آج کل ہر طرف جعلی دانش وروں کا زور ہے : مبشر علی زیدی

سرخیاں :
لکھنے والا اپنی مٹی سے کٹ کر مٹی ہوجاتا ہے
معیشت غرق ہو چکی، اگلا الیکشن جو بھی جیتے گا، وہ سر ہی پیٹے گا
ہمارے ادیب اور شاعر ڈرے ہوئے ہیں، وہ صرف پی آر کے شوقین ہیں
معروف، متنازع اور منفرد قلم کار و صحافی، مبشر علی زیدی سے ایک گپ شپ
وہ آیا، اس نے کہانیاں سنائیں، اور سامعین کو گرویدہ بنا لیا۔
آج ہمارا موضوع ہیں ”سو لفظوں کی کہانی“ والے معروف صحافی، قلم کار اور سماجی مبصر، مبشر علی زیدی۔ ان کے مکمل تعارف کو الگ دفتر درکار، جن میں اُن تنازعات اور طوفانوں کا بھی ذکر ہو گا، جو انھوں نے سوشل میڈیا پر بپا کیے۔ فی الحال اتنا کہے دیتے ہیں کہ جو شہرت ان کے حصے میں آئی، وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوئی۔ یہ شہرت محبت بھی لائی اور مصیبت بھی۔
بہ طور فکشن نگار، جس شے نے مجھے متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ مبشر علی زیدی نے نہ صرف اخبارات میں گنے چنے الفاظ کی کہانی متعارف کروائی، بلکہ اسے رواج بھی بخشا۔ جب وہ روزنامہ جنگ میں کہانیاں لکھ رہے تھے، تو چند بڑے اخبارات نے اپنے ادارتی صفحے پر یہ سلسلہ شروع کیا۔ روزنامہ ایکسپریس میں جو ہم نے ”ون منٹ اسٹوری“ کی طرح ڈالی، وجہ اس کی بھی مبشر علی زیدی ہی تھے۔
ان کی کہانیاں یوں متعلقہ ٹھہریں کہ وہ کتابی صورت میں آئیں، بحث کا موضوع بنیں۔ اس سفر میں جہاں انھیں دوست ملے، وہیں دشمن بھی پیدا ہوئے۔ بندش بھی لگی۔ مصائب آئے، مگر اظہار کی لو دھیمی نہیں پڑی۔ ہاں، سو لفظوں کی کہانیاں کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
تو جب ان سے مکالمے کا ارادہ باندھا، تو پہلا سوال یہی تھا کہ بھائی مبشر ان دل پذیر کہانیوں کا کیا ہوا، جس کے وسیلے تم نے قارئین کو اپنا بنا لیا تھا۔ آئیں، آپ بھی اس گفت گو میں شامل ہوجائیں۔
اقبال: جناب، یہ سو لفظوں کی کہانیوں کا سلسلہ دوبارہ کب شروع ہو گا؟
مبشر زیدی: سو لفظوں کی کہانی ایک ذریعہ اظہار تھا۔ اس کا مواد مجھے معاشرے سے اور نیوز روم سے ملتا تھا۔ میں اب پاکستانی معاشرے سے دور ہوں۔ جنگ میں بندش کے بعد تسلسل سے کہانی لکھنے کو جی نہیں چاہا۔ اظہار کے دوسرے ذرائع بھی دست یاب ہیں۔ میں کبھی کبھی ایسی کہانی لکھتا ہوں، بلکہ ایک کتاب بھر کہانیاں ہو چکی ہیں۔ کسی مناسب موقع پر شائع کریں گے۔
اقبال: کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے بہت سے ادیبوں کو نگل لیا، ان کی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیا، کیا آپ اس سے متفق ہیں؟
مبشر زیدی: میں متفق نہیں۔ اگر آپ کے پاس کچھ کہنے کو ہے، تو سوشل میڈیا آپ کی بات کو زیادہ دور تک پہنچاتا ہے۔ اگر کچھ کہنے کو نہیں ہے یا اچھا نہیں ہے، تو اس میں سوشل میڈیا کا کیا قصور؟ لوگ آج بھی ناول لکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ان کا کچھ نہیں بگاڑ پایا۔
اقبال: کچھ سوشل میڈیا مفکرین، جنھیں نوجوانوں کو فالو کرنے کا مشورہ دیں گے؟
مبشر زیدی: بہت سے دانش ور سوشل میڈیا پر سرگرم نہیں۔ بعض موجود ہیں، لیکن اس کا مکمل استعمال نہیں کر رہے۔ آج کل ہر طرف جعلی دانش وروں کا زور ہے۔ میں حاشر ابن ارشاد اور سعید ابراہیم کا پرستار ہوں۔ یہ سچ کا لٹھ نہیں مارتے، بلکہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اقبال: پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ زحمت ثابت ہوا یا رحمت؟
مبشر زیدی: وطن چھوڑنے کا فیصلہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ لکھنے پڑھنے والا اپنی مٹی سے کٹ کر مٹی ہوجاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں زندگی مہنگی ہو گئی تھی۔ نام، پس منظر، پیشہ، نظریات سب جان لیوا تھے۔ یہ فیصلہ معاشی خوش حالی کے لیے نہیں تھا۔
اقبال: ادب کی سمت پلٹتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں کس شاعر کو، اس کے موضوعات متعلقہ پاتے ہیں؟
مبشر زیدی: اچھا شاعر کسی خاص صدی کا نہیں ہوتا۔ غالب ہر صدی کا شاعر ہے۔ اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں موجود ”نوجوان“ شاعروں میں کون پسند ہے، تو مجھے سلمان حیدر، مصطفی ارباب، علی اکبر ناطق اور عابی مکھنوی پسند ہیں۔ ہاں، ان کے موضوعات بھی متعلقہ ہیں۔
اقبال: کوئی فکشن نگار، جسے پڑھ کر تقلید کی خواہش پیدا ہوئِی ہو؟
مشر زیدی: فکشن نئی راہ اختیار کرنے اور نئے انداز میں اپنی بات کہنے کا نام ہے۔ تقلید سے معاملہ خراب ہوجاتا ہے۔ منٹو اور یوسفی، دونوں نے فکشن لکھا ہے، لیکن فرق آپ کے سامنے ہے۔ میں ویسے بھی بنیادی طور پر صحافی یا نان فکشن کا، آدمی ہوں۔ تقلید مذہب تک میں نہیں کی، کسی اور معاملے میں کیا کرتا۔
اقبال: ایک کتاب، جو متعدد بار پڑھی اور آج بھی پڑھنے کی خواہش ہے؟
مشر زیدی: آب گم اردو کی سب سے بڑی کتاب ہے۔ بار بار پڑھتا ہوں لیکن دل نہیں بھرتا۔ مختار مسعود کی لوح ایام، مشفق خواجہ کے کتابوں پر تبصرے، شاہد احمد دہلوی کے خاکے اور منٹو کے کئی افسانے بھی ایسے ہی ہیں۔ غالب کی غزل، انیس کے مرثیے اور افضال احمد سید کی نثری نظمیں بھی۔
اقبال: عام خیال ہے کہ آج ادیب حاشیے پر ہیں، بے معنی ہو گئے ہیں، کیا اس خیال سے متفق ہیں؟
مبشر زیدی: پاکستانی ادیب صرف پی آر کے شوقین ہیں۔ ادبی میلوں نے اس ذوق کو بڑھاوا دیا ہے۔ فن کار اگر نظریاتی اور سیاسی شعور سے عاری ہے یا اس کا اظہار کرنے سے ڈرتا ہے، تو اکہرا رہ جاتا ہے۔ پھر وہ عوام اور معاشرے کو متاثر نہیں کر سکتا۔ اگر مذہبی، سیاسی یا سماجی جبر کی وجہ سے کوئی بات آپ کالم یا انٹرویو میں نہیں کہہ سکتے تو ناول، افسانے اور نظم میں کہنی چاہیے۔ اس بات کو عوام تک پہنچانا بھی چاہیے۔ ہمارے ادیب شاعر ڈرے ہوئے ہیں یا خود کو اس کا ذمے دار نہیں سمجھتے۔ کتنے لوگ ہیں جو سلمان حیدر جیسی نظمیں کہتے ہیں؟
اقبال: ذرا سا فلمی سوال ہے۔ اگر آپ کو مسند اقتدار سونپ دی جائے، تو فروغ ادب کے لیے کیا اقدامات کرنا چاہیں گے؟
مشر زیدی: نہ میں پاکستان میں ہوں، نہ اقتدار اور اہل اقتدار سے کوئی محبت ہے۔ اگر کوئی میری بات مانے، تو تعلیمی نصاب کو اپ ڈیٹ کرنا چاہیے۔ نیا ادب اس میں شامل کرنا چاہیے۔ ادبی میلوں سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیمی اداروں میں ادیبوں شاعروں کو بلا کر تعارف کروایا جائے۔ ان کی کتابیں کم قیمت میں نئی نسل تک پہنچائی جائیں۔ امریکا کے ہر اسکول کی ہر کلاس میں کتابوں کے تین چار شیلف ہوتے ہیں۔ اسکول لائبریری الگ اور محلے کی لائبریری الگ۔ ہمارے ہاں فروغ ادب کا مطلب ادب کے نام پر سرکاری ادارے اور تن خواہ دار ملازم، پی آر مہم کے لیے اسپانسرڈ ادبی میلے اور سیاسی جماعتوں کے ہم درد ادیبوں کو سرکاری اعزازات سے نوازنا ہے۔
اقبال: تیر، بلا، یا شیر، اگلا الیکشن کون جیتے گا؟
مبشر زیدی: جسے پیا چاہے وہی سہاگن۔ پاکستان میں اقتدار اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے دیا جاتا ہے، عوام کے ووٹوں پر نہیں۔ معیشت غرق ہو چکی ہے۔ اگلا الیکشن جو بھی جیتے گا، وہ سر ہی پیٹے گا۔
سوال: چھوٹی سی عمر میں اتنے روگ لگا لیے، کتنے ہی تنازعات کا حصہ بنے۔ ٹکڑوں میں واقعات لکھنے کے بجائے آپ بیتی لکھنے کا خیال ذہن میں نہیں آیا؟
جواب: لکھنے والا جو یادداشتیں اور دوسروں کے خاکے لکھتا ہے، ان میں کہیں خود بھی موجود ہوتا ہے۔ میں سوشل میڈیا پر یادداشتیں لکھتا رہتا ہوں۔ جیو میں گزارے ہوئے وقت پر ایک کتاب کا کافی حصہ لکھ لیا ہے، جو مصروفیات کی وجہ سے ادھورا پڑا ہے۔ جون میں میری لینڈ یونیورسٹی سے دوسرا ماسٹرز مکمل ہو جائے گا تو ایک جانب سے فرصت ہوگی۔ تب اسے مکمل کروں گا، بلکہ کوشش کروں گا کہ جن دوسرے میڈیا گروپس میں کام کیا ہے، ان کا احوال بھی رقم کروں۔ بہت مزے مزے کے واقعات ہیں۔ کئی یادگار کردار ہیں، جن سے نیوز روم کے باہر کے لوگ واقف نہیں۔ مذہب، فوج، سیاست دانوں اور بعض ادیبوں صحافیوں پر تنقید کی وجہ سے جو تنازعات ہوئے، ان کا حال کیا لکھوں؟ پڑھنے والوں کو ان سے بھلا کیا دل چسپی ہوگی۔
……………………
نوٹ: یہ انٹرویو کتابی سلسلے ”بات چیت اقبال خورشید کے ساتھ“ کے لیے کیا گیا ہے۔ جلد یہ کتاب ڈیجیٹل شکل میں دست یاب ہوگی۔




