پاکستان میں مظلومیت کی سیاست: رجحانات و اثرات
وطن عزیز اس وقت بیشمار المیوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ ان بڑے المیوں میں ایک ’مظلومیت کی نفسیات‘ یا شاید مظلومیت کا لبادہ موزوں لفظ ہو سکتا ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم وتیرہ بنا لیا ہے کہ ذاتی یا قومی سطح کے تمام معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کو پیش کرنے اور حل کی طرف بڑھنے سے پہلے رونے دھونے یا مارے گئے لٹے گئے کی مشق کو تکرار کے ساتھ یقینی بنایا جائے۔ عوام سے لے کر اشرافیہ تک اس طرز فکر اور عمل کی خاصی مثالیں ہم اس کالم میں آگے چل کر دیں گے۔
بر صغیر کی سیاست میں مظلومیت کے لبادے کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی خاصا مشکل سوال ہے۔ قدیم ہندو دیو مالا رامائن کے مطابق لنکا کے یدھ میں راون نے رام کے ہاتھوں قتل ہو کر شکست کھائی۔ مگر آج تک ہندو اتہاس میں ہمیشہ راون کو ظالم اور رام کو مظلوم پینٹ کیا جاتا ہے۔ ماضی قریب میں دیکھیں تو 711 ء میں جنگ اروڑ میں راجہ داہر محمد بن قاسم کے ہاتھوں قتل ہوا اور شکست کھائی۔ تاریخ آج بھی راجہ داہر کو ظالم اور محمد بن قاسم کو مظلوم گردانتی ہے۔
1755 ء کے لگ بھگ حضرت شاہ ولی اللہ نے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کو مشہور زمانہ خط لکھا جس کے مندرجات میں دہلی پر حملے کی دعوت کے ساتھ ساتھ مرہٹوں اور ہندوؤں کے مسلمانوں سے رواء مظالم اور مسلمانوں کی غربت اور بے بسی وغیرہ شامل تھے۔ یاد رہے جس وقت یہ خط لکھا جا رہا تھا اس وقت تخت دہلی پر مغل حکمران براجمان تھے۔
1857 ء کی ناکام جنگ آزادی کے ساتھ ہی ہندوستان میں مسلمانوں کی حکمرانی کا تقریباً ایک ہزار سالہ دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ہزار سالہ حکمرانی کا مطلب شاید یہی ہو سکتا ہے کہ تمام ہندوستان کے زمینی وسائل اور مال و دولت بلا شرکت غیرے مسلمانوں یا مسلمان حکمرانوں کے تصرف میں تھے۔ اس سنہری دور کے خاتمے کے چند سال بعد سر سید احمد خان لکھتے ہیں کہ مسلمان انگلش اور سائنس سے نا آشنا ہیں اور ان کو جدید علوم سکھانے کے لیے علیحدہ سے سکول یا کالج موجود نہیں اس لیے اس طرح کے سکول قائم کرنے کی ضرورت ہے لہذا انہیں قائم کرنے کے لیے دنیا بھر میں چندہ مہمات کا آغاز ہوا۔
اسی سے ملتے جلتے کام کا آغاز انجمن حمایت اسلام نے 1884 ء میں لاہور سے کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے بہت سے تعلیمی ادارے بنائے جو ابھی تک چل رہے ہیں۔ ان میں اور سر سید احمد خاں کے تعلیمی کام میں فرق یہ ہے کہ انہوں نے کوئی عوامی چندہ مہم نہیں کی بلکہ ان اداروں کے اخراجات مسلم امراء اپنی جیب اداء کرتے۔ سماجی ترقی کی بہرحال یہ بہتر مثال تھی۔
آزادی ہر انسان اور قوم کا بنیادی حق ہوا کرتا ہے۔ اس حق کے حصول کے لیے ایک فریق کو ظالم اور دوسرے کو مظلوم ثابت کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی لیکن پاکستان کا مقدمہ ہندو ظلم اور مسلم مظلومیت کی بناء پر لڑا گیا۔
ہندو ظلم سے آزادی کے بعد ہم نے فوراً ہی سویت یونین کو ظالم کی صورت میں دیکھنا شروع کر دیا۔ پھر اسی کو بنیاد بنا کر مستقبل کی معاشی و سیاسی پالیسیاں ترتیب دی جانے لگیں اور ”برادر ملکوں“ کی اصطلاح کو شاید ہم نے ہی ایجاد کیا۔ پاکستان بننے سے پہلے ہم مظلوم تھے اس کے بعد پہلے ہم نے بنگالیوں کو مظلوم ثابت کر کے اور بعد میں افغان مہاجرین کی تصویریں دیکھا کر برادر ملکوں سے امداد، قرضے اور دیگر سہولتوں کو نا صرف حاصل کیا بلکہ کامیابی سے حصہ بقدر جثہ ہڑپ بھی کر لیا۔
بدقسمتی سے برادر ملکوں سے امداد کی درخواستوں اور وصولیوں کی مشق آج دن تک جاری ہے۔ حکمران طبقات یا اشرافیہ کی اس طرح کی طویل مشق نے پاکستانی معاشرے کو ایک خاص کلچر دے دیا ہے جس کی سادہ ترکیب کچھ اس طرح بنتی ہے۔ مظلوم، مظلوم کی بحالی، بحالی کے اخراجات بذریعہ خیرات وصولی، تھوڑا بہت خرچہ اور باقی کا مال صاف۔ امداد اور خیرات کے اس کلچر نے بالعموم پوری قوم کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھکاری یا سخی بنا دیا ہے۔
عوام اشرافیہ سے سیکھتے ہیں یہ دنیا بھر کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ پاکستانی عوام پر اشرافیہ کے اس طرح کے ذہنی رجحانات سے جو اثرات مرتب ہوئے اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
پاکستان کی تمام بڑی سیاسی پارٹیاں اپنی کارکردگی اور موقف پر بات کرنے کی بجائے ہمیشہ اپنی مظلومیت کا رونا رو کر اپنی بات کو منوانے کی کوشش کریں گی مثلاً ہمارے صوبے کے عوام غربت کا شکار ہیں، صوبائی حقوق نہیں ہیں، ہمارے وزیر اعظم کو پھانسی دے دی گئی، ہمارے وزیر اعظم کو ملک بدر کر دیا گیا، ہمارے وزیر اعظم کو سائفر کی بھینٹ چڑھا دیا گیا وغیرہ۔
پاکستان کا شاید ہی کوئی دکاندار، کاروباری یا صنعت کار ایسا ہو جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے کاروباری نقصانات کا رونا نہ روتا ہو۔ ابھی مارچ کے مہینے میں ایک دو بارشوں کے بعد ہی کسانوں اور کسانوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں نے شور برپا کر دیا کہ گندم کی فصل تباہ و برباد ہو گئی اور قحط سالی کا خطرہ ہے وغیرہ۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی فکری گروپ ایسا ہو جس نے اپنے ممبران یا عوام کی تعلیم و تربیت اور فلاح و بہبود کے نام پر اندرونی اور بیرونی دنیا سے ڈونیشن یا چندہ نہ کیا ہو۔
ہمیں وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب عبدالستار ایدھی مرحوم نے غرباء کی فلاح کے لیے ملک بھر میں باقاعدہ ”بھیک مشن“ کا آغاز کیا۔ لاہور کے ریگل چوک پر جب ایدھی صاحب اپنے مشن کی تکمیل کے لیے پہنچے تو عوام نے ان کا ایک سچے مسیحا یا ہیرو کے طور پر فقید المثال استقبال کیا اور ان کی جھولی کو نوٹوں اور سونے کے زیورات سے بھر دیا۔ ملکی میڈیا میں اس طرح کی تصویر کشی کی گئی کہ خیرات دینا اور لینا ہی انسانیت کی اعلیٰ معراج ہے۔
ہمارا اس کالم کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں اور نہ ہی کسی خاص گروپ کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ اس مظلومیت کے لبادے والے جرم میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ ذاتی، گروہی اور ملکی سطح پر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر بھیک ہی مانگی جا سکتی ہے لیکن دنیا سے آزادانہ اور پروقار تعلقات استوار نہیں کیے جا سکتے۔ ہماری اس ادنیٰ نشاندہی کا مقصد اپنی اپنی سوچ کو درست کرنا ہے اور یقین رکھیں کہ سوچ کی درستگی کے لیے کسی امداد، گرانٹ یا روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہے صرف ادراک اور احساس کی ضرورت ہے۔ جس دن ہم نے منافقت اور مظلومیت کے لبادے اتار کر ایک آزاد شہری اور ایک آزاد ملک کے طور پر سوچنا شروع کر دیا پاکستان اسی دن سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔


