تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے


فلاحی کاموں کے حوالے سے دنیا بھر اور خاص کر پاکستان میں مشہور عبدالستار ایدھی کے نام سے کون واقف نہیں۔ اس نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت میں گزاری۔ لاکھوں یتیموں کا سہارا بنے، لاکھوں مسکینوں کے کام آئے، اور لاتعداد لاوارث لاشوں کے وارث بن کر انہیں دفنایا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دن کسی نے ایدھی صاحب سے پوچھا کہ آپ نے لا تعداد لا وارث لاشوں کو دفنایا ہے کبھی کسی پر رونا آیا ہے کہ جسے آپ بھول نہیں سکتے۔

تو ایدھی صاحب نے کہا کہ جی ہاں۔ ایک دفعہ کسی بڑے عالیشان بنگلے کے سامنے ایک لاش کی اطلاع ملی۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک بڑے بنگلے کے سامنے ایک لاش پڑی ہے اس کے کپڑوں اور وضع قطع سے اندازہ لگایا کہ ایک کھاتے پیتے امیر گھرانے سے تعلق ہے۔ ابھی لاش کے پاس ہی کھڑا تھا کہ ایک بڑی لینڈ کروزر گاڑی آ کر رکی اور ایک نوجوان باہر نکلا۔ اس نوجوان نے کہا کہ ایدھی صاحب یہ لاوارث لاش نہیں بلکہ میرے پاپا ہے آپ اس کی تدفین کرے میرے پاس وقت نہیں مجھے باہر کسی ملک جانا ہے۔

ابھی وہ یہی کہہ رہا تھا کہ گاڑی میں سے ایک عورت کی آواز آئی اور اس نوجوان سے کہنے لگی کہ کیا تقریر شروع کردی ہے جلدی آؤ ہماری فلائیٹ کا وقت پورا ہونے کو ہے۔ یہ سنتے ہی وہ نوجوان فوراً واپس گیا اور گاڑی میں سوار ہو کر چلا گیا۔ یہ سب دیکھ کر مجھے رونا آیا اور میں زار و قطار رونے لگا یہاں تک کہ اس لاش کو خود غسل دیا اور میں دوران غسل بھی زار و قطار روتا رہا۔

یہ ہے ہماری تربیت یہ ہے ہماری اولادیں۔ اس میں جتنا قصور اس بیٹے کا ہے اتنا ہی قصور اس کے باپ کا بھی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم تو دیتے ہیں لیکن تربیت، اخلاقیات، دینیات کا علم انہیں دینا ضروری نہیں سمجھتے۔ ہم ان کی تربیت میں ہمیشہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری اولاد ہماری ہی دشمن بن جاتی ہے۔ وہ بڑے ہو کر بڑے عہدوں پر پہنچ کر اپنے والدین، اپنے خاندان، اپنے روایات، اپنے اخلاقی ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔

حضور ﷺ نے نیک اولاد کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے لیکن ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑ رہے ہیں۔ ہم ہر قسم کی دنیاوی تعلیم اپنے بچوں کو تو دیتے ہیں، بڑی بڑی فیسیں دے کر، بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں بھیج کر انہیں دنیاوی کامیابیوں کے لئے تو تیار کرتے ہیں لیکن کبھی بھی اس کی اخروی اور اخلاقی تعلیم و تربیت پر زور نہیں دیتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ بچے بڑے ہو کر والدین کو بوجھ، اخلاقیات کو دقیانوسی طور طریقے اور اپنے اسلاف کو پاگل سمجھتے ہیں۔

بدقسمتی سے آج کے انسان کو لاتعداد دنیاوی خواہشات، شہرت، حب مال نے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی اولاد کو ان خواہشوں کی تکمیل میں ان کی اخلاقی تربیت کو بھول جاتے ہیں۔ دنیاوی باتوں کے لئے ہمارے پاس وقت ہے پیسہ بھی ہے اور وسائل بھی لیکن کبھی بھی دینی و اخلاقی تربیت کے لئے نہ تو ہمارے پاس وقت ہے نہ وسائل۔ ہمیں اپنے بچوں کے رزلٹ کارڈ کے ایک ایک ہندسے کا تو پتا ہے لیکن یہ پتا نہیں کہ بیٹا نماز پڑھتا ہے کہ نہیں۔

سکول اور کلاس کارکردگی پر تو گہری نظر ہے لیکن اس پر نہیں کہ اس کا معاشرے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ، اپنے خاندان کے بڑوں اور چھوٹوں کے ساتھ اس کا برتاؤ اور اس کا رویہ کیسا ہے اور کیسا ہونا چاہیے۔ بچوں کی اخلاقی تربیت میں کوتاہی کا اولین نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب یہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو بجائے اس کے کہ اپنے والدین، اپنے گھر والوں کے لئے سہارا بنے وہ ان کے لئے درد سر اور پشیمانی و حسرت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔

ارشاد نبوی کے مطابق اپنے اولاد کے لئے بہترین تحفہ بہترین تعلیم و تربیت ہے۔ بس ہمیں بھی اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقی تربیت پر زور دینا چاہیے۔ بچوں کا ذہن صاف و شفاف اور خالی ہوتا ہے اس میں جو چیز بھی نقش کردی جائے وہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔ اولاد کے اچھے یا برا بننے میں والدین کی تربیت کا بڑا عمل دخل ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ بچوں کی دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے دینی و اخلاقی تربیت پر خاص دھیان دی جائے۔ بچوں کو اخلاقی تربیت دینے کا مطلب نہ صرف خود اپنے لئے بلکہ پورے ملک اور انسانیت کے لئے خیر کا باعث ہوگی۔

Facebook Comments HS