عدت، نکاح یا پلے بوائے فیم ذاتی معاملات لیکن اسلامک ٹچ قومی مسئلہ


عدت اور نکاح انتہائی ذاتی معاملات ہیں۔ ان ذاتی معاملات کے حوالے سے کسی دوسرے شہری، مذہبی رہنما، قانون یا حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ عدت پوری کی تو کب کیسے کہاں کی یا نہیں کی تو کیوں نہیں کی، یہ سب معاملات آپ کے ذاتی ہیں۔ آپ نے نکاح کیا تو کب کیسے کہاں کیا اور نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا، یہ سب معاملات بھی ذاتی ہیں۔ ان معاملات پر کسی کو سوالات اٹھانے کا کوئی حق ہی نہیں۔ ایک تمیز دار معاشرے میں ان باتوں پر سوال اٹھانے والا خود ہی شرمندہ ہو گا۔

یہ تو عمران خان اور بشری بی بی کی اپنی حماقت ہے کہ انہیں ایسی شادی کرنے کے لیے کسی مولوی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وہ دونوں کہیں بھی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر عون چودھری اور احسن جمیل گجر کو گواہ بنا کر بقائمی ہوش و حواس ایک دوسرے کو میاں بیوی کے طور پر قبول کرنے کا اقرار کرتے تو بھی شادی ہو جاتی۔ بات ختم۔

صرف عدت اور نکاح ہی نہیں پلے بوائے ہونا یا پلے گرل ہونا بھی اتنا ہی ذاتی معاملہ ہے۔ اس معاملے پر بھی کوئی سوال نہیں بنتا۔ اپنی زندگی کو اپنے خرچے پر اپنی مرضی سے گزارنے کا حق ہر انسان کو حاصل ہے۔ اس معاملے پر بھی کسی دوسرے شخص، قانون یا حکومت کو سوال اٹھانے کا کوئی حق نہیں۔ عمران خان اور بشری بی بی کے ان ذاتی معاملات پر سوال اٹھانے والے ایک نامناسب حرکت کر رہے ہیں۔ انہیں اپنے اس بد تہذیب رویے پر شرمندہ ہونا چاہیے۔

بات تو بالکل صاف اور سیدھی ہے، تو پھر یہ کنفیوژن کیا ہے؟ یہ شور کیسا ہے؟ اس شور میں جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے۔ مطلب یہ کہ کیا کوئی جائز سوال بھی ہے؟ ہاں اس شور میں کچھ سوالات جائز بھی ہیں۔

اسلامک ٹچ، دھرمی تڑکا یا سیاست میں مذہب کا بیوپار ذاتی معاملہ نہیں ہے۔ اگر آپ یہ کریں گے تو سوالات اٹھیں گے۔ آپ کی تبلیغ آپ کی ذاتی زندگی سے مختلف ہے تو سوالات بنتے ہیں۔ اسلامک ٹچ سے متعلق جو سوالات اٹھ رہے ہیں وہ جائز ہیں۔ کیونکہ آپ کی اسلامک ٹچ معاشرے کا امن خراب کر سکتی ہے اور کر رہی ہے۔ مدرسوں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں مطالعہ پاکستان کے تحت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت گنوا بیٹھنے والے نوجوانوں کو آپ گمراہ کر رہے ہیں۔ اس پر سوالات بنتے ہیں۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان، شہباز شریف یا اسحاق ڈار جس بات کی تبلیغ کرتے اس کا اطلاق اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی پر کرتے ہیں۔ سوالات بنتے ہیں کہ کیا اسحاق ڈار کے اسلامک ٹچ والے ٹویٹ ملک کا معاشی مسئلہ حل کر دیں گے؟ کیا آج کے دور میں کسی ملک کی معیشت کو ”سود سے پاک“ کیا جا سکتا ہے؟ ان دونوں سوالات کا جواب ظاہر ہے کہ نہ میں ہے۔ اس لیے صاف ظاہر ہے کہ پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اپنی خراب کارکردگی کو چھپانے کے لیے ”اسلامک ٹچ“ کا غلط سہارا لے رہے ہیں۔ اور قوم کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا رہے ہیں۔ مطلب قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

اسی طرح مسلم لیگ نون کا ووٹ کو عزت دینے کا منتر شہباز شریف کی سیاست کے ساتھ بالکل بھی لگا نہیں کھاتا۔ اگر وہ ووٹ کو عزت دینے میں سنجیدہ ہوتے تو پاکستان کے لیے آزاد خارجہ، داخلہ، دفاعی اور معاشی پالیسیاں بناتے۔ انڈیا کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرتے، پولیس کو مضبوط بناتے اور فوج کے بجٹ میں میجر کٹ لگاتے۔ ایسا کرتے تو شاید پاکستان کی معیشت کو سانس لینے کا موقع مل جاتا۔ اس لیے صاف ظاہر ہے کہ وہ ووٹ کی بجائے بوٹ کی عزت کے قائل ہیں۔ عمل اور تبلیغ میں فرق ہے اس لیے سوالات بنتے ہیں۔

عمران خان اور بشری بی بی کا عقیدہ یا ذاتی فیم اور ترجیحات کیا ہیں یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہاں وہ قومی ٹی وی پر بیٹھ کر پاکستانی قوم کو کس بات کی تبلیغ کرتے ہیں اور قومی پالیسیاں بناتے وقت کن مقاصد کا پرچار کرتے ہیں، وہ قومی معاملہ ہے اس پر سوالات اٹھانا جائز ہے۔ ان کی شدید توہم پرستی، جس کی تصدیق ان کے بہت سے قریبی ساتھی کئی بار ٹی وی پر کروڑوں لوگوں کے سامنے کر چکے ہیں، پر بھی سوال اٹھیں گے چونکہ یہ باتیں ملکی سیاست کو متاثر کرتی ہیں۔

نکاح کی تاریخ اور وظیفہ زوجیت کی ادائیگی کے وقت سے جنرل الیکشن کے نتائج کو جوڑنے سے کنفیوژن پیدا ہو گیا ہے۔ سوالات گڈ مڈ ہو گئے ہیں۔ کیونکہ اس شعر میں شاعر نے نکاح اور وظیفہ زوجیت جیسے ذاتی معاملات کو الیکشن جیسے قومی مسئلے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اسی کنفیوژن کی وجہ سے تو الیکشن اور اس جیسے دوسرے قومی مسائل پر اٹھنے والے سوالات ذاتی نوعیت کے لگتے ہیں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik