچھی کہانیاں ہیں اور آپ نے ترجمہ بھی اچھا کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ کا ادبی مطالعہ اچھا ہے۔ اور آپ پنجاب سے آئے ہیں“ ۔

اس دوسری بات پر میں حیران ہوا ”یہ آپ نے کیسے جان لیا“
زاہدہ مسکرائی ”آپ اسٹیشن اور اسکول جیسے الفاظ میں الف نہیں لگاتے۔ خیر۔ یہ کہانیاں ہم شایع کریں گے اور آپ کو 25 روپے فی صفحہ ادا کریں گے۔ آپ ہمیں مزید کہانیاں دیں“ ۔

خوشی سے میں بے حال ہو گیا۔ یہ میرے کیریر، ”عالمی ڈائجسٹ“ ، اور جون اور زاہدہ کے ساتھ طویل مستقبل تک جاری رہنے والے تعلق کی بہترین ابتدا تھی۔

اس کے بعد ہر ماہ شایع ہونے والی میری کہانیوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ ایک شمارہ ایسا بھی آیا جس میں مستقل سلسلوں کو چھوڑ کر ساری کہانیاں میری تھیں۔ اس زمانے میں طبعزاد کہانیاں نہیں ہوتی تھیں سب ترجمے ہوتے تھے۔ اگر سب کہانیوں پر مصنف کا نام ایک ہی ہوتا تو نامناسب تھا۔ اس وقت میں نے اپنی کہانیوں پر منور سلطانہ اور صبا احمد کے نام دیے۔ شاید ایک سال بعد میرا نام نسیم سحر کے ساتھ بطور مدیر خصوصی بھی شایع ہونے لگا اور انتظامی امور میں مجھ سے مشورہ لیا جانے لگا کیونکہ نسیم سحر پنڈی میں تھے۔

وہ ہاتھ سے کتابت کا دور تھا۔ رسالے کا ٹائٹل ظفر سلجوقی بناتا تھا۔ مہر شباب خوش نویس تھا اور ہم سب کے درمیان ایسا اشتراک عمل تھا کہ رسالے کی اشاعت بہتر ہوتی گئی۔ ظفر نے ایک بار جو سرورق بنایا اس پر مجھے اندیشہ ہوا کہ ہم سنسر کی زد میں آ جائیں گے۔ اس میں ایک مہ جبین کو کرسی پر بیٹھا دکھایا گیا تھا جس نے صرف قمیص پہن رکھی تھی۔ زاہدہ نے دیکھا تو وہ بھی متفکر ہوئی۔ متبادل سر ورق موجود نہیں تھا اور اشاعت کی تاریخ آ گئی تھی۔ دوسرا سرورق بنوانے کے لیے وقت بھی نہیں تھا۔ میں اور زاہدہ رات کے وقت ظفر کے گھر پہنچے اور اسے کہا کہ وہ خاتون کی بے لباس ٹانگوں پر دوپٹہ کے رنگ پھیلا دے۔ ٹائٹل کو شریفانہ بنانے میں تین گھنٹے لگے

1973 میں زاہدہ نے ایک دن مجھ سے سوال کیا: ”کبھی آپ نے کسی انگریزی ناول کی تلخیص کی ہے؟“
میں نے سوچ کے کہا ”کی تو نہیں۔ کوشش کی جا سکتی ہے“
زاہدہ نے مجھ ایک ناول دیا
THE MAN WHO MISSED THE WAR

مصنف کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے پس منظر کا ناول تھا۔ میں نے اسے پڑھا اور پھر اردو میں لکھنا شروع کر دیا۔ میں نے ایک تو نام بدل کے آسان کر دیے۔ وہ تفصیل نکال دی جو ”نامناسب“ تھی۔ یہ ایک طرح سے کہانی کو اپنی زبان میں بیان کرنا تھا۔ یہ کام ایک ہفتے میں ہو گیا زاہدہ کو یہ بہت پسند آیا اور اس نے پوچھا کہ کیا میں ایک ناول اور کر سکتا ہوں۔ میں نے وہ بھی لے لیا۔

در اصل عالمی ڈائجسٹ نے بہت پہلے سے ناول نمبر کا اعلان کر رکھا تھا جس کے لیے پانچ چھ ناول درکار تھے لیکن مطلوبہ تعداد میں ناول موصول نہیں ہوئے تھے، دوسرے ناول کی تلخیص کے بعد زاہدہ نے تیسرا تھما دیا۔ نتیجہ یہ کہ ناول نمبر شایع ہوا تو پانچ میں سے تین ناول میرے تلخیص کردہ تھے چنانچہ احمد اقبال، منور سلطانہ اور صبا احمد کے نام استعمال ہوئے۔ ایک ہی نام ہوتا تو کہنے والے کہتے ”اجی سفارشی ہے کوئی“ ۔

اس سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔ پاکستان اور بیرون ملک پڑھنے والوں نے ان ناولوں کو بہت پسند کیا۔ پہلی وجہ تو انداز بیان تھا۔ وہ ایسا منفرد ہو گیا تھا کہ کچھ لوگ تاڑ گئے کہ ”منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے“ ۔ دوسری وجہ آسان بنائی گئی کہانی۔ ان ناولوں میں طویل کہانی کا شبہ ہوتا تھا۔ ترجمے کا اثر صرف اتنا تھا کہ نام انگریزی تھے وہ بھی آسان۔ چارلس۔ شیلا۔ جارج۔ ایمی ٹائپ

یہاں سے میرے ترجمہ اور تلخیص کردہ ناولوں کی مقبولیت کا وہ دور شروع ہوا جس نے ملک اور بیرون ملک احمد اقبال کے نام کی دھاک بٹھا دی۔ دروغ بر گردن راوی۔ میں نے یہ بھی سنا کہ کسی سٹال پر نیا شمارہ خریدنے کے لیے آنے والے پہلے دیکھتے تھے کہ اس میں احمد اقبال کا ناول ہے یا نہیں۔ نہ ہو تو وہ رسالہ رکھ دیتے تھے۔ اس میں مبالغہ ہو سکتا ہے لیکن احمد اقبال کی شہرت انہی ناولوں سے بنی۔

دوبئی میں اردو رسائل کے تقسیم کار برائے مشرق وسطیٰ ایوب مرحوم تھے۔ جس زمانے میں میرے تلخیص کردہ ناولوں کی شہرت تھی وہ مجھ سے ملنے تشریف لائے اور کہا کہ آج احمد اقبال کا نام چلتا ہے۔ آپ اس سے پورا فائدہ اٹھائیں تو دولتمند ہو جائیں گے میں نے پوچھا وہ کیسے؟ فرمایا ”اپنے ناول میں ’گرم مسالہ‘ ڈال دیں۔ آپ تو الفاظ سے ہر منظر کو زندہ کر دیتے ہیں“ ۔ میں سمجھ گیا۔ میں نے کہا کہ ایوب صاحب میں ایک شاعر اور ہیڈماسٹر کا بیٹا ہوں۔ میں ادب پڑھتا رہا اور ادب ہی لکھوں گا۔ میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ صرف مردانہ ادب لکھوں جو عورت پر حرام ہو اور بچے چھپ چھپ کے پڑھیں۔

آپ میری پچاس سال سے زائد کی تحاریر دیکھ لیں۔ اس میں ایک لفظ بھی غیر ادبی یا فحش نہیں ملے گا۔

احمد اقبال
اس سیریز کے دیگر حصےمیں کون ہوں اے ہم نفسو، 10: فحاشی کے ایک عدالتی کیس میں سزا

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments